2
0
Friday 8 Sep 2017 23:55
اب سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے دوست ممالک بھی سمجھتے ہیں کہ جہادی تنظیموں کے اڈے پاکستان میں موجود ہیں

برکس اعلامیہ امریکی مؤقف کی تائید اور امریکی لائن آف ایکشن پر ہے پاکستان چشم پوشی اختیار نہیں کر سکتا، پروفیسر ڈاکٹر مطاہر احمد

پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے ایک بہت مضبوط سیکشن کے مفادات امریکا سے جڑے ہوئے ہیں، جو امریکا پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریگی
برکس اعلامیہ امریکی مؤقف کی تائید اور امریکی لائن آف ایکشن پر ہے پاکستان چشم پوشی اختیار نہیں کر سکتا، پروفیسر ڈاکٹر مطاہر احمد
پروفیسر ڈاکٹر شیخ مطاہر احمد پاکستان کی معروف درسگاہ جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ آپ 1995ء میں بحیثیت لیکچرر جامعہ کراچی سے وابستہ ہوئے تھے۔ اس سے قبل آپ 1988ء سے لیکر 1995ء تک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز میں تدریسی و تحقیقی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ آپ بین الاقوامی تعلقات سے متعلق موضوعات پر کئی کتابوں کے مصنف بھی ہی اور مشرق وسطیٰ سمیت عالمی ایشوز پر آپ گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے برکس سربراہی اجلاس کا اعلامیہ، پاکستان میں دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، پاکستان کا برکس اعلامیہ کو مسترد کرنا سمیت دیگر موضوعات کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر شیخ مطاہر احمد کے ساتھ انکی رہائش گاہ پر ایک اہم نشست کی، اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: چین کے شہر شیامن میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس کے اعلامیہ میں پاکستان میں موجود دہشتگرد گروپوں کو علاقائی سیکیورٹی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا،پاکستان نے اس اعلامیہ کو کو مسترد کر دیا، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شیخ مطاہر احمد:
ہر ریاست کا اپنا قومی مفاد ہوا کرتا ہے، ہر ریاست اپنے قومی مفاد کے تابع ہوتی ہے، بین الاقوامی تعلقات میں آپ کسی بھی ریاست کے کتنے ہی قریب کیوں نہ ہوں، مفاد زیادہ قریب ہوا کرتے ہیں، گوکہ چین اور پاکستان کے تعلقات بہت پرانے ہیں، لیکن اس کے باوجود جب چینیوں نے یہ دیکھا کہ دہشتگردی سمیت بہت سے مسائل ہمارے لئے بھی کھڑے ہو رہے ہیں، خاص طور پر مسلم اکثریتی چینی صوبے سنکیانگ میں، اس حوالے سے چین نے شواہد کی بنیاد پر پاکستان کو یہ باور بھی کرایا کہ یہاں سے بہت سے لوگ پاکستانی مدارس میں پڑھنے بھی آتے ہیں اور پھر یہاں سے تربیت لینے کے بعد افغانستان بھی جاتے ہیں، پھر وہ سنکیانگ واپس آ کر دہشتگرد کارروائیاں بھی کرتے ہیں، چین نے 2002ء سے لیکر غالباً 2012ء تک چار چھ بار سرکاری سطح پر پاکستان سے احتجاج بھی کیا ہے، جسے پاکستان نے سمجھا بھی اور کسی حد تک اس حوالے سے اقدامات بھی کئے۔ بین الاقوامی تعلقات میں آپ اپنے بارے میں کوئی بھی رائے رکھیں، لیکن جو دنیا کی اجتماعی طور پر جو رائے ہوتی ہے، پوری دنیا اس پر چلتی ہے، کسی فرد واحد یا کسی ایک ملک کی رائے پر نہیں چلا کرتی، پاکستان لاکھ کہتا رہے کہ ملک میں دہشتگردی ختم ہو گئی ہے، دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم ہو گئے ہیں، دہشتگرد تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی ہے، لیکن دنیا ابھی تک اس پاکستانی بیانیے کو سمجھ نہیں پائی، ایسے بہت سے ممالک ہیں کہ جن سے پاکستان کے تجارتی اور معاشی تعلقات بھی ہیں، اس میں چین سرفہرست ہے، اب خصوصاً اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے، سب نے یہ بھی دیکھا کہ کئی دفعہ جب مولانا مسعود اظہر کو دہشتگرد قرار دینے کی بات کی گئی تو چین نے متعدد بار اسے ویٹو کیا، بھارت کو ڈکلیئر نہیں کرنے دیا، وہ کیونکہ ان کے مفاد میں تھا، لہٰذا یہ سب چیزیں ہوئیں، پچھلے سال جب برکس سربراہی کانفرنس بھارت میں ہوئی تھی، تو اس وقت بھارت نے بہت زیادہ سفارتی کوششیں کیں یہ کہتے ہوئے کہ کسی طرح مذمت کی جا سکے ان تمام جہادی تنظیموں کی، جو پاکستان سے آپریٹ کرتی ہیں، لیکن پچھلے سال چین نے بات نہیں سنی اور چین کی وجہ سے قرارداد میں جہادی تنظیموں کے نام شامل نہیں ہو سکے، لیکن آج ایک سال کے بعد یہ برکس سربراہی کانفرنس چین میں منعقد ہوئی، جبکہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان بھی آیا کہ جس میں انہوں نے پاکستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کی بات کی، برکس اعلامیے میں بھی تقریباً وہی بات کی گئی جو امریکا کر رہا تھا، جسے پاکستان نے امریکی صدر کے بیان کی طرح مسترد کر دیا ہے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرا جا رہا ہے، اس سے محسوس یہ ہو رہا ہے کہ یہ چیزیں رکیں گی نہیں، بلکہ اور بہت آگے جائیں گی، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان ایسی سفارتی کوششیں کرے کہ جس میں کم از کم اسکے جو دوست ممالک ہیں، ان کا پاکستان پر اعتماد قائم ہو سکے۔

اسلام ٹائمز: کیا برکس اعلامیہ میں پاکستان سے متعلق بات حالیہ امریکی دباؤ کا نتیجہ ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شیخ مطاہر احمد:
اس میں کوئی امریکی دباؤ والا معاملہ نہیں ہے، 2001ء کے