2
0
Thursday 2 Aug 2012 12:30

حلب، بیت المقدس یا یروشلم کا ہمسایہ

حلب، بیت المقدس یا یروشلم کا ہمسایہ
تحریر: سعداللہ زارعی
اسلام ٹائمز- شام مخالف اتحاد نے دمشق میں شدید شکست سے دوچار ہونے اور صدر بشار اسد کی حکومت کے خلاف بغاوت کے بری طرح ناکام ہو جانے کے بعد دمشق کے بعد شام کے سب سے زیادہ اہم اور آبادی والے شہر "حلب" پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور چاہتا ہے کہ اس صوبے پر اپنا قبضہ جما کر گذشتہ ناکامیوں کا جبران کر سکے۔
18 جولائی کو شام کے قومی سلامتی کونسل کے مرکز میں دہشت گردانہ بم دھماکے اور اسکے ہمزمان تقریبا 20 ہزار مسلح دہشت گرد افراد کا دارالحکومت دمشق پر دھاوا بول دینے کے دو ہفتے بعد شائع ہونے والی موثق خبروں نے امریکہ، اسرائیل، فرانس، برطانیہ، سعودی عرب، قطر، ترکی، القاعدہ اور مسلح گروپس پر مشتمل شام مخالف اتحاد کے عزائم اور انکے اھداف و مقاصد کے بارے میں پائے جانے والے تمام شکوک و شبہات دور کر دیئے ہیں۔
ایک انتہائی جامع اور منظم منصوبے کے تحت طے کیا گیا تھا کہ شام کی حکومت کو رمضان المبارک سے قبل سرنگون کر دیا جائے گا اور امریکہ اور اسرائیل کی پٹھو نئی حکومت کو "آسمانی تحفے" کے طور پر شام کے عوام پر تھونپ دیا جائے گا۔ دمشق میں ہزاروں کی تعداد میں ہلکے اور بھاری اسلحے سے لیس دہشت گردوں کا حملہ جن کے پاس حتی انٹی ایئر کرافٹ گنیں بھی موجود تھیں شام کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے کی غرض سے انجام پایا تھا۔ شام کی قومی سلامتی کونسل کی میٹنگ جس میں توقع کی جا رہی تھی کہ صدر بشار اسد سمیت ملک کی تمام اعلی سطحی شخصیات شرکت کریں گی کو خودکش بم دھماکے کا نشانہ بنانے کا مقصد بھی ملک کے سیاسی نظام کا خاتمہ اور فوجی اور سکیورٹی شخصیات کو قتل کرنا تھا۔
مذکورہ بالا سات ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیز کی مشترکہ میٹنگ میں انجام پانی والی گفتگو اور اقدامات کی روشنی میں، جنکا ایک چھوٹا سا حصہ رویٹرز نیوز ایجنسی کی طرف سے فاش ہوا جسکی وجہ سے برطانوی حکومت کی جانب سے رویٹرز کے سربراہ کی شدید سرزنش بھی کی گئی، یہ منصوبہ ایسا جامع پلان تھا جسکی کامیابی میں انہیں ذرہ بھر شک و تردید نہیں تھی۔ لیکن وہ معجزہ جسکی یہ ممالک توقع کر رہے تھے نہ صرف انجام نہ پایا بلکہ بشار حکومت کے خلاف اٹھنے والی بغاوت بری طرح ناکام ہو گئی اور آبزرور کے بقول کام الٹا ہو گیا۔
اس دہشت گردانہ بغاوت میں صدر بشار اسد کی حکومت نے اپنے انتہائی تجربہ کار چار یا چھ اعلی سطحی فوجی اور سکیورٹی افسران گنوا دیئے لیکن بہت تیزی سے انکی جگہ نئے عہدیدار منصوب کر دیئے اور دہشت گرد افراد کو قلع قمع کرنے کیلئے تازہ دم فوج کو میدان میں بھیج دیا۔ شامی فوج نے فورا دمشق کے ان 9 علاقوں کو اپنے محاصرے میں لے لیا جہاں دہشت گرد افراد گھس آئے تھے اور 48 گھنٹے کے اندر اندر ہی ہزاروں دہشت گرد افراد کا صفایا کر دیا اور 100 گھنٹے کے اندر اندر دمشق اور اس سے ملحقہ باغات اور محلوں کا کلین اپ آپریشن مکمل کر لیا گیا۔ اس طرح سے "دمشق کا آتش فشان" نامی بڑا دہشت گردانہ منصوبہ شامی فوج کے آہنی ہاتھ نے ناکام بنا دیا۔
دمشق میں شام مخالف دہشت گردانہ اتحاد کی اس سنگین شکست کے چار دن بعد ہی حلب کا مسئلہ شروع ہو گیا۔ شام کا شہر حلب 27 لاکھ آبادی کے ساتھ دمشق، جسکی آبادی 35 لاکھ ہے، کے بعد آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا شہر سمجھا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ حلب دمشق کے بعد حکومت کا سب سے زیادہ اہم گڑھ بھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ایسا صوبہ ہے جہاں حکومت کے حامیوں کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے۔
