0
Sunday 21 Oct 2012 00:51

چین اور ایران کو کنٹرول کرنے کیلئے امریکہ بھارت کو افغانستان میں اہم رول دینا چاہتا ہے، نور الحق

چین اور ایران کو کنٹرول کرنے کیلئے امریکہ بھارت کو افغانستان میں اہم رول دینا چاہتا ہے، نور الحق
نور الحق خان کا بنیادی تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقہ دیر سے ہے، آپ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں، اور آج کل قائمقام صوبائی سیکرٹری جنرل کی ذمہ داریاں بھی ادا کر رہے ہیں، آپ جماعت اسلامی کیساتھ اپنا تعلق بچپن سے ظاہر کرتے ہیں، آپ صوبائی سیکرٹری کی حیثیت سے سرکاری افسر کے فرائض بھی ادا کر چکے ہیں، ملنسار اور خوش اخلاق طبعیت کے مالک نور الحق صاحب کی جماعت اسلامی کے کارکن کی حیثیت سے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، آپ سے ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے مختلف موضوعات پر ایک تفصیلی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: سب سے پہلے تو یہ بتایئے گا کہ جماعت اسلامی کے صوبائی سطح پر ہونے والے تنظیمی انتخاب کا کیا نتیجہ نکلا۔؟
نور الحق: ہمارا تنظیمی سال یکم نومبر سے شروع ہوتا ہے، صوبائی امیر کیلئے استصواب ہو چکا ہے اور یہاں لوگوں نے بیلٹ پیپر کے ذریعے جو رائے دی وہ ہم نے مرکز کو بھیج دی ہے، اب وہاں پر گنتی ہوگی، اضلاع کے امراء جن کی مدت پوری ہو گئی تھی، ان کا بھی انتخاب ہو گیا ہے اور ان کے بیلٹ پیپر بھیج دیئے گئے تھے اور وہ آ بھی گئے ہیں، آج بھی ہم ان کی گنتی وغیرہ کر رہے تھے، ان کا بھی یکم نومبر سے نیا تنظیمی سال شروع ہو گا، تو صوبائی سطح پر اگر کوئی تبدیلی ہوئی تو وہ بھی یکم نومبر سے ہو گی اور اضلاع کی سطح پر کوئی تبدیلی ہوئی تو وہ بھی یکم نومبر سے ہو گی۔

اسلام ٹائمز: آئندہ الیکشن میں صوبہ خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال کے مطابق جماعت اسلامی کہاں کھڑی ہے اور ایم ایم اے میں شمولیت اختیار نہ کرنے کی وجہ سے آپ کی جماعت کے مدمقابل حریفوں میں کہیں ایک اور اضافہ تو نہیں ہو جائے گا۔؟
نور الحق: ہماری اپنی جماعت کی جانب سے تنظیمی انتخاب کا جو عمل تھا، ہم وہ تقریباً مکمل کرچکے ہیں، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ 90 فیصد سے زیادہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے، ہماری یہ کوشش ہے کہ ہر سیٹ پر مقابلہ کیا جائے، لیکن آپ کو پتہ ہے کہ اس صوبہ اور ملک کی حالت ایسی ہے کہ کوئی بھی ایک پارٹی اکیلے انتخابات لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، تو مجبوراً اتحاد کرنے ہوں گے، ہماری پہلی ترجیح یہ تھی کہ متحدہ مجلس عمل بحال ہو جائے، چونکہ اسلامی ذہن کے لوگ ہیں، لیکن وہاں پر جے یو آئی کے امیر صاحب اور ان کے نچلے لیول کے جو رہنماء ہیں، ان کا رویہ کچھ مثبت نہیں ہے، ہم نے صوبہ بھر میں امیدواروں کی نامزدگیاں کی ہوئی ہیں، بلکہ ان کے دفاتر بھی اسٹیبلش کئے ہوئے ہیں، انتخابی اتحاد کے سلسلے میں چونکہ ہماری ترجیح ایم ایم اے تھی کہ ایم ایم اے بن جائے تو یہ لائٹ مائنڈڈ قسم کی پارٹیز ہیں تو مسئلہ ہمارے لئے بھی ٹھیک رہے گا اور عوام کیلئے بھی۔ لیکن بدقسمتی سے جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان صاحب اور ان کے ساتھی معلوم نہیں خوش فہمی میں مبتلا ہیں، انہوں نے کچھ ایسے بیانات دیئے اور اپنی ترجیحات انہوں نے کسی دوسری طرف ظاہر کر دیں۔
 
ہم نے بھی پھر انہیں کہہ دیا کہ اگر اتحاد بنانا ہے تو ہمارے ساتھ میز پر بیٹھنا ہوگا، تمام شرائط اور قواعد پہلے سے طے کرنا ہوں گے، اس کے بعد ہم اتحاد کریں گے، جب ہمارے مرکزی امیر نے یہ بات کی تو انہوں نے یہ کہا کہ جماعت اسلامی 50 فیصد سے زیادہ نشستیں مانگتی ہے، یا وزیراعلٰی کی پوسٹ مانگتی ہے، اگرچہ ہماری ڈیمانڈ یہ نہیں تھی، ہماری ڈیمانڈ صرف اور صرف یہ تھی کہ آپ ہمارے ساتھ بیٹھیں گے اور سارے قواعد، طریقہ کار، الیکشن کی سیٹیں وغیرہ ساری باتیں طے کریں گے، اس کے بعد اتحاد بنائیں گے۔ پھر ان کے بیانات کچھ اس قسم کے آگئے کہ ہمیں مجبوراً فیصلہ کرنا پڑا کہ ہم اکیلے ہی میدان میں اتریں گے، ایڈجسٹمنٹ ہم کریں گے اور ہماری ترجیح اب بھی یہی ہے کہ جے یو آئی اور جو دوسری لائٹ مائنڈڈ قسم کی جماعتیں ہیں، ان کیساتھ ایڈجسٹمنٹ کرلیں، ان کے ساتھ نہ ہوئی تو ہمارے دروازے سب کیلئے کھلے ہوئے ہیں، لیکن اب بھی ہماری ترجیح نمبر ایک یہی ہے کہ اگر وہ قواعد و ضوابط طے کرنے کیلئے تیار ہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں، اگر ایسا نہ ہوا تو باقی لوگوں کیساتھ۔ لیکن ہماری انتخابی تیاریاں مکمل ہیں، ہر حلقے میں امیدواروں کی نامزدگیاں ہو چکی ہیں، بلکہ ہم سب سے پہلے اپنا انتخابی منشور بھی پیش کر چکے ہیں، کچھ بھی ہو، ہم انشاءاللہ الیکشن میں حصہ لیں گے اور ہمیں یقین ہے کہ نتائج اچھے آئیں گے۔

اسلام ٹائمز: گزشتہ دنوں اسلامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف واحدی نے اسلام ٹائمز کیساتھ انٹرویو میں کہا کہ مجلس عمل میں جماعت اسلامی کی شمولیت کیلئے ان کی جماعت ثالثی کا کردار ادا کرے گی، کیا ایسی کسی ثالثی کی صورت میں جماعت اسلامی ایم ایم اے کا حصہ بن سکتی ہے۔؟
نور الحق: جس طرح میں نے کہا رکاوٹ ہم نہیں ہیں، رکاوٹ وہ لوگ ہیں، یہ بڑی سلیقہ مندی کی بات ہے کہ ہم نے کہا ہے کہ اکھٹے بیٹھتے ہیں، جن چیزوں کی ہم پیش بینی کر سکتے ہیں کہ یہ چیزیں آسکتی ہیں تو ان کا فیصلہ ابھی سے کر لیں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ الیکشن ہو جائے، ہم اکثریت بھی لے لیں اور پھر بیٹھ کر ہم فیصلے کریں تو یہ ٹھیک نہیں ہے، تو پہلے سے کیوں نہ طے کرلیں کہ سیٹیں کس طرح تقسیم ہوں گی، پھر الیکشن کے بعد اگر ہماری پوزیشن حکومت بنانے کی ہو تو کیا کریں گے اور حکومت بنانے کی نہ ہو تو پھر کیا کریں گے، تو یہ چیزیں ہمیں پہلے سے طے کرنی چاہئیں، ہم اسلامی تحریک کے نمائندوں کی طرف سے کسی بھی مصالحت کی مخالفت نہیں کریں گے، لیکن شرط پھر بھی ہماری وہی ہوں گی کہ جو سارے قواعد اور شرائط ہیں پہلے بلیک اینڈ وائٹ میں ان کا فیصلہ کیا جائے اور پھر ہم رکاوٹ نہیں ہیں۔

اسلام ٹائمز: میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ گزشتہ دنوں جو ملالہ پر حملہ ہوا اور پھر میڈیا نے اس واقعہ کو اتنا اچھالا، اس کے بیک گرائونڈ میں کیا ہو سکتا ہے۔؟
نور الحق: یہ ایک حقیقت ہے کہ ملالہ پر حملہ ایک بہت قابل مذمت واقعہ ہے اور جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، کوئی بھی ذی شعور انسان اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ ایک ظالمانہ اور بزدلانہ اقدام ہے، لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک ملالہ نہیں ہے، پچھلے چند سالوں میں دیکھ لیں تو ہزاروں ملالائیں اس طرح شہید ہو گئی ہیں، ڈرون حملوں میں اگر ہم دیکھ لیں تو سینکڑوں حملے پچھلے چار پانچ سالوں میں ہو چکے ہیں اور اس میں بے گناہ، بچیاں، بچے، بوڑھےاور عورتیں شہید ہو گئی ہیں، یہاں پر جو خودکش حملے ہو رہے ہیں اس میں آپ دیکھ لیں، ہزاروں لوگ شہید ہو گئے، بچے بچیاں بھی جن میں شامل ہیں، لوگوں کے گھر مسمار ہوگئے، ہم کہتے ہیں کہ بلاجواز پروجیکشن جو ہو رہی ہے اس میں دال میں کچھ کالا ہے، میرے اپنے ذہن کے مطابق اس سے پہلے تقریباً پندرہ بیس دن سے جو توہین رسالت (ص) کرنے والوں کے خلاف جو عوام میں ایک موومنٹ تھی اس کو سبوتاژ کرنے کیلئے انہوں نے اس واقعہ کو استعمال کیا۔
 
دوسرا میرے خیال میں امریکہ کافی عرصہ سے شمالی وزیرستان میں آپریشن کرانا چاہتا ہے اور ہم اسے بتا چکے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں جو لوگ ہیں وہ پاکستانی نہیں ہیں، اگر آتے ہیں تو وہاں سے آتے ہیں، بارڈ پر نیٹو افواج موجود ہیں وہ انہیں کنٹرول کریں، تاہم وہ ناکام ہو گئی ہیں، وہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کروانا چاہتے ہیں، اس لئے یہ ایک بہانہ انہوں نے ڈھونڈ لیا ہے، اور اس کو جواز بناکر ایسا ہوسکتا ہے، پچھلے دنوں ہمارے وزیر داخلہ کا بیان آیا تھا اور انہوں نے بڑے کھلے الفاظ میں کہا کہ اب ہمیں شمالی وزیرستان میں کچھ کرنا چاہئے، تو یہ ایک بہانہ ہے ان کیلئے، تیسری بڑی بات یہ کہ اب جو الیکشن آرہے ہیں اور وہ جماعتیں جو میرے خیال میں سیکولر اور پرو امریکہ ہیں، جن میں پی پی پی، ایم کیو ایم اور اے این پی شامل ہیں ان کیلئے ایک ایشو پیش کر دیا گیا ہے اور اس ایشو پر چونکہ حکومت بھی پروجیکشن کر رہی ہے اور میڈیا بھی کر رہا ہے، تو یہ ان کیلئے انتخابی سپورٹ کا بہانہ ہے، کہ ان لوگوں نے ملالہ کیلئے یہ کر دیا، اس کو علاج معالجہ کیلئے برطانیہ بھیج دیا۔
 
ورنہ ان کی ہمدردیاں ہوتیں تو کائنات اور شازیہ جو اس کیساتھ زخمی ہوئی تھیں، ایک ہفتے تک کسی نے ان کو پوچھا تک نہیں، جب میڈیا اور پبلک میں بات آگئی تب ہماری صوبائی اور مرکزی حکومت نے انہیں ٹیلی فون کیا اور علاج معالجہ کیلئے کچھ معمولی رقم دے دی، یہ تین بڑی باتیں ہیں جو ملالہ کے واقعہ کی اتنی بڑی پروجیکشن کے اسباب مجھے معلوم ہوتے ہیں، ملالہ پر جو حملہ ہوا ہے ہم اسے بزدلانہ کہتے ہیں، غیر اسلامی کہتے ہیں، غیر شرعی کہتے ہیں، اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جنہوں نے کیا ہے انہیں کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے، لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہماری موجودہ صوبائی اور مرکزی حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ یہ حملہ کرنے والوں کو گرفتار کرے، تو یہ صرف پروجیکشن کیلئے اور وہ جو کپمین چل رہی تھی ناموس رسالت (ص) کیلئے اس کو سبوتاژ کرنے کیلئے ہے۔

اسلام ٹائمز: جس صوبہ سے آپ کا تعلق ہے یعنی خیبر پختونخوا، یہ عرصہ دراز سے دہشتگردی کی شدید ترین لپیٹ میں رہا ہے اور اب تک یہ صورتحال کسی نہ کسی صورت میں برقرار ہے، اس صوبہ کو دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے میں کونسی قوتیں ملوث ہیں۔؟
نور الحق: بڑی ظاہری بات ہے کہ جو لوگ پاکستان کے دشمن ہیں، جو پاکستان کے وجود اور اس کی سالمیت کیخلاف ہیں، مغربی ممالک اور بالخصوص میں امریکہ کا ذکر کروں گا، جو نہیں چاہتا کہ ایک طاقتور ایٹمی قوت کا حامل اسلامی ملک اس دنیا میں موجود ہو، وہ پیچھے لگے ہوئے ہیں، اور انہوں نے ہمارے حکمرانوں کو آلہ کار بنایا ہوا ہے، نائن الیون کے بعد آپ کو بھی پتہ ہے، سب کو معلوم ہے کہ اس وقت کے ڈکٹیٹر تھے جنرل مشرف، انہوں نے ایک ہی ٹیلی فون کال پر وہ فیصلہ کرلیا اور وہ سہولتیں ان کو دے دیں جو وہ بھی توقع نہیں کر رہے تھے، اس وقت امریکہ کے جو وزیر خارجہ تھے کولن پاول نے کہا کہ ہمارا یہ خیال تھا کہ یہ ہم لسٹ پیش کریں گے تو یہ دو، تین، چار باتیں بھی مان لیں تو ہماری بڑی کامیابی ہوگی، لیکن ایک ہی ٹیلی فون نے انہیں زیر کر دیا، اور انہوں نے یہ کہہ دیا کہ ہمیں یہ ساری باتیں منظور ہیں۔

امریکہ جو چاہتا تھا ہمارے بزدل حکمران اس کے مددگار بن گئے، یہ آگ ابھی تک جل رہی ہے اور افغانستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور پاکستان کو بھی لے لیا، اب 2014ء میں وہ افغانستان سے نکل رہے ہیں، تو وہاں پر تو یہ بیسز قائم رکھیں گے، لیکن وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرکے جائیں گے، ہمارے وزیر داخلہ نے بھی مان لیا کہ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں نیٹو اور امریکہ کا ہاتھ ہے، حالات جس نہج پر چل رہے ہیں اور جس حالت پر پہنچ گئے ہیں میرے خیال میں یہ جو ہمارے نااہل حکمران ہیں وہ کنٹرول نہیں کر سکتے، بلکہ حالات مزید بگڑ رہے ہیں، وہ بلوچستان میں، ہمارے ٹرائبل ایریا میں، ہمارے صوبہ خیبر پختونخوا میں حالت خراب کر رہے ہیں، اور یہ صوبہ زیادہ متاثر ہے، کیونکہ ان لوگوں میں ذرا سلام سے وابستگی زیادہ ہے، اسلام سے محبت کرتے ہیں، اسلام پر اپنی جانیں نچھاور کرتے ہیں، اسلام کیلئے یہ بہت کچھ کرسکتے ہیں۔
 
تو انہوں نے قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا کو ٹارگٹ بنایا ہوا ہے، لیکن مجھے یقین ہے اور اپنے اللہ پر یہ اعتماد ہے کہ انشاء للہ وہ کامیاب نہیں ہوں گے، جس طرح افغانستان میں وہ شکست کھا کر جا رہے ہیں، اسی طرح وہ لاکھ چاہیں یہاں پر کامیاب نہیں ہوں گے، کیونکہ لوگ سب سمجھتے ہیں، اور یہاں پر اکثریت اسلامی نظام کو پسند کرتی ہے، اگرچہ ہمارے حکمرانوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن عوام کا ہے، عوام سر دھڑ کی بازی لگانے کیلئے تیار ہیں، تو انشاء اللہ وہ اپنے ارادوں میں ناکام رہیں گے۔

اسلام ٹائمز: ایسی صورتحال میں آپ کے خیال میں امریکی مداخلت کے جال سے نکلنے کیلئے پاکستان کیلئے چین اور ایران جیسے پڑوسی ممالک کیساتھ تعلقات کی مزید بہتری کس حد تک فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔؟
نور الحق: اصل میں امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان سے نیٹو افواج کے نکلنے کیساتھ ساتھ زیادہ انوولومنٹ انڈیا کو دی جائے، انڈیا اس لئے کہ وہ مستقبل میں دیکھ رہا ہے کہ چین ایک بڑی فوجی اور صنعتی قوت بن رہا ہے، اس کی نظر میں مقابلے کا ملک بھارت ہے، کیونکہ ہماری تو اس کیساتھ دوستی ہے، وہ چاہتا ہے کہ انڈیا اتنا طاقتور ہو جائے کہ وہ چائنہ کا مقابلہ کرسکے، اس لئے امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں انڈیا کو زیادہ سے زیادہ رول دیا جائے، لیکن ایک مشکل اس کیلئے ہے، نہ اس کی سرحدیں ملی ہوئی ہیں، نہ اس کا دینی و مذہبی کوئی تعلق ہے، اگرچہ حکمران چاہتے ہیں لیکن عوام نہیں چاہتے، اس لئے یہ دو فیکٹر ایسے ہیں جو اس کو زیادہ سے زیادہ رول دینے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
 
ہمارے لئے ایک بہترین موقع تھا کہ نیٹو افواج کے نکل جانے کے بعد ہم اس خلا کو پر کرتے، یہ نہیں کہ مداخلت کرتے، بلکہ ان کی ضروریات پوری کرتے، ان کو راستہ دے دیتے، ان کے کام آتے، لیکن ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات کچھ اور ہیں اور وہ صرف اپنی کرسی کو بچانا چاہتے ہیں، امریکہ کی خواہش کے کہ ایران کو کنٹرول کرنے کیلئے، چائنہ کو کنٹرول کرنے کیلئے اور یہ راستہ کھلا رکھنے کیلئے وہ بھارت کو افغانستان میں لائے، لیکن مشکلات ہوں گی اور انشاء اللہ اگلے انتخابات جو ہوں گے تو مجھے یقین ہے کہ موجودہ حکمران اقتدار میں نہیں ہوں گے، ہو سکتا ہے کہ کچھ اچھے لوگ اور محب وطن لوگ آجائیں تو انشاءاللہ انہیں کامیابی نہیں ہوگی۔

اسلام ٹائمز: ملی یکجہتی کونسل فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے اور ملک میں فرقہ وارانہ بنیاد پر جاری ٹارگٹ کلنگ کو روکنے میں کس حد تک کردار ادا کر سکتی ہے۔؟
نور الحق: ملی یکجہتی کونسل کا جب آغاز ہوا تھا تو اس کا مقصد تب بھی یہی تھا کہ یہ جو فرقہ وارانہ اختلافات ہیں، فرقہ وارانہ فسادات ہو رہے ہیں، ایک دوسرے کو گالیاں دی جا رہی ہیں، ان کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک ایسی باڈی ہو جو تمام مکاتب فکر کے لوگوں پر مشتمل ہو اور وہ ان چیزوں کو کنٹرول کرے، ملی یکجہتی کونسل اصل میں ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ غیر فعال ہوگئی تھی، اب قاضی صاحب نے اسے فعال کیا ہے، اور وہ میٹنگز کر رہے ہیں، میرے خیال میں ان کا جو بنیادی مقصد ہے وہ یہی ہے کہ جو فرقہ وارانہ تعصب اور اختلافات ہیں یا ایک دوسرے کیخلاف جو بدگمانیاں ہیں وہ ختم ہو جائیں، میرے خیال میں قاضی صاحب کا کرداد بڑا تعمیری ہے اور مختلف تنظیمیں اور جماعتیں بھی یہ احساس کرتے ہوئے آگے بڑھی ہیں کہ ان چیزوں کو ختم کرنا ہے۔ اسی طرح دفاع پاکستان کونسل جو ہے وہ اگرچہ وہ سیاسی لوگوں کی کونسل نہیں ہے، اس میں غیر سیاسی لوگ بھی ہیں، بعض مخالفین کہتے ہیں کہ یہ ایک انتخابی اتحاد ہے، یہ انتخابی اتحا بھی نہیں ہے۔
 
اگر آپ دیکھیں تو جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام سمیع الحق گروپ کے علاوہ کوئی ایسا گروپ یا پارٹی نہیں ہے جو الیکشن میں حصہ لینا چاہتی ہو، دفاع پاکستان کونسل پاکستان کے دفاع کی بات کرتی ہے، ڈرون حملوں کیخلاف بات کرتی ہے، جو خودکش حملے ہیں، اس کے خلاف بات کرتی ہے، ہم نے جو پرائی جنگ میں اپنے آپ کو شامل کیا ہے، اس سے نکلنے کی بات کرتی ہے، نیٹو سپلائی جو ہم نے کچھ مہینے بند کی اور پھر بے غیرتی کی انتہاء کرتے ہوئے ہم نے وہ راستہ پھر کھول دیا بغیر کسی معاوضہ کے، اس کے خلاف بات کرتی ہے۔ دفاع پاکستان کونسل چاہتی کے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہو، پاکستان ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے رہے، یہ ساری ایکٹیووٹیز اس لئے ہو رہی ہیں کہ پاکستان کو مضبوط کیا جائے، مختلف نظریاتی اور سرحدی باہر کے حملہ آوروں سے اس ملک کو محفوظ رکھا جائے۔

اسلام ٹائمز: جب آپ کے کسی اہل تشیع بھائی کو بس سے اتار کر شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد مار دیا جاتا ہے یا جب کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا قتل عام کیا جاتا ہے، اس وقت کیا محسوس کرتے ہیں۔؟
نور الحق: سب سے پہلے میں آپ کو یہ وضاحت کر دوں کہ جماعت اسلامی اس ملک کی واحد مذہبی جماعت ہے جو مسلکی امتیازات سے اوپر کام کرتی ہے، اس میں بریلوی بھی ہیں، دیوبندی بھی ہیں، اہلحدیث بھی ہیں اور اہل تشیع بھی ہیں، سارے لوگ اس میں شامل ہیں، آپ جے یو آئی (ف) کو لے لیں وہ ایک دیوبندی مکتب فکر کی جماعت ہے، اگر آپ جمعیت علماء پاکستان کو دیکھ لیں تو وہ بریلوی مکتب فکر کی جماعت ہے، آپ اہل تشیع کی دو تین جو بڑی پارٹیاں ہیں ان کو دیکھ لیں تو اس میں اہل تشیع ہیں، لیکن جماعت اسلامی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس میں یہ سارے کو لوگ جمع ہیں، مولانا مودودی (رہ) نے کہا تھا کہ جو کلمہ گو ہے، جو اللہ، رسول (ص) اور قیامت کو مانتا ہے وہی مسلمان ہے اور وہ اس پارٹی میں آسکتا ہے، تو یہ ایک امتیازی حیثیت ہے، مجھے تو ذاتی طور پر انتہائی دکھ ہوتا ہے کہ جب یہ سنا جاتا ہے کہ بلوچستان میں نامعلوم گروپ نے وہاں کے فلاں گائوں کے ہزارہ باشندے کو گاڑی سے نکال کر گولیاں مار دیں، مسلک کی بنیاد پر، کیونکہ وہ اہل تشیع ہے، مجھے دکھ ہوتا ہے کہ گلگت جاتے ہوئے کوہستان میں روک کر پوچھا جاتا ہے کہ آپ کون ہیں، آپ کون ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ میں سنی ہوں، میں اہل تشیع ہوں، میں فلاں مسلک سے تعلق تکھتا ہوں، اور کسی ایک گروپ کو نیچے اتار کر گولیاں مار دی جاتی ہیں۔
 
یہ انسانیت کا تقاضا نہیں ہے، یہ تو ہیں سارے مسلمان، میں ان مسالک میں کسی کو بھی اسلام سے خارج نہیں سمجھتا، لیکن اگر غیر مسلم بھی ہو تو میں یہ غیر اسلامی فعل قرار دیتا ہوں کہ کوئی آدمی بازار چلا گیا، کوئی خاص نظریہ یا عقیدہ سے تعلق رکھتا ہے اور اس عقیدے کے مخالف اسے پکڑ کر گولی مار دیں یا بے عزتی کریں، جماعت اسلامی ان چیزوں کے خلاف کام کرتی ہے، ہم مسلمان ہیں، اس میں نہ دیوبندی ہے، نہ بریلوی ہے، نہ اہل تشیع، نہ اہل حدیث ہے، کچھ بھ نہیں ہے، جو کلمہ گو ہے وہ مسلمان ہے، اور اگر اس طریقہ کار کو دوسری مذہبی جماعتیں بھی فالو کریں تو مجھے یقین ہے کہ یہ ملک ان لعنتوں سے نجات پاسکتا ہے، لیکن ان کی پارٹیاں اپنے اپنے مسلکوں کی بنیاد پر ہیں، اور میں ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ جماعت اسلامی کو ماشاءاللہ یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ ان چیزوں سے بالاتر ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ سے آخری سوال کہ مسائل میں گھرے ہوئے پاکستان کے عوام کو ان سے کب نکلتا دیکھ رہے ہیں۔؟
نور الحق: جب وہ انتخابات میں صحیح فیصلہ کرلیں، اصل میں مصیبت یہ ہے کہ یہاں پر ایک سیاسی نظام ہے، آپ پنجاب اور سندھ جائیں، صوبہ خیبر تو ان لعنتوں سے ذرا پاک ہے، لیکن پنجاب اور سندھ میں جائیں، بڑے بڑے چوہدری، بڑے بڑے وڈیرے، بڑے بڑے پیر، بڑے بڑے مشائخ موجود ہیں، ان کے پیروکار، ان کے زمیندار، ان کے کاشتکار آنکھیں بند کرکے چوہدری صاحب کے پیچھے چلتے ہیں، ان کی رائے نہیں ہوتی کہ فلاں کو ووٹ دیں، بلکہ وہ تو چوہدری صاحب کی اجازت کے بغیر اپنے بچے کو تعلیم بھی نہیں دلا سکتے، چوہدری صاحب کی اجازت کے بغیر وہ اپنی بیٹی کی شادی نہیں کر سکتے، چوہدری صاحب کی اجازت کے بغیر وہ کسی جلسے میں نہیں جاسکتے، ایم کیو ایم کہتی ہے کہ ہم وڈیروں کے خلاف ہیں، چوہدریوں کے خلاف ہیں، وہ خود ایک وڈیرہ بن گئے ہیں، وہاں پر وہ جس طریقہ سے لوگوں کو جلسوں میں لاتے ہیں، جس طرح لوگوں پر وہاں بٹھاتے ہیں، الطاف حسین کے ٹیلی فونک خطابات سنتے ہیں، جس طرح ان سے بھتے وصول کر رہے ہیں، تو وہ وڈیرہ شاہی کی بدترین شکل ہیں۔
 
جب تک یہ موجود ہیں میرے خیال میں پاکستان میں صحیح نمائندے نہیں آسکتے، اگر لوگوں نے یہ عزم اور فیصلہ کیا کہ اب اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنا ہے، چوہدریوں کو چھوڑ کر، وڈیروں کو چھوڑ کر، پیروں کو چھوڑ کر، تو میں کہتا ہوں کہ یہ ملک اتنے وسائل رکھتا ہے کہ یورپ کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے آگے جا سکتا ہے، لیکن بدقسمتی کہ ہم ان شکنجوں میں پھنسے ہوئے ہیں، خدا کرے کہ ہمیں ان سے نجات ملے، یہ یک دم نہیں ہوسکتا، مگر لوگوں کو احساس ہو رہا ہے، میں پنجاب گیا ہوں، میں سندھ گیا ہوں، بلوچستان گیا ہوں، لوگوں کو احساس ہوا ہے، وہ وڈیرہ شاہی سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں، خداے کرے کہ اس الیکشن میں آپ اس کے نتائج دیکھیں، میں یہ نہیں کہتا کہ یہ شکنجے ختم ہو جائیں گے، لیکن کچھ نہ کچھ کم ہو جائیں گے، اور ایک دو الیکشن اس طرح تسلسل سے ہوئے اور کوئی ڈکٹیٹر نہ آیا تو آپ دیکھیں گے کہ لوگ صحیح فیصلے کریں گے اور انشاءاللہ وہ صحیح نمائندوں کو منتخب کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 205109
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے