0
Friday 26 Sep 2014 23:38

داعش مخالف اتحاد میں ایران کی عدم شمولیت کیوں؟

داعش مخالف اتحاد میں ایران کی عدم شمولیت کیوں؟
تحریر: حسین توسلی

امریکہ نے حال ہی میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خاتمے کیلئے ایک بین الاقوامی اتحاد تشکیل دیا ہے جس میں ایران نے شمولیت اختیار نہیں کی۔ بے شک ایران کی غیرموجودگی اس اتحاد کی جانب سے انجام پانے والے اقدامات کے بےنتیجہ ہونے کا باعث بنے گی۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے غیرانسانی اور مجرمانہ اقدامات کے نتیجے میں مشرق وسطٰی کے خطے میں شدید بحرانی کیفیت پیدا ہو جانے کے لمبے عرصے بعد مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ نے اس بحران کو ایک بین الاقوامی اتحاد کے ذریعے حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں انتہائی اہم نکتہ یہ ہے کہ مغربی طاقتوں نے دنیا میں امن قائم کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کی اصلی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا ہے۔ اگر چہ مغربی ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ سے بے توجہی کوئی نئی بات نہیں لیکن ان کے اس رویئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں عالمی سطح پر امن قائم کرنے میں اقوام متحدہ کے کردار پر کوئی اعتماد نہیں۔ 
 
دوسری طرف داعش کے خلاف تشکیل پانے والے اس بین الاقوامی اتحاد میں ایران کی غیرموجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اتحاد کا حقیقی مقصد دہشت گردی اور دہشت گرد عناصر کا خاتمہ نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے بعض درپردہ اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کی جانب سے حال ہی میں اس حقیقت کو برملا کیا گیا ہے کہ امریکہ نے ایران سے داعش کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کی درخواست کی تھی لیکن ایران نے اسے قبول نہیں کیا۔ ایران کی جانب سے امریکہ کی اس درخواست کو مسترد کئے جانے کی اصلی وجہ بین الاقوامی سطح پر ایران کی پالیسیاں اور رویئے ہیں۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی حکام ابتدا سے ہی داعش کے خلاف ایک بین الاقوامی محاذ تشکیل دینے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ وہ میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے داعش کے خلاف ایران کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش میں تھے۔ درحقیقت امریکی حکام چاہتے تھے کہ ایران کی مدد سے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو ختم کر دیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو داعش کے خلاف تعاون کی درخواست بھی اسی ضمن میں تھی لیکن جب وہ ایران کا تعاون حاصل کرنے میں ناکام رہے تو انہوں نے بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن ایران کی غیرموجودگی میں کیوں؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر وہ ایران کو اس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دیتے تو انہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑتے تھے۔ مثال کے طور پر چند ایسے نتائج کی جانب اشارہ کرتے ہیں:
 
1۔ اس اتحاد میں ایران کی شمولیت کا مطلب ایران کو خطے میں ایک بااثر ملک اور ایک طاقت کے طور پر تسلیم کر لینا تھا۔ مغربی دنیا کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ وہ خطے میں ایران کے اثرورسوخ اور کردار کا انکار کرتا رہے۔ اگرچہ وہ اچھی طرح اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ ایران کس قدر طاقتور ہے لیکن شدت سے اس حقیقت کو میڈیا پر آنے سے روکتے ہیں۔ اس کی اصلی وجہ یہی ہے کہ وہ خطے میں اپنے سب سے بڑے مخالف کو ایک طاقت کے طور پر تسلیم کرنا نہیں چاہتے۔ 
 
2۔ امریکی حکام کئی سالوں سے یہ رٹ لگاتے آ رہے ہیں کہ ایران دہشت گردی کا حامی ملک ہے۔ اگر ایران حالیہ داعش مخالف اتحاد میں شامل ہو جاتا تو انہیں عالمی رائے عامہ میں اٹھنے والے اس سوال کا جواب دینا پڑتا کہ بالآخر ایران دہشت گردی کا حامی ہے یا مخالف؟
 
3۔ ریپبلکن پارٹی سے وابستہ امریکی کانگریس کے اراکین مشرق وسطٰی خاص طور پر ایران سے متعلق امریکی صدر اوباما کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امریکہ کو عالمی سطح پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کی خاطر ہر ممکنہ خطرے سے اس سے پہلے کہ وہ وجود میں آئے نمٹنا چاہیئے۔ اسی وجہ سے موجودہ امریکی صدر براک اوباما پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نے شام کے بحران اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بہت ہی لچکدار رویہ اپنا رکھا ہے چونکہ ایران عالمی سطح پر امریکی تسلط کیلئے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جاتا ہے لہذٰا یہ اراکین امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے شدید مخالف ہیں۔ یوں اگر ایران اس اتحاد میں شامل ہوتا تو امریکی کانگریس کی طرف سے امریکی حکام کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ جاتا۔ 
 
دوسری طرف امریکہ کی سربراہی میں تشکیل پانے والے اس داعش مخالف اتحاد میں شمولیت پر ایران کو بھی بہت سے تحفظات کا سامنا تھا۔ مثال کے طور پر چند اہم نکات کی جانب اشارہ کرتے ہیں:
 
1۔ ایران کی جانب سے اس اتحاد میں شمولیت کا مطلب امریکہ کی سربراہی کو قبول کر لینا تھا۔ ایران نے ہمیشہ اس نکتے پر تاکید کی ہے کہ خطے میں دہشت گردی کی پیدائش اور نشوونما میں خود مغربی طاقتوں کا انتہائی اہم اور بنیادی کردار ہے۔ لہذٰا ایک ایسے اتحاد میں شمولیت جس کو خود مغربی طاقتوں نے ہی تشکیل دیا ہے ایران کے گذشتہ موقف کی نفی شمار کیا جا سکتا تھا۔ 
 
2۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ خطے میں موجود بحران اور مشکلات کسی قسم کی بیرونی مداخلت کے بغیر خود خطے کے ممالک کے ذریعے ہی حل و فصل ہونے چاہیئیں۔ افغانستان، عراق اور شام میں جنم لینے والے بحرانوں کے بارے میں بھی ایران نے یہی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ اگر ایران داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہو جاتا تو اس کا مطلب اپنے اس موقف کی نفی کرنا تھا۔ 
 
3۔ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ سے یہ کہتا آیا ہے کہ امریکہ دہشت گردوں کو "اچھے دہشت گرد" اور "برے دہشت گرد" میں تقسیم کرتا چلا آیا ہے جو انتہائی غلط پالیسی ہے لہذٰا امریکہ کبھی بھی دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرنے میں سچائی سے عمل نہیں کرتا۔ امریکہ کی نظر میں اچھے دہشت گرد وہ ہیں جو مغربی طاقتوں کے مفادات کو پورا کرنے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ اس کی واضح مثال ایم کے او، سابق سوویت یونین کے خلاف سرگرم عمل طالبان اور حال حاضر میں صدر بشار اسد کے خلاف برسرپیکار داعش سے وابستہ تکفیری دہشت گرد عناصر ہیں۔ 
 
4۔ اسلامی جمہوریہ ایران داعش کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں تشکیل پانے والے اتحاد کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اس اتحاد کا اصلی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں درپردہ اہداف کا حصول ہے۔ 
 
اگرچہ ایران عراق کا ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے اور عراقی عوام اور سیاستدانوں میں بے پناہ اثرورسوخ رکھنے کی وجہ سے داعش کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم اور بنیادی کردار ادا کرنے کے قابل ہے لیکن مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر امریکہ کی سربراہی میں تشکیل پانے والے داعش مخالف اتحاد میں ایران کی شمولیت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ 
 
خبر کا کوڈ : 411814
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب