0
Monday 13 May 2013 21:30

شیر اور شکاری کا امتحان

شیر اور شکاری کا امتحان
تحریر: سید قمر رضوی

خدا خدا کرکے 11 مئی بھی گزر ہی گیا۔ اس دن کا انتظار شاید پانچ سال قبل ہی شروع ہو گیا تھا کہ ہم بنیادی طور پر جلد باز، جلد جذبات میں آجانے والے، بے صبرے اور فوری نتائج کا متمنی ہجوم ہیں۔ شاید اسی لئے ہم پر حکمران بھی ایسے ہی مسلط ہوتے ہیں جو بلند و بانگ دعووں کے تاج محل جیسےحسین و شاداب سبز باغ تعمیر کر دیتے ہیں اور انکو حاصل کرنے کا لالچ دے کر پھر ہمارے صبر کا امتحان لیا جاتا ہے۔ ان تاج محلات کی تعمیر کے لئے اینٹ، گارا، سنگِ مرمر، شییشہ و رنگ ہمارے سروں سے چھت، بدن سے لباس اور منہ سے نوالہ چھین کر میسر کیا جاتا ہے۔ سنتے آئے ہیں کہ 65 سالوں سے حکمران اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں۔ ایک خاصا طویل عرصہ تو ہم نے بھی اپنے ایماندار حکمرانوں کا طرزِ حکومت دیکھا ہے جسکی بہترین مثال گذشتہ دورِ حکومت ہے۔ ہُن کی ایک گنگا بہہ رہی تھی جس میں جسکا جتنا بس چلا اتنا اپنے آپکو پوِتر کر لیا۔ کسی نے خالی ہاتھ ہی دھوئے اور کوئی اشنان پہ اشنان کرتا رہا۔ یعنی مراعات یافتہ طبقے کی مراعات آسمان کو چھوتی رہیں اور ترسے ہوئے طبقے کو پیروں سے نہیں، ٹریکٹر تلے کچلا گیا۔ اگر ہمارے حکمرانوں کے بس میں ہو تو یقیناً سانس لینے پر بھی ٹیکس ہو اور جس میں یہ ٹیکس دینے کی سکت نہ ہو، اس کے سانس لینے پر بھی پابندی عائد کردی جائے۔ 

یہ کہنا بھی شاید غلط نہ ہوکہ واقعی پچھلے دورِ حکومت میں سانس لینے پر بھی پابندی عائد تھی کیونکہ ملک کے کوچے کوچے میں بیروزگاری، دہشت گردی، خوف، بھوک، بین الاقوامی ذلت، غربت، لوڈشیڈنگ اور آبادی میں بے سروپا ہوشربا اضافے کی گھٹن کا راج تھا اور حکمران پروٹوکول کے دریا کے اس پار حکومت اور طاقت کے نشے میں سوتے رہے۔ ایسے میں بےصبرا ہونا اور ظلم کے نظام کے خلاف آواز اٹھانا ایک فطری عمل ہے۔ اسی لئے پچھلے دورِ حکومت کے آغاز سے ہی عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ سلام ہے جمہوریت نامی اس انتقام کی شدت پر جو اس ملک کے غریب عوام سے پانچ سال تک لیا جاتا رہا۔ جمہوریت کے اس تسلسل کی حفاظت پر فوج، عدلیہ، اپوزیشن اور میڈیا بھی اپنا اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ اسی جمہوریت کی قیمت ادا کرنے میں ہزاروں لوگ اپنی جانوں اور عزتوں سے ہاتھ دھوتے رہے اور بالآخر ایک جمہوری حکومت نے اپنا دورِ اقتدار مکمل کر ہی لیا۔ 

ملک میں چناؤ کا عمل ہو چکا ہے۔ جیتنے والے حسبِ معمول ناچ گانے اور مٹھائیاں بانٹنے میں مصروف ہیں اور ہارنے والے دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔۔ کچھ دن بعد یہ سب بھی ٹھنڈا پڑ جائیگا۔ چناؤ کا عمل صاف شفاف تھا یا نہیں، یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔ لیکن یہ بات انتہائی صاف، شفاف اور واضح ہے کہ آنے والی حکومت کے لئے یہ تخت اصلاً کانٹوں کی ایک سیج ثابت ہو گا کیونکہ ملک اس وقت اندرونی اور بیرونی ہر دو طرح سے شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اٹھارہ کروڑ عوام بنیادی انسانی ضروریات کے لئے ترس رہے ہیں۔ جن میں پینے کا صاف پانی، کھانے کو فقط ایک روٹی، صحت، ٹرانسپورٹ اور امن و امان کلیدی حیثیت میں ہیں۔ سرحدوں کی حفاظت پر مامور فوج سے تین گنا تعداد اور استعداد میں زیادہ ملک دشمن دہشت گرد سرحدوں کے اندر دندناتے پھر رہے ہیں اور حسبِ منشا جس قسم کی کارروائی کرنا چاہیں، آزاد ہیں۔ بجلی اور گیس کی شدید قلت کے باعث صنعت کا پہیہ جام ہے اور کھیتی خشک ہونے کو ہے۔ معیشت کا حال یہ ہے کہ کوئی حال ہی نہیں۔ کرپشن یعنی حرام خوری دنیا میں پاکستان کی پہچان بن چکی ہے، جہاں چند سکوں کے عوض سب کچھ ہی ہو سکتا ہے۔ اور یہ یہاں کی اتنی مرغوب غذا ہے کہ ویسے تو سب اسے اپنا حق سمجھتے ہیں، لیکن ایک وزیر تمام دنیا کے سامنے اس پر اپنا حق جتاتا تھا۔

تھانوں اور عدالتوں سے تو لوگوں کو انصاف کیا ہی ملنا ہے، یہاں سب خود ہی منصف بن چکے ہیں۔ اپنے جرگے، اپنی جرح، اپنے فیصلے اور اپنی سزائیں۔ اس مظہر کی ایک عملی مثال کا مظاہرہ روزانہ کی بنیاد پر سڑکوں پر ہی دیکھنے کو مل جاتا ہے جب دو اناڑی اور ڈگری یافتہ جاہل گاڑیاں ٹکرا بیٹھتے ہیں تو وہیں سڑک پر عدالت لگتی ہے۔ عدالتی کارروائی دیکھنے والے تماش بین سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہو جاتے ہیں اور مدعی، وکیل، گواہ، جج اور پولیس کا کردار ادا کرنے والے ڈرائیور خود ہی گالیوں اور گھونسوں پر مشتمل سزا ایک دوسرے کو دے دیتے ہیں۔ جہاں گالیوں اور گھونسوں سے بھی انصاف نہیں ملتا، وہاں گولیاں چلانا بھی اب ایک معمولی عمل بنتا جا رہا ہے۔ گولی چلانے کے نتائج ویسے تو بہت بھیانک ہوتے ہیں لیکن موجودہ پاکستان (جو کہ قطعاً جناح کا پاکستان نہیں ہے) میں جناح کی تصویر میں بہت طاقت ہے۔ یہ طاقت کسی بھی قسم کے نتیجے پر غالب آ سکتی ہے۔ 

مجھے نہیں معلوم، لیکن سنا ہے کہ پرسوں بھی بندوق اور نوٹ کی طاقت، ووٹ کی طاقت پر غالب آ گئی۔ خیر جو ہونا تھا، سو ہو گیا۔ یہی انتخابی نتائج اب ہر اس شخص کا اصل امتحان ہیں، جو الیکشن کا امتحان پاس کرکے ایوان تک پہنچے گا۔ یہ خوش نہیں، پرشان ہونے کا وقت ہے۔ کیونکہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ اب وہ وقت نہیں رہا کہ جب اس ملک کے عوام الیکشن کے عمل سے دور رہا کرتے تھے۔ یہ عوام کے سیاسی شعور کی پہلی منزل تھی جسے انہوں نے بخوبی طے کیا۔ اگلے چناؤ تک یہ شعور بھی بڑھ چکا ہوگا اور نئی تعلیم یافتہ نسل کا ایک اور ریلا اٹھارہ برس کی عمر تک پہنچ چکا ہو گا۔ آنے والی حکومت نے اگر عوامی مسائل کے حل کے علاوہ کچھ اور سوچا تو پچھلے حکمرانوں کی مانند منہ چھپانے کو بھی جگہ نہ ملے گی۔ پرسوں تک دو نعرے زبان زدِ عام تھے۔ "دیکھو دیکھو کون آیا ----- شیر آیا شیر آیا" اور "دیکھو دیکھو کون آیا ----- شیر کا شکاری آیا"۔ لیکن آج صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔ اب حکومت کا شیر اور شکاری مذکورہ بالا ملکی مسائل کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ اگر تو یہ اس پسی ہوئی عوام کو اس دلدل سے نکال کر اسکا وقار بحال کرنے اور نوٹ اور بندوق کی طاقت عوام کو واپس کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو سو بسم اللہ۔ نہیں تو ٹارزن کے آنے میں دیر نہیں لگتی۔
خبر کا کوڈ : 263540
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
متعلقہ خبر