امریکہ کی سربراہی میں شام مخالف دہشت گردانہ اتحاد خیال کرتا ہے کہ شام سے حلب جیسے تجارتی دارالحکومت کی جدائی حکومت پر کاری ضرب ثابت ہو سکتی ہے۔ حلب جغرافیائی اعتبار سے مشرق کی جانب صوبہ رقہ، مغرب کی جانب صوبہ ادلب اور جنوب کی جانب صوبہ حماہ سے ملتا ہے۔ دوسری طرف ادلب، حماہ اور حمص کے صوبے ایسے صوبے ہیں جہاں دہشت گرد گروہ سب سے زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔
حلب ترکی کی سرحد پر واقع شام کا پرامن صوبہ ہے۔ شام کے تین صوبے حسکہ، حلب اور ادلب ترکی کی سرحد پر واقع ہیں۔ صوبہ حسکہ پر کردوں کا قبضہ ہے اور صوبہ ادلب کا سرحدی علاقہ بھی انتہائی کم ہے۔ لہذا شام کے اندر نفوذ کرنے کیلئے ترکی، اسکے بین الاقوامی آقاوں اور علاقائی اتحادیوں کی آخری امید صوبہ حلب ہی ہے جسکا سرحدی علاقہ 150 سے 200 کلومیٹر
لمبائی تک پھیلا ہوا ہے۔
شام مخالف اتحاد کا اگلا منصوبہ حلب پر قبضہ کرنا ہے تاکہ اس طریقے سے ترکی سے لے کر اردن تک شام کے تمام سرحدی علاقے یعنی حلب، ادلب، حما اور حمص کے صوبے دمشق کے کنٹرول سے خارج کر دیئے جائیں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو شام چار ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ مشرقی حصہ دیرالزور، حسکہ اور رقہ صوبوں پر مشتمل، وسطی حصہ حلب، ادلب، حما اور حمص صوبوں پر مشتمل، مغربی حصہ لاذقیہ اور طرطوس صوبوں پر مشتمل اور جنوبی حصہ دمشق، درعا، سویدا اور قنیطرہ صوبوں پر مشتمل ہو گا۔ اسکا نتیجہ شام نامی ملک کے خاتمے کے مترادف ہو گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حلب میں دہشت گرد عناصر داخل ہونے سے ایک دن قبل ہی جرمنی کے وزیرخارجہ وسٹرولے نے یورپی ممالک اور یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کتھرائن اشٹون کو اپنے ایک خط میں شام کے بارے میں امریکہ، برطانیہ، اسرائیل وغیرہ کے مشترکہ منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا:
"اسد حکومت اس پوزیشن میں نہیں کہ صورتحال پر اپنا مکمل کنٹرول قائم رکھ سکے، ایسی صورت میں دمشق منصوبے کی ناکامی کے بعد کوئی دوسرا راہ حل تلاش کرنا ضروری ہے"۔
دمشق کے خلاف آتش فشان آپریشن کی ناکامی کے ساتھ ہی ترکی نے شام کے ساتھ اپنی سرحد کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر فوج تعینات کر دی ہے۔ اسی طرح ترکی نے شام کی سرحد کے ساتھ اپنے دو صوبوں ہاٹائی اور اسکندریہ میں کئی نئے فوجی اڈے بھی بنا دیئے ہیں اور سرحد کے ساتھ انٹی ایئر کرافٹس بھی نصب کر دی ہیں۔ ترکی کی جانب سے یہ اقدامات انتہائی عجیب اور اسکی طاقت سے بھی باہر خاص طور پر وزیراعظم اردگان کی حکومت کے بس سے باہر ہیں۔ ترکی کے ان اقدامات سے دو اہم نکات واضح ہو جاتے ہیں، اول یہ کہ ان اقدامات پر مبنی فیصلہ صرف ترکی کا ہی نہیں بلکہ تمام مذکورہ بالا ممالک کی رائے اس میں شامل ہے۔ اسی وجہ سے ترکی کی سعادت پارٹی کے سربراہ نے انتہائی دوستانہ انداز میں وزیراعظم اردگان کو خبردار کیا ہے کہ ان ممالک پر حد سے زیادہ بھروسہ نہ کرے۔ دوسرا یہ کہ ترکی کی حکومت نے غلط طور پر ان ممالک کے منصوبے کی کامیابی کو حتمی اور یقینی تصور کر رکھا ہے۔ لہذا ترک وزیرخارجہ داود اوغلو نے تین دن قبل ترکی کے چینل 24 سے گفتگو کے دوران شام کے خلاف منصوبے پر اندرونی اعتراضات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شام اور اسکے بعد عرب خطے پر ترکی کے قبضے پر مبنی تاریخی ہدف کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
"انقرہ نے ایسی دیواریں گرانے کا پکا ارادہ کر رکھا ہے جو خطے کی اقوام اور ترکی کے درمیان تعمیر کی گئی ہیں، اگر ہم دنیا میں کوئی تبدیلی ایجاد کرنے کے درپے نہ ہوں تو پھر ہمارے سیاستدان اور ہماری خارجہ سیاست بے معنا ہو کر رہ جائے گی"۔
موجودہ حالات اور شام کے خلاف ہونے والی مختلف سازشوں کے ناکام ہونے کے پیش نظر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حلب میں دہشت گردانہ اقدامات شام مخالف اتحاد کا "آخری اہم آپریشن" ہے اور اس آپریشن کے ناکام ہونے کی صورت میں جسکی ناکامی کے آثار ابھی سے نظر آ رہے ہیں، فوجی اقدامات کے ذریعے شام میں حکومت کی سرنگونی کی مغرب کی آخری امیدوں پر بھی پانی پھر جائے گا۔ لہذا بعضی مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ شام مخالف منصوبے اپنی آخری راونڈ سے گزر رہے ہیں۔
اس وقت ترکی نے حلب کے ساتھ اپنی سرحد میں ریڈ الرٹ کر رکھا ہے اور اپنے وزیرخارجہ کے بقول اسکی ذمہ داری بھی رسمی طور پر قبول کی ہے۔ حلب کے بارے میں شام مخالف اتحاد کے منصوبے کا مقصد اس شہر پر نسبی قبضہ کرنے کے اور شامی فوج کو عقب نشینی پر مجبور کرنے کے بعد اسکی فضا کو نو فلائی زون قرار دینا ہے تاکہ دہشت گرد گروہوں کو مستقبل کے دہشت گردانہ اقدامات میں فضائی اور زمینی سپورٹ فراہم کی جا سکے۔
اس خطے میں نو فلائی زون کا اعلان اگرچہ غیرقانونی ہے اور کوئی بھی ملک یا مختلف ممالک کا مجموعہ کسی دوسرے ملک کی فضا کو نو فلائی زون قرار نہیں دے سکتا کیونکہ یہ اقدام اس ملک کی حاکمیت اور استقلال ارضی کے منافی سمجھا جاتا ہے اور قانونی طور پر بھی اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے منظوری اور آرٹیکل 7 کے ذیل میں قرار پانے کا محتاج ہے لیکن جیسا کہ امریکی وزیرخارجہ نے 19 جولائی کو سکیورٹی کونسل کے اجلاس کی ناکامی کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ اب
قانون سے بالاتر ہو کر اقدام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ترکی یا کسی اور ملک کی جانب سے کسی قسم کا بھی غیرقانونی اقدام انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اسکو رسمی طور پر شام کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔ حلب میں شام کے کسی بھی طیارے پر فائرنگ ایک ایسی جنگ کے آغاز کا باعث بن سکتی ہے جسکے نتائج اور وسعت کی ہر گز پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی۔
ترکی یا کسی اور شام مخالف ملک کو ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے کچھ چیزوں کے بارے میں مطمئن ہونا پڑے گا۔ مثال کے طور پر اس بارے میں کہ شام اپنے طیاروں پر فائرنگ کے ردعمل میں کوئی جوابی کاروائی نہیں کرے گا، یا طرطوس میں روس نیوی کے اڈے پر موجود جنگی طیارے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کریں گے، یا ایران میدان میں نہیں کودے گا اور یا یہ کہ حزب اللہ لبنان کوئی انتقامی کاروائی انجام نہیں دے گی۔
واضح سی بات ہے کہ اولا شام یقینی طور پر بغیر کسی تاخیر کے جوابی کاروائی کرے گا جیسا کہ تقریبا ایک ماہ قبل جب ترکی کے جنگی ہوائی جہاز شام کی ساحلی پٹی سے اسکی سرزمین میں داخل ہوئے تو شام کی جانب سے شدید ردعمل سے مواجہ ہوئے اور ترکی کا ایک جنگی ہوائی جہاز سرنگون ہو گیا جبکہ دوسرا فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس قسم کا ردعمل مکمل طور پر قدرتی اور قانونی ہے۔ روس کے صدر پیوٹن نے اعلان کیا ہے کہ وہ دمشق کے خلاف ہر قسم کی بیرونی جارحیت پر جوابی کاروائی کریں گے۔
چند دن پہلے ایران کے وزیرخارجہ نے بھی انتہائی واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ شام کے خلاف ہر قسم کے خطرے کو ایران کے خلاف خطرہ تصور کیا جائے گا اور ایران اس پر اپنا فوری ردعمل دکھائے گا۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ بیرونی جارحیت کی صورت میں حزب اللہ اپنی تمامتر توانائیوں کے ساتھ شامی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی۔
لہذا واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ حلب میں شام مخالف اتحاد کے اقدامات انتہائی خطرناک ہیں جو ایک نئی عالمی جنگ کے شروع ہونے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اگر شام کے مسئلے میں بین الاقوامی سطح پر ایک نظر دوڑائی جائے تو ہم دو فرنٹس کو دیکھیں گے جو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے ہیں۔ پہلا فرنٹ امریکی سرکردگی میں مغربی ممالک کا ہے جنہوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ پیرس کے تازہ ترین اجلاس میں کیا۔ جبکہ دوسرا فرنٹ روس اور ایران کی سربراہی میں ایشین ممالک کا ہے جسکی صلاحیتیں مغربی فرنٹ سے ہر گز کم نہیں بلکہ اسکی قانونی حیثیت مغربی فرنٹ سے کہیں زیادہ بہتر ہے اور براعظم امریکہ، یورپ، افریقہ اور ایشیا میں تقریبا 100 ممالک اسکے حامی نظر آتے ہیں۔
یہاں پر ایک انتہائی اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک ایک ایسی بڑی جنگ شروع کرنے کیلئے آمادگی رکھتے ہیں جسکے تباہ کن نتائج اور ایسے ہی دسیوں مسائل کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا؟
ایشین فرنٹ کا موقف واضح ہے۔ انکا موقف دفاعی ہے اور ہر قسم کی جارحیت کے مقابلے میں انکا ردعمل ایسا موضوع ہے جسکے بارے میں کوئی سوال یا چون و چرا موجود نہیں۔ جب ایک فرنٹ کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے اور اسکے پاس صرف ایک راستہ بچ جاتا ہے اور وہ یہ کہ اپنی تمامتر توانائیوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حداکثر مزاحمت انجام دے تو وہ ایسا کر گزرتا ہے۔
روس اور ایران کی سربراہی میں ایشین ممالک کا فرنٹ اپنا دفاع کرنے کی مکمل اور بھرپور صلاحیت اور توانائی کا حامل ہے اور اپنی اور ترکی کے اندر اپنی حامی قوتوں کی توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے صرف چند دن کے اندر ہی انقرہ کی حکومت کو سرنگون کرنے کی بھی بھرپور طاقت رکھتا ہے۔ اس فرنٹ میں یہ طاقت بھی موجود ہے کہ آگ کے شعلوں کا رخ سعودی عرب کی کرپٹ اور پٹھو حکومت کی جانب پھیر دے اور حزب اللہ لبنان اور دوسری حامی قوتوں کی مدد سے اسرائیل کے وجود کو انتہائی سنگین خطرات سے دوچار کر دے۔
یہ وہ حقائق ہیں جنکے بارے میں شام مخالف دہشت گرد اتحاد کو ہر قدم اٹھانے سے پہلے اچھی طرح سوچ لینا چاہئے اور ایسا نظر آتا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں تھوڑا بہت سوچ رکھا ہے لہذا اگرچہ ایک نئی جنگ کے آغاز کی نشانیاں نظر آ رہی ہیں لیکن شام مخالف دہشت گرد اتحاد کی جانب سے یہ جنگ شروع کرنے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
خبر کا کوڈ : 183726
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

United Kingdom
EXTREMELY NICE ARTICLE
United States
Very nice article on the Syrian crisis.
منتخب