0
Sunday 29 Aug 2010 16:04

امریکہ کے خلاف روسی وزارت خارجہ کے بیان پر ایک نظر

امریکہ کے خلاف روسی وزارت خارجہ کے بیان پر ایک نظر
روس کی وزارت خارجہ نے 4 اگست کو چند صفحات پر مشتمل ایک بیانیہ صادر کیا تھا جو اسکی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے جس میں امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے کچھ موارد کا ذکر کیا گیا تھا اور امریکہ کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس بیانیہ کی اہمیت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک گذشتہ ایک سال کے دوران مسلسل مذاکرات کے ذریعے اس کوشش میں مصروف رہے ہیں کہ بین الاقوامی ایشوز پر اپنے اندر پائے جانے والے اختلافات کو حل کریں۔ انہیں اس ضمن میں کچھ حد تک کامیابی بھی نصیب ہوئی ہے لیکن گذشتہ ایک ماہ سے دونوں ممالک کی وزارت خارجہ کی طرف سے ایکدوسرے کے خلاف بیان صادر کرنے کا سلسلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دونوں طرف سے ان بیانوں میں ایکدوسرے پر مختلف معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ انہیں میں سے ایک الزام کیمیکل ہتھیاروں کے کنٹرول اور انہیں کم کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بیان ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ اور روس کے درمیان خوشگوار تعلقات کی امید کے باوجود اب تک ان دونوں ممالک کے درمیان ایسے بہت زیادہ اختلافات اور مسائل پائے جاتے ہیں جو حل ہونا باقی ہیں۔ یہ اختلافات کسی وقت بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان اختلافات کی اصلی وجہ امریکہ اور روس کی جانب سے اپنے اپنے اسٹریٹجک مسائل کو زیادہ اہمیت دینا، زیادہ طلبی اور متضاد مفادات ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایک ماہ کی مختصر مدت میں دونوں ممالک کی جانب سے ایکدوسرے کے خلاف 6 بیانیہ صادر ہو چکے ہیں جن میں سے سب سے زیادہ شدت روس کی جانب سے صادر ہونے والے 4 اگست کے بیانیہ میں پائی جاتی ہے۔ اس بیانیہ میں انتہائی اہم موضوعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس سے امریکی پالیسیوں کے بارے میں روس کی سخت پریشانی ظاہر ہوتی ہے۔
ایک اہم مسئلہ جس کی جانب اس بیانیہ میں اشارہ کیا گیا ہے وہ امریکہ کی جانب سے اسٹریٹجک ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے "اسٹارٹ ون" کی خلاف ورزی ہے۔ یہ الزام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک نے حال ہی میں ایٹمی ہتھیاروں می کمی کے نئے معاہدے پر دستخط کئے ہیں اور اگلے ایک ماہ تک امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی میں اس پر ووٹنگ بھی ہونے والی ہے۔ اگرچہ نئے اسٹارٹ معاہدے کے تحت امریکہ اور روس اپنے اسٹریٹجک ایٹمی ہتھیاروں میں بڑی حد تک کمی کرنے کے پابند ہو جائیں گے لیکن امریکی سینٹ میں 67 ووٹ حاصل کر کے اس معاہدے کی منظوری مشکل نظر آتی ہے۔
روس کی ڈوما کے بین الاقوامی کمیٹی کے سربراہ جناب کنسٹنٹائن کساچوف نے بھی کہا ہے کہ روس اسمبلی میں بھی اس معاہدے پر بہت زیادہ اختلافات پائے جاتے ہیں اور اسکی منظوری صرف اس صورت میں ممکن ہو گی جب ارکان اسمبلی اس بابت مطمئن ہوں گے کہ یہ معاہدہ روس کے قومی مفادات کے حق میں ہے۔
بیانیہ میں ذکر ایک اور اہم موضوع امریکہ کے بارے میں خفیہ معلومات پر مبنی ہے جنکا اس بیانیہ میں آنا ظاہر کرتا ہے کہ کس حد تک روس کے جاسوسوں کو امریکہ کے حساس مقامات تک رسائی حاصل ہے۔ یہ معلومات ایک خفیہ امریکی ایٹمی لیبارٹری "لاس آلاموس" کے بارے میں ہیں۔ بیانیہ میں کہا گیا ہے کہ 2006 میں اس لیبارٹری کے بارے میں اہم معلومات ڈرگ مافیا کے ہاتھ لگ چکی ہیں۔ یہ خبر روس کی طرف سے ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ روس پر جوہری تنصیبات کی ناقص سیکورٹی کا الزام عائد کرتا ہے۔ دوسری طرف روسی حکام افغانستان سے ڈرگز کی روس کی طرف منتقلی کو خفیہ امریکی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
اس بیانیہ میں امریکہ پر جو ایک اور تنقید کی گئی ہے وہ مصر، اسرائیل، کویت، عمان، متحدہ عرب امارات اور تائیوان جیسے ممالک کو امریکہ کی جانب سے میزائل ٹیکنولوجی اور اس سے مربوطہ ٹیکنیکل انفارمیشن فروخت کرنے کے بارے میں ہے جبکہ روسی کمپنیوں پر شام اور ایران کو یہی ٹیکنولوجی فروخت کرنے کے الزام میں پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ بیانیہ میں کہا گیا ہے کہ میزائل شیلڈ پروگرام Arrow 2 اور تین منزلہ میزائل Shavit کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعاون بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ اس تنقید سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس اسرائیل کی جانب سے میزائل ٹیکنولوجی میں ترقی کو ایک خطرہ محسوس کرتا ہے۔
ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کے معاہدے کے بارے میں ایک اہم نکتہ امریکی سینٹ میں اسکی منظوری کا طولانی ہونا ہے اور پرانے اسٹارٹ معاہدے کا وقت ختم ہونے کے باعث امریکی حکام روس کی جوہری تنصیبات، اڈوں اور ہتھیاروں کا دورہ بھی نہیں کر سکتے۔ یہ مسئلہ 15 سال کے دوران پہلی بار پیش آیا ہے۔ اسٹارٹ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے حکام کو یہ اجازت حاصل تھی کہ چند ہفتوں میں ایک بار ایکدوسرے کی جوہری تنصیبات، اڈوں اور ہتھیاروں کا دورہ کر سکیں۔
روس کی وزارت خارجہ کی طرف سے صادر ہونے والے اس بیانیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو F35 جنگی طیارے اور جدید میزائل اور بمب مہیا کرنا مشرق وسطی میں مسائل جنم لینے کا باعث بنا ہے اور نیز یورپین سیکورٹی آرگنائزیشن کی اسلحہ کو کنٹرول کرنے اور انکی خرید و فروخت کے قوانین کے خلاف ہے۔ اس تنقید سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس کی نظر میں اسرائیلی حکومت ایک خطرناک رژیم ہے جس نے خطے میں مسائل کو جنم دے رکھا ہے اور اسے خطرناک اسلحہ فراہم نہیں کرنا چاہئے۔ اسی طرح اسکی فوجی طاقت میں اضافہ خطے میں توازن بگڑنے کا باعث بن سکتا ہے۔
روس اور مغربی ممالک کے درمیان کنونشنل آرمڈ فورسز کے معاہدے کا دوبارہ مطرح ہونا جس کو روس نے نیٹو کے مشرقی یورپ کی طرف پھیلاو پر اعتراض کے طور پر ختم کر دیا تھا اور اب دو سال بعد دوبارہ اسکی طرف مائل ہو رہا ہے امریکہ کی طرف سے روس کو لاحق پریشانی کو ظاہر کرتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ روس امریکہ کے ساتھ تعلقات میں توسیع کی کوششوں کے باوجود اپنے سیکورٹی خطرات کو نہیں بھولا۔
امریکہ پر یہ الزام کہ اسکی بایولوجیکل لیبارٹریز کی سیکورٹی کا نظام کمزور ہونے کی وجہ سے کئی بار خطرناک قسم کے وائرس وہاں سے نکل چکے ہیں اور دنیا میں خطرناک بیماریوں کے پھیلنے میں امریکہ کا ہاتھ ہے اس بیانیہ کے اہم نکات میں سے ایک ہے۔
ان تمام موارد کے پیش نظر توقع کی جاتی ہے کہ روس امریکہ کی فریبکارانہ پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے سنجیدگی سے عمل کرے گا۔ پولینڈ میں امریکی میزائل شیلڈ کے نزدیک واقع مغربی روس کی ریاست کلینی گراڈ میں سکندر میزائلوں کا نصب کرنا، جارجیا کی خودمختار ریاست آبخازیا میں ایس 300 میزائلوں کا نصب کرنا، آرمینیا میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ، آذربائیجان میں ریڈار اسٹیشن کا قیام اور تاجکستان میں فوجی موجودگی کیلئے مذاکرات وہ روسی اقدامات ہیں جو اسی تناظر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 35673
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب