0
Friday 12 Dec 2014 21:32
نون لیگ ایک خاندان کی جماعت بن کر رہ گئی ہے

مسلم لیگ کسی کے باپ کی جاگیر نہیں، پارٹی چھوڑ رہاہوں نہ فاروڈبلاک بن رہا ہے، ذوالفقار کھوسہ

حکمران جماعت میں کارکن نظرانداز، پرویز مشرف کے ساتھی اقتدار پر قابض ہیں
مسلم لیگ کسی کے باپ کی جاگیر نہیں، پارٹی چھوڑ رہاہوں نہ فاروڈبلاک بن رہا ہے، ذوالفقار کھوسہ
سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ 20 اکتوبر 1935ء میں جنوبی پنجاب کے علاقہ بہادر گڑھ، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق کھوسہ بلوچ قبیلے سے ہے، اپنے والد کی وفات کے بعد 1935ء میں ہی اپنے قبیلے کے ‘‘تمن دار’’بنا دیئے گئے۔ سردار ذوالفقار کھوسہ 17 اگست 1999ء سے 12 اکتوبر 1999ء تک گورنر پنجاب کے عہدے پر فائز رہے۔ آپ کے تین فرزند، حسام الدین خان کھوسہ، سیف الدین خان کھوسہ اور دوست محمد کھوسہ ہیں، دوست محمد کھوسہ وزیراعلیٰ پنجاب بھی رہ چکے ہیں۔ سینئر سیاست دان ہیں، محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم میں اُس وقت کے آمر کے خلاف سرگرم رہے۔ اول روز سے ہی مسلم لیگی ہیں اور مسلم لیگ میں ہی رہے۔ پنجاب کی سیاست میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ آج کل حکومت سے ناراض ہیں، اس حوالے سے خبریں گردش کر رہی تھیں کہ وہ نئی جماعت یا مسلم لیگ میں ہی فاروڈ بلاک بنانے کے لئے سرگرم ہیں، ان کی حکومت سے علیحدگی نون لیگ کے لئے بہت بڑا دھچکا ثابت ہو رہی ہے۔ ‘‘اسلام ٹائمز’’ نے سیاسی صورتحال پر ان کے ساتھ ایک نشست کی ہے جس کا احوال قارئین کے لئے پیش کر رہے ہیں۔(ادارہ)
                                                             
اسلام ٹائمز: حکمران جماعت کے ساتھ اچانک آپ کے اختلافات سامنے آئے، آپ مسلسل نون لیگ کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، اختلافات کی وجہ کیا ہے؟
سردار ذوالفقار کھوسہ: مسلم لیگ پاکستان کی بانی جماعت ہے، کسی کے باپ کی جاگیر نہیں، جب میں نے محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم میں حصہ لیا اس وقت میاں صاحبان سکول جاتے ہوں گے، پھر ان کا سیاسی کیریئر تو تحریک استقلال سے شروع ہوتا ہے، یہ تو اس وقت مسلم لیگ میں شامل ہوئے جب غیر جماعتی بنیادوں پر اسمبلی بنی اور جنرل ضیاءالحق نے اسمبلی چلانے کے لئے مسلم لیگ بنائی، میاں نواز شریف تو جنرل جیلانی کے کہنے پر مسلم لیگ میں آئے، انہی کے کہنے پر وزیر خزانہ بنے اور پھر انہی جنرل جیلانی کے ہی کہنے پر وزیراعلٰی پنجاب بنایا گیا۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ آج قائداعظم کی مسلم لیگ کہیں بھی نظر نہیں آتی، البتہ نون لیگ، قاف لیگ اور نجانے کن کن ناموں سے مسلم لیگیں بن چکی ہیں۔ ہمیں کوئی مسلم لیگ سے اس لئے الگ نہیں کر سکتا کیوںکہ ہم کسی نون واؤ گروپ کا حصہ نہیں بلکہ قائداعظم محمد علی جناح کی مسلم لیگ کے کارکن ہیں، جس نے پاکستان بنایا تھا، بعدازاں قبضہ گروپ اس مسلم لیگ پر قابض ہو گئے اور سب نے اپنی اپنی دکانداری چمکانے کے لئے مسلم لیگ کو بانٹ کر رکھ دیا۔

آج مسلم لیگ کے تمام سینئرز ہمارے ساتھ ہیں۔ مسلم لیگ کے ساتھ نون لگاتے وقت کسی نے ہم سے مشورہ نہیں کیا۔ ہم تو کل بھی مسلم لیگی تھے اور آج بھی مسلم لیگ میں ہیں۔ جو کوئی اس پر قبضہ جمائے گا ہم اس کی مخالفت کریں گے۔ آج کی مسلم لیگ پر جن لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے انہوں نے نہ صرف پارٹی عہدوں بلکہ حکومتی عہدوں پر بھی خاندانی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ اتنی بڑی سیاسی پارٹی کہ جس کے 190 ایم این اے اور 200 کے قریب ایم پی اے ہوں ان کے تمام عہدے انہوں نے اپنے ہی خاندان کو دے رکھے ہیں۔ اس طرح حکومت سنبھالنے کے بعد وفاقی وصوبائی وزارتوں پر بھی انہی کے خاندان کے لوگ براجمان ہیں، وفاقی وزراء کو ہی دیکھ لیں، ان کے رشتہ دار اور خاندان کے افراد ہی ہیں، ہم پارٹی کو خاندانی ورثہ نہیں بنانا چاہتے، بلکہ اس کو جمہوری پارٹی بنانا چاہتے ہیں۔ ہم ملک میں آمریت پسند کرتے ہیں اور نہ ہی پارٹی میں۔ اس لئے ہم جیسے جمہوریت پسندوں کی ایک نہیں سنی جاتی، بلکہ ہر سو چاپلوسوں کا راج ہے۔ ہم مسلم لیگ کو مفاد پرستوں اور کرپٹ عناصر سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ آج مسلم لیگ میں کوئی مشرف کا ساتھی بیٹھا ہے تو کوئی پیپلز پارٹی کاسابق عہدیدار۔

آج مسلم لیگ نون میں وہ کارکن نظر نہیں آتے جنہوں نے ان کی جلا وطنی میں آٹھ نو برس مار کھائی، ایسے کارکن آج بھی مار کھا رہے ہیں۔ اور دربدر ہیں۔ جبکہ علی بابا اور چالیس چوروں کے ساتھ آج ان کے دوست اور ساتھ ہیں۔ جب یہ مشرف سے ڈیل کر کے جلا وطنی اختیار کر گئے تھے ہمیں کہتے تھے ہم کسی ڈیل کے نتیجہ میں باہر نہیں آئے بلکہ ہمیں زبردستی باہر نکالا گیا ہے مگر جب ان کا معاہدہ سامنے آیا تو انہوں نے شرمندگی تک محسوس نہ کی۔ غوث علی شاہ نے سچ کہا کہ جب بھی مسلم لیگ کمزور ہوئی یہ ملک کمزور ہوا، ہم اس ملک کو اب مزید ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ پرانے اور سینئر مسلم لیگی ایک پلیٹ فارم پر آ چکے ہیں سب مل کر اپنی اس پارٹی کو بچائیں گے اس لئے کہ اس کو بچانا پاکستان کو بچانا ہے، مفاد پرست تو اس پارٹی کا نام استعمال کر کے لوگوں کو بے وقوف بناتے آئے ہیں۔ اب ہم انہیں برداشت نہیں کریں گے آج اگر کوئی مسلم لیگ کے ساتھ جمٹا ہوا ہے تو وہ صرف پاور کے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔ ان لوگوں نے مسلم لیگ کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان کے ساتھ کون سا حقیقی مسلم لیگی ہے، سب اپنے مفادات کے لئے ان کے ساتھ ہیں، آج ان کے ہاتھ سے اقتدار چلا جائے تو سب ان کی چھتری سے اڑ کر اپنی اپنی منڈیر پر جا بیٹھیں گے۔ یہ کیسی دوغلی پالیسی ہے کہ یہ مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلا رہے ہیں اور اس کے ساتھیوں کو اپنے ساتھ بٹھا رکھا ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ کسی دوسری پارٹی کو جوائن کر رہے ہیں یا مسلم لیگ میں ہی اپنا الگ فارورڈ بلاک بنانے جا رہے ہیں؟
سردار ذوالفقار کھوسہ: ہم نے ان کا اس وقت ساتھ دیا جب کوئی ان کا ساتھ دینے کو تیار نہ تھا، جب یہ باہر چلے گئے تو ہم میٹنگز میں ان کی طرف سے بیان جاری کرتے کہ انہوں نے جدہ سے یہ فرمان جاری کیا ہے، جب کہ یہ تو وہاں سے بولتے تک نہیں تھے، کہ وہاں سے بھی باہر نہ نکال دیئے جائیں، ہم ان کی طرف سے اس لئے بیان جاری کرتے کہ کارکنوں کے حوصلے بلند رکھے جائیں یہ نہیں کہ مجھ پر دباؤ نہ تھا بلکہ مجھے تو مشرف دور میں ان کی پارٹی میں شامل کرنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا مگر میں نہ جھکنے والا تھا، نہ بکنے والا، چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی نے ان کا کتنا ساتھ دیا، ٹھیک ہے کہ انہوں نے وزارت عظمٰی اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ حاصل کر لی ورنہ وہ بھی آج دربدر ہوتے، اس لئے واپس آ کر انہوں نے انہیں بھی نہیں پوچھا، یہ صرف چاپلوسوں کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں، خاندانی اور اصولوں پر سیاست کرنے والوں کو یہ پسند نہیں کرتے، اس لئے ایک ایک کر کے سارے سینئر مسلم لیگی انہیں چھوڑ چکے ہیں۔

شریف برادران کو سینئرز کا احترام کرنا نہیں آتا، یہی وجہ ہے کہ آج میاں اظہر، غوث علی شاہ، سردار یعقوب ناصر، جاوید ہاشمی اور راجہ نادر پرویز جیسے سینئرز آج ان کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے نقاد ہیں، یہ اپنے ساتھیوں کی عزت نہیں کرتے، ان کا رویہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھی اچھا نہیں ہوتا، یہ وجہ ہے کہ عزت دار ان کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ نون لیگ میں نواز شریف نے آمریت قائم کر رکھی ہے، 1985ء سے لے کر اب تک کتنے بڑے بڑے نام ہیں جو ان کے ساتھ تھے، آج سب ان سے الگ ہو چکے ہیں، یہ ہر چیز خود سمیٹنا چاہتے ہیں، کسی کو کچھ دینا نہیں چاہتے، یہاں تک کہ کسی کو عزت تک نہیں دیتے، ان کے اسی غیر مہذب رویے سے لوگ انہیں چھوڑ جاتے ہیں، میں مسلم لیگ کو اس لئے نہیں چھوڑ رہا کہ میں ان سے پہلے اس جماعت میں تھا، میں بھلا مسلم لیگ کیوں چھوڑوں، چھوڑنا ہے تو یہ چھوڑ کر چلے جائیں، میں نے نہ تو کوئی فارورڈ بلاک بنایا ہے اور نہ الگ گروپ، بلکہ کارکنوں کی عزت نفس بحال کرنے کے لئے اپنی آواز اٹھا رہا ہوں، میں ان سے ملنے کا خواہش مند نہیں، بلکہ میں ناانصافی کے خلاف احتجاج کر رہا ہوں، جو انہوں نے ملک کے عوام اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ روا رکھی ہے، اصلاح کے لئے میں پارٹی کے اندر رہ کر کام کروں گا۔

میرا کسی اور پارٹی کو جوائن کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، نہ ہی میں کسی کے اشارے پر ایسا کر رہا ہوں، میری اپنی سوچ اور اپنی فکر ہے، میں ملک کے اندر گڈگورننس قائم کرنا چاہتا ہوں، کیا یہ گڈگورننس ہے کہ آپ آج تک بجلی پوری طرح بحال نہیں کر سکے کہ جس کا نعرہ لگا کر آپ الیکشن جیت کر آئے تھے۔ آج کارخانوں اور ملوں میں کام کرنے والے بے روز گاری کا شکار ہیں۔ ملز مالکان بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے شدید مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مظلوموں کی داد رسی نہیں ہو رہی، تھانے کچہری کا وہی نظام قائم ہے جہاں غریب کی ایک بھی سنی نہیں جاتی، دوسری طرف آپ صرف لیپ ٹاپ تقسیم کر کے اپنا فرض ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ قوم کے خزانے سے خریدے گئے ان لیپ ٹاپ پر اپنی تصویر لگانے کا کیا جواز، پھر اس میں بھی شفافیت قائم نہیں کی گئی، سستی روٹی کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنایا گیا ہے۔

لاہور میں میڑو بس منصوبے پر گیارہ ملین ڈالر ایک کلو میٹر پر لگا دیئے گئے جبکہ راولپنڈی اسلام آباد میں بیس ملین ایک کلو میٹر پر لگائے جا رہے ہیں، جبکہ بھارت میں میڑو بس منصوبے پر ایک کلومیٹر پر 3 ملین ڈالر خرچ کئے گئے۔ میٹرو بس منصوبہ ہو یا کوئی اور منصوبہ یہ اپنوں کو نوازنے کے لئے شروع کئے جاتے ہیں۔ صرف چند لوگوں کو نوازنے کے لئے یہ چالیس چالیس پچاس پچاس ارب ڈالر خرچ کر دیتے ہیں۔ جس مکل میں عوام کے لئے پینے کا صاف پانی مہیا نہ ہو لوگ گندے پانی کی وجہ سے ہیپاٹائٹس جیسی موذی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہوں وہاں میٹرو بسوں پر اربوں روپے لٹانا عیاشی نہیں تو اور کیا ہے۔ آپ ان ممالک میں جا کر معاہدے کر رہے ہیں جہاں سے کمیشن ملے۔ اپنی کمپنیوں کو ٹھیکے دیئے جا رہے ہیں۔ آپ گوگل پر جا کر سرچ کریں آپ کو پتہ چل جائے گا کہ چین اور ترکی کی کمپنیاں ہی پوری دنیا میں کمیشن کے حوالے سے مشہور ہیں۔ جس ملک میں پانی ہے نہ گیس، بجلی ہے نہ ضروریات زندگی کی چیزیں وہاں بادشاہ سلامت ہر دوسرے دن لندن، امریکہ، استنبول، چین اور پتہ نہیں کہاں کہاں کی سیر کرتے پھرتے ہیں۔ پھر اکیلے نہیں جاتے، خاندان کے افراد کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ ان کے غیر ملکی دورے خالصتاً کاروباری ہوتے ہیں جس پر اپوزیشن اعتراض کرتی ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ کو اور آپ کے بیٹے کو بھی تو پنجاب میں اہم ترین عہدے ملے، آُپ کو گورنری دی آپ کے بیٹے کو وزیراعلٰی بنایا آپ پھر بھی مایوس ہیں۔؟
سردار ذوالفقار کھوسہ: انہوں نے اگر مجھے ایک مرتبہ گورنر بنایا یا دوسرے عہدے دیئے تو یہ میری کارکردگی اور قابلیت کو مدنظر رکھ کر دیئے گئے۔ میں نے بھی پوری ایمانداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، ہم نے بھی اپنے یا اپنے خاندان کے کسی فرد کے لئے کبھی وزارت یا سفارت نہیں مانگی، ہمیں ہماری پارٹی خدمات اور قابلیت کے لئے یہ عہدے دیئے گئے۔ ہم نے بھی نہایت جرات اور عزت کیساتھ یہ کردار ادا کیا۔ آج تک کوئی ہماری طرف انگلی نہیں اٹھا سکتا۔

اسلام ٹائمز: لیکن دوست محمد کھوسہ کے تو سکینڈل سامنے آ چکے ہیں؟
سردار ذوالفقار کھوسہ: ہاں جہاں تک دوست محمد کھوسہ کے میڈیا ٹرائل کی بات ہے تو اس کے پیچھے پرویز رشید کی ساری ڈرامہ بازی تھی، میں نے شہباز شریف کے سامنے واضح طور پر کہا تھا کہ وزیر اطلاعات ٹی وی چینلز اور اخبارات کے ذریعے میرے بیٹے کی کردار کشی کر رہا ہے، جب حمزہ شہباز کی شادی کا سکینڈل چلا تو انہوں نے دو تین دن میں اسے ختم کروا دیا جبکہ میرے بیٹے کے حوالے سے پرویز رشید خود جا کر ٹی وی چینلز کے مالکان اور اینکرز سے ملتا رہا، جب میں نے یہ شکایت کی تو وزیر اعلٰی نے پرویز رشید سے پوچھا تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا، ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس قسم کے سکینڈل گھڑ کے میرے بیٹے اور میرے خاندان کو بدنام کریں گے۔ میں ان کی کسی گیدڑ بھبھکی یا اس قسم کے میڈیا ٹرائل سے گھبرا کر ان کے سامنے جھکا نہیں، حق کی آواز بلند کرتا رہا ہوں، ہمیں لغاری خاندان کیساتھ مسلم لیگ نون کی قیادت کی قربت کا بھی دکھ ہے، کہ انہوں نے ان کے ساتھ سیاسی الحاق کر کے ہمارے حلقے کو شدید طور پر متاثر کیا۔ ہمارے خاندان میں دراڑیں ڈالی گئیں۔ مگر ان کا کوئی ہتھکنڈا بھی کامیاب نہ ہوا، اس لئے کہ ہم کسی عہدے یا وزارت کے لئے سیاست نہیں کرتے۔ ہم اپنے علاقے کے عوام کی خدمت اور اپنے نام نسب کے لئے سیاست کرتے ہیں، شرافت ہی ہماری سیاست کی پہچان ہے، ہم اس پر داغ نہیں لگنے دیں گے۔

اسلام ٹائمز: عمران خان کہہ رہے ہیں کہ نون لیگ نے الیکشن میں دھاندلی کی، اس کے خلاف وہ مسلسل احتجاج کر رہے، اب ہڑتال کی کال بھی دے چکے ہیں، پورا ملک بند کروا رہے ہیں، کیا الیکشن میں واقعی نون لیگ نے دھاندلی کی تھی؟
سردار ذوالفقار کھوسہ: انتخابی دھاندلی کے حوالے سے عمران خان کا مطالبہ سچ پر مبنی ہے۔ انتخابات میں دھاندلی کی شکایات عام ہیں، پھر ہر صوبے کے تحفظات بھی ہیں، جب ملک کی تمام جماعتیں ہی دھاندلی دھاندلی کا شور مچا رہی ہیں تو پھر انتخابات کے نتائج مشکوک ہو جاتے ہیں، عمران خان کا دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ غیر آئینی نہیں، پھر اگر وہ غیر جانبدار الیکشن کمیشن کا مطالبہ کر رہے تھے تو اس میں کیا حرج ہے، اگر حکومت نے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کے لئے سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا تو اس پر عمل درآمد کیوں نہ ہو سکا۔ یہ تو عمران خان کی کال ہے کہ ہڑتال اور مظاہرے کئے جائیں، ہمارا ان کی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں مگر نجکاری اور بے روزگاری کے ستائے ہوئے لوگ عمران خان کے جلسوں میں پہنچ رہے ہیں۔ عمران کی کال پر بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے ستائے ہوئے شہری ہی نکل رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: جو کچھ فیصل آباد میں ہوا، اس کے حوالے سے کیا کہیں گے، اس طرح ملک میں خانہ جنگی نہیں شروع ہو جائے گی؟ ابھی لاہور میں بھی احتجاج ہونا ہے؟
سردار ذوالفقار کھوسہ: فیصل آباد میں جو کچھ ہوا وہ حکومت کے چند وزراء کی جہالت کی وجہ سے ہوا۔ احتجاج کرنا ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے، کوئی بھی حکمران عوام سے ان کا یہ حق نہیں چھین سکتا۔ فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کے مقابلے میں نون لیگ کے کارکنوں کو لانے والوں نے انتہائی احمقانہ حرکت کی ہے۔ اسی طرح کارکنوں کو کارکنوں سے لڑاتے رہے تو ملک بھر میں خانہ جنگی کا احتمال ہے، پھر یہ اقدام حکومت کے پاؤں پر کلہاڑی ہو گا جو اس کے ناعاقبت اندیش وزراء ہی مار رہے ہیں۔ اس جلاؤ گھیراؤ سے ملکی وحدت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس لئے حکمرانوں کو ٹھنڈے دماغ سے مسئلہ حل کرنا چاہیئے۔ مذاکرات کا سلسلہ نیک نیتی سے آگ بڑھایا جائے تو اچھے نتائج نکل سکتے ہیں، اور اگر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے تحت مذاکرات کرنے جا رہے ہیں تو یہ عمران خان کے ساتھ نہیں حکمران خود اپنے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: مذاکرات کا جو سلسلہ اب شروع ہوا ہے آپ کس حد تک پرامید ہیں کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے؟
سردار ذوالفقار کھوسہ: مجھے تو حکومتی مشیروں اور وزیروں سے خیر کی کوئی توقع نہیں، وہ خود مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے ماہر ہیں، اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے، وہ اس کا پرامن حل نکال سکتے ہیں، اور حکومت اپنی ہٹ دھرمی سے ایک بار پھر معاملات بگاڑ بھی سکتی ہے، تو میرے خیال میں حکومت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے، یہ مذاکرات بھی ڈرامہ ہیں، اور محض وقت گزاری کے لئے پی ٹی آئی کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے، اس کا کوئی نتیجہ نکلتا مجھے تو نظر نہیں آ رہا لیکن میں دعاگو ضرور ہوں کہ اللہ پاک حکومت کو نیک نیت بننے کی توفیق دے۔ اور ملک اس سیاسی بحران سے نکلے۔ حکمران تو کہتے ہیں کہ دھرنوں کی وجہ سے ملکی معیشت تباہ ہو رہی ہے میں کہتا ہوں دھرنوں سے نہیں حکمرانوں کے ‘‘مرنوں’’ سے معیشت تباہ ہو رہی ہے، حکومت کی پالیسیوں سے معیشت تباہی کی طرف جا رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: یہ داعش کا کیا ڈرامہ ہے، کوئی کہتا ہے پاکستان میں آ چکی ہے تو کوئی کہتا ہے آ رہی ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں؟
سردار ذوالفقار کھوسہ: دیکھیں جی، اس حکومت کے کالعدم جماعت کے ساتھ تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں، پھر ایک صاحب ہیں، جو وزیر نہ ہو کر بھی پورا پروٹوکول وزیر کا استعمال کر رہے ہیں، سارے کام وزیر والے کرتے ہیں، اختیار بھی ان کے پاس اتنے ہی ہیں، اس وزیر کو تو میں ‘‘وزیر دہشت گردی’’ ہی کہوں گا۔ کیوں کہ ان کے پاس پنجاب میں اس وقت کوئی بھی وزارت نہیں لیکن وہ ایک وزیر کا پروٹوکول لئے گھوم پھر رہے ہیں۔ تو وہ وزیر دہشت گردی ہی ہوئے۔ ان کی پنجاب میں موجودگی تک دہشت گردی نہیں رک سکتی، اس حکومت میں دہشت گردوں کو بہت ریلیف ملتا ہے، پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے، اس لئے بعید نہیں کہ انہوں نے خود ہی داعش کو دعوت دے دی ہو، ہو سکتا ہے، شہباز شریف نے داعش کو کہا ہو، یا ان کے وزیر دہشت گردی نے، کہ داعش پاکستان میں آ جائے، تاکہ ان کی حکومت میں ان کو پنپنے کا موقع ملے، ان کی حکومت کے ختم ہوتے ہی وہ باہر نکل آئے اور دہشت گردی شروع کر دے، کیوں کی ان کی جائیدادیں اور کاروبار تو سب کے سب باہر ہیں، یہ حکومت ختم ہوتے ہی فرار ہو جائیں گے، پیچھے رہ جائے گا غریب پاکستان اور دہشت گرد، تو دہشت گرد نئی حکومت کے لئے ٹف ٹائم پیدا کریں گے۔ اللہ کرے میرا یہ اندازہ غلط ہو، خدا ہمارے ملک کو سلامت رکھے۔
خبر کا کوڈ : 425251
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے