0
Friday 29 Mar 2013 14:53

کچھ سیاسی جماعتیں اپنے مذموم مقاصد کیلئے کالعدم جماعتوں کو سپورٹ کر رہی ہیں، شمشاد غوری

کچھ سیاسی جماعتیں اپنے مذموم مقاصد کیلئے کالعدم جماعتوں کو سپورٹ کر رہی ہیں، شمشاد غوری
کراچی سے تعلق رکھنے والے شمشاد خان غوری اس وقت مہاجر قومی موومنٹ (MQM) کے وائس چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔ آپ نے 1986ء میں مہاجر قومی موومنٹ کے موجودہ چیئرمین آفاق احمد کی دعوت پر ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی۔ آپ اس سے قبل ایم کیو ایم میں سیکٹر انچارج ملیر، رکن کراچی کمیٹی سمیت مختلف عہدوں پر بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے شمشاد خان غوری کے ساتھ مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کی رہائش گاہ پر مختلف ایشوز کے حوالے سے ایک مختصر نشست کی جس میں سانحہ عباس ٹاﺅن، فرقہ وارانہ سازش، کراچی بدامنی، پاک ایران گیس پائپ لائن وغیرہ شامل ہیں۔ اس موقع پر آپ سے کیا گیا مختصر انٹرویو اسلام ٹائمز کے قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کراچی سمیت پاکستان میں کوئی سنی شیعہ مسئلہ ہے اور سانحہ عباس ٹاﺅن کے حوالے سے کیا کہیں گے؟
شمشاد خان غوری: سب سے پہلے تو ہم آپ کو یہاں چیئرمین آفاق بھائی کی رہائش گاہ پر تشریف لانے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں مہاجر قومی موومنٹ اور چیئرمین آفاق احمد بھائی کی جانب سے ایک بار بھی سانحہ عباس ٹاﺅن سمیت کراچی اور ملک بھر میں ہونے والی سنی شیعہ ٹارگٹ کلنگ کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔ دیکھیں کراچی سمیت پورے پاکستان میں سنی شیعہ اتحاد ہمیشہ سے تھا اور آج بھی یہ اتحاد قائم ہے۔ یہاں سنی اور شیعہ کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے۔ سنی شیعہ بھائی بھائی ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان میں کچھ سیاسی جماعتیں اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے کالعدم جماعتوں اور دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہی ہیں۔

اہل کراچی کے مطابق کراچی میں کسی قسم کی فرقہ واریت نہیں ہے نہ ہی سنی شیعہ جھگڑا ہے بلکہ پاکستان کی معاشی و اقتصادی شہہ رگ کا درجہ رکھنے والے شہرِ کراچی میں ہر حکومت کے اتحادی رہنے والے لسانی دہشت گرد بیرونی اشاروں پر قتل و غارت گری اور انتہائی منظم انداز میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق کراچی میں یہی لسانی جماعت سنی شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔ اس حوالے سے اس نے مختلف ونگز بنا رکھے ہیں۔ کسی کو حماد صدیقی نامی شخص لیڈ کر رہا ہے کسی کو رئیس ماما لیڈ کر رہا ہے اور اب اس میں ایک اور اضافہ ہو گیا ہے خالد مقبول صدیقی کی صورت میں۔ یہ سنی شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کراتے ہیں تاکہ سنی شیعہ اتحاد کو پارہ پارہ کرکے فرقہ واریت پروان چڑھائی جا سکے۔ اس میں یہ لوگ کامیاب بھی ہوئے ہیں اور اس افسوسناک حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اب کچھ ایسے گروہ وجود میں آ چکے ہیں جو مذہب کے نام پر ٹارگٹ کلنگ کر رہے ہیں۔

ابھی کچھ ہفتوں قبل شاہراہ فیصل پر نرسری کے قریب ایک ہائی روف پر فائرنگ کرکے تین علماء کو نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعہ میں ملوث افراد کی وابستگی اس لسانی سیاسی جماعت سے ثابت ہو چکی ہے، انہوں نے اعتراف بھی کر لیا تھا۔ اس سے بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کراچی میں سنی اور شیعہ ایک دوسرے کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ مذکورہ لسانی سیاسی عناصر ہیں جو فرقہ واریت پھیلانے کیلئے یہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ چونکہ گورنر سندھ ان کا ہے، وزراء موجود تھے، رینجرز پولیس ان کے دباﺅ میں تھی، حکومت اپنی آخری مدت میں ان کے دباﺅ میں تھی لہٰذا ان دہشتگردوں کی سیاسی وابستگی کو چھپا دیا گیا، انہیں جیل بھیج دیا گیا اور ڈر و خوف کی وجہ سے کوئی بھی ان کے خلاف گواہی دینے والا بھی نہیں ہے۔

سانحہ عاشورا میں اس لسانی جماعت کے ملوث ہونے کو سب جانتے ہیں۔ جس کے بعد ایک منظم سازش کے تحت دکانوں کو آگ لگائی گئی تا کہ سنی شیعہ کو آپس میں لڑایا جا سکے، اس میں اس لسانی جماعت کا کردار سب پر عیاں ہے۔ ابھی سانحہ عباس ٹاﺅن سمیت کراچی بدامنی پر ہونے والی سماعت کے دوران بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سیاسی وابستگی رکھنے والے ٹارگٹ کلرز کی جو فہرست جمع کرائی ہے اس میں بھی اس لسانی جماعت کے 80 سے زائد دہشت گردوں کے نام ہیں مگر نہیں پتہ کہ ان کے خلاف کیوں کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ لہٰذا ہمارا موقف ہے کہ کراچی سمیت پورے پاکستان میں سنی شیعہ تفرقہ نہیں ہے بلکہ مقامی دہشتگرد بیرونی اشاروں پر فرقہ واریت پھیلانے کی مذموم سازش کر رہے ہیں۔

سانحہ عباس ٹاﺅن کے حوالے سے ہم پہلے بھی اپنے میڈیا بیانات میں صاف کہہ چکے ہیں کہ اہل تشیع مسلمانوں کا پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ہے، شیعہ کمیونٹی کی نسل کشی پاکستان کو ترقی کی راہ سے ہٹانے کے مترادف ہے۔ سانحہ عباس ٹاﺅن میں شہید ہونے والا شیعہ ہو یا سنی، گود تو کراچی کی اجڑی ہے، مگر آپ نے دیکھا کہ کراچی کی حکومتی و اس کی اتحادی لسانی سیاست کرنے والی جماعت اس افسوسناک سانحہ پر بھی سیاست سے باز نہیں آئی۔ لہٰذا کراچی کی عوام جن پر ان کا مکروہ چہرہ واضح ہو چکا ہے انہیں اپنی صفوں سے ہمیشہ کیلئے نکال باہر کریں۔ خصوصاََ اس حوالے سے نئی شیعہ جماعت مجلس وحدت مسلمین جو کہ اطلاعات کے مطابق کراچی سے بھی عام انتخابات میں بھی حصہ لے رہی ہے، اس کے کردار کو بھی سراہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ نے کہا کہ کراچی میں مقامی دہشت گرد بیرونی اشاروں پر سنی شیعہ ٹارگٹ کلنگ کر رہے ہیں، تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ فرقہ واریت پھیلانے کی سازش میں امریکا و اسرائیل بھی ملوث ہیں؟
شمشاد خان غوری: بالکل، امریکا اس میں ملوث ہے اور آپ چاہئیں تو اسے ریکارڈ کر سکتے ہیں۔ ہیلری کلنٹن کی تقریر کی ایک ویڈیو عام ہے، جس میں ہیلری کلنٹن نے ببانگ دہل کہا ہے کہ ہم (امریکا) نے طالبان کو بنایا، پاکستان میں وہابی عناصر کو پروموٹ کیا اور انہیں ہم نے جمع کیا اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے۔ تو امریکا اپنے مقاصد کے حصول کیلئے پاکستان میں مذہبی و لسانی دہشت گردوں کو سپورٹ کرتا نطر آ رہا ہے اور ان کی اسلحہ اور مالی مدد بھی کر رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیوں بیرونی قوتیں جن میں امریکا سرفہرست ہے پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں؟
شمشاد خان غوری: دیکھیں پاکستان عالم اسلام میں واحد مسلمان ملک ہے جو نیوکلئیر قوت رکھتا ہے، ایٹمی طاقت ہے۔ لہٰذا یہ امریکا سمیت کسی بھی ملک کو ہضم نہیں ہو رہا ہے اور وہ پاکستان کی ایٹمی قوت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا وہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، عدم استحکام سے دوچار کردیا جائے، ملک میں افراتفری پھیلائی جائے۔ پاکستان کو معاشی و اقتصادی طور پر کمزور کر دیا جائے۔ اس لئے آپ دیکھ رہے ہیں کہ امریکا مسلسل پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ امریکا پاکستان کے ایران سمیت کسی امریکا مخالف ملک کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں چاہتا۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ ابھی پاکستان کو توڑنا چاہے گا، کیونکہ اس میں اس کا اپنا نقصان ہے۔

ابھی پاکستان ایک ہے، اسے ڈیل کرنے میں آسانی ہے، وزیراعظم سے بات کرلی، صدر سے بات کرلی، آرمی چیف سے بات کرلی۔ کیونکہ خدانخواستہ اگر ملک کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے تو اسے کئی لوگوں سے بات کرنی پڑے گی۔ لہٰذا ابھی اس کی کوشش ہے کہ ملک کو کمزور کرکے اس پر اپنی مرضی مسلط کرکے اس کے مطابق چلا سکے۔ اس سلسلے میں وہ اپنے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے کوششوں میں مصروف ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ جو ادارے پاکستان کو کما کر دیتے تھے ان کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے، انہیں بیچا جا رہا ہے۔ بجلی نہیں ہے، گیس کا بحران ہے، مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے، نوجوان بیروزگاری کا شکار ہوکر خودکشی کر رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدہ اور اس معاہدے پر پاکستان کو دی جانے والی مسلسل امریکی دھمکیوں پر آپ کی جماعت کا کیا موقف ہے؟ کیا امریکی دباﺅ اور دھمکیوں کو قبول کر لینا چاہئیے؟
شمشاد خان غوری: پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے کی ہم حمایت کرتے ہیں۔ ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ پڑوسی دوست ملک ہے۔ دیکھیں شہنشاہ ایران کے دور میں امریکا کے حوالے سے ماحول کچھ اور تھا اور ایران میں آنے والے انقلاب کے بعد ماحول بالکل بدل گیا۔ دیکھیں ایران میں آیا ہے اسلامی انقلاب۔ ایران کا اسلامی انقلاب تمام اسلامی ممالک کیلئے ایک بہترین مثال ہے کہ ایک اسلامی انقلاب کس طرح سے آتا ہے۔ خمینی صاحب نے بہت محنت کی، برسوں جلا وطن رہے اور پھر جو عوام کی مدد سے اسلامی انقلاب لے کر آئے وہ بہت بڑا سبق ہے پوری دنیا کے مسلمانوں اور اسلامی ممالک کیلئے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان میں بھی کوئی ایسا شخص پیدا کرے کہ جو حقیقی معنوں میں انقلاب لائے اور یہ ملک جو بربادی و تباہی کی طرف جا رہا ہے، دہشت گردی کی طرف جا رہا ہے، ان سب سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔

دیکھیں پاکستان اس وقت شدید ترین توانائی بحران سے گزر رہا ہے، انڈسٹریز بند ہو رہی ہیں، فیکٹریاں اور ملیں بندش کا شکار ہو رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے باعث نوجوان طبقہ جرائم کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس توانائی کے بحران میں یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس سے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ دیکھیں اول تو پاکستان گیس کے وسیع ذخائر رکھنے والا ملک ہے، اگر قدرتی وسائل سے صحیح استفادہ کیا جائے اور اسے بروئے کار لایا جائے تو ہمیں باہر سے بجلی گیس درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ لہٰذا پہلی کوشش ہونی چاہئیے کہ وہ ملک میں موجود قدرتی وسائل خصوصا گیس کو نکالا جائے۔ اگر کسی بھی مجبوری اور بیرونی دباﺅ کی وجہ سے یہ کام نہیں کیا جا سکا اور موجودہ توانائی بحران میں جلد از جلد بجلی گیس درآمد کرنا لازمی ہے تو ہمیں ضرور چاہئیے کہ اپنے برادر اسلامی ملک ایران سے درآمد کریں۔ جب ہم انڈیا سے ریل گاڑیوں کے انجن اور دیگر بہت سی چیزیں درآمد کر سکتے ہیں تو ایران سے کیوں نہیں، یہ تو ہمارا پڑوسی برادر اسلامی ملک ہے۔

ظاہر ہے مشکل وقت میں پڑوسی ممالک ہی ایک دوسرے کو سب سے پہلے سپورٹ کریں گے۔ لہٰذا پاکستان کو کسی قسم کا بھی امریکی دباﺅ اور امریکی دھمکیوں کو قبول نہیں کرنا چاہئیے۔ دیکھیں سابقہ حکومت نے تو ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں اب اس کی تکمیل تو آنے والی حکومت پر منحصر ہے کہ آیا وہ امریکی دباﺅ کو مسترد کرتے ہیں یا اس قبول کر لیتے ہیں۔ مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے اپنے مفاد میں فیصلے کرنے میں آزاد ہے اور آنے والی حکومت کو بھی اس معاہدے پر کسی قسم کے بھی دباﺅ کو قبول نہیں کرنا چاہئیے۔ چونکہ پاکستانی کمپنیوں اور بینکوں نے امریکی پابندیوں کے ڈر سے اس معاہدے پر سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا ہے تو اطلاعات ہیں کہ پاکستان نے ایران سے درخواست کی ہے کہ وہ اس میں سرمایہ کاری کرے اور منافع میں اخراجات کو ایڈجسٹ کر لیا جائے گا۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ کو انتخابات ہوتے نظر آ رہے ہیں؟
شمشاد خان غوری: مہاجر قومی موومنٹ نے اپنے طور پر انتخابات کے حوالے سے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ مگر میری ذاتی رائے کے مطابق انتخابات ہونے کے چانسز 50-50 فیصد ہیں۔ بہت سے عناصر ہیں کہ جو چاہتے ہیں کہ حالات خراب کرکے انتخابات کو جتنا ہو سکے آگے بڑھایا جا سکے، بہرحال انتخابات کو بروقت مگر شفاف، غیر جانبدارانہ، منصفانہ انداز میں ہونا چاہئیے اور ایک محب وطن حکومت کو برسر اقتدار آنا چاہئیے جو پاکستان کو درپیش بحرانوں سے باہر نکال سکے۔ مگر آپ بتائیں کہ کراچی میں آہنی رکاوٹوں، نوگو ایریاز اور خود ساختہ چوکیداری نظام کی وجہ سے کیسے ممکن ہے کہ لوگ اپنی رائے کا کھل کر اظہار کر سکیں، کیسے ممکن ہے کہ اس صورتحال میں شفاف انتخابات ہو سکے۔ سپریم کورٹ میں بھی ان مسائل پر اور کراچی بدامنی پر سماعت جاری ہے، اس نے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو احکامات جاری کئے ہیں کہ نوگوایریا، آہنی رکاوٹوں سمیت تمام مسائل کو خاتمہ کیا جائے تاکہ لوگوں کو خوف و ہراس کی فضاء سے باہر آنے کا موقع ملے اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن بنایا جا سکے۔

اسلام ٹائمز: کراچی بدامنی کے خاتمہ کا کیا حل پیش کرتے ہیں؟
شمشاد خان غوری: پولیس، رینجرز سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ میں نہیں سمجھتا کہ فوج کی ضرورت ہے، رینجرز کی ضرورت ہے۔ صرف آپ پولیس کو ہی فری ہینڈ دے دیں، صحیح معنی میں اختیارات دے دیں، پولیس کے اندر سے کالی بھیڑوں کو نکال دیا جائے، ان کا خاتمہ کردیا جائے، لسانی سیاسی جماعت کے حلف یافتہ افراد کو نکال دیا جائے۔ کراچی کو اسلحہ سے پاک کیا جائے۔ میں یہ کہتا ہوں آپ ہماری جماعت مہاجر قومی موومنٹ سے شروع کریں، ہم تعاون حاصل ہو گا۔ جن جماعتوں نے مسلح ونگز بنا رکھے ہیں ان کو ختم کیا جائے، دہشت گردوںکی سیاسی وابستگیوں کو منظر عام پر لایا جائے، انہیں سزا دی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ کراچی سے بدامنی کا خاتمہ ممکن ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ نے سانحہ عباس ٹاﺅن کے حوالے سے مجلس وحدت مسلمین کے کردار کا تذکرہ کیا، اور جیسا کہ وہ کراچی سمیت ملک بھر سے عام انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے کر رہی ہے، کیا ان سے کوئی رابطہ ہوا ہے آپ کا؟
شمشاد خان غوری: میں اسلام ٹائمز کے توسط سے سب سے پہلے مجلس وحدت مسلمین کے رہنماﺅں کی جرات اور معاملہ فہمی کو سلام پیش کرتا ہوں کہ دیر سے صحیح مگر انہوں نے کراچی پر قابض لسانی سیاست کرنے والی جماعت کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے اور اپنی قوم کو ان سے بچانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ لہٰذا قوم بھی سمجھ رہی ہے اور اسے چاہئیے کہ مجلس وحدت مسلمین کے پیغام کو سمجھے، وہ سب کچھ سمجھ چکے ہیں، وہ سب کچھ جان چکے ہیں۔ عباس ٹاﺅن میں جو دھماکہ ہوا، کراچی میں جو شیعہ سنی ٹارگٹ کلنگ جو ہو رہی ہے اس حوالے سے مجلس وحدت مسلمین اور شیعہ کمیونٹی نے لسانی جماعت کے کردار کو سمجھ لیا ہے۔ ہم ان کے سیاست میں وارد ہونے کو کراچی کیلئے اچھا شگون سمجھتے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین کے لوگ ہمیں اپنا بھائی سمجھیں، میں ان سے ملنے کا خواہشمند ہوں، ان کے ساتھ بیٹھنے کا خواہشمند ہوں۔ ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے پاس آئیں ان کی مہربانی ہوگی، اگر وہ ہمیں بلانا چاہئیں تو ہمیں انتہائی خوشی ہوگی اور ہم ان سے ضرور ملنا چاہیں گے۔
خبر کا کوڈ : 249611
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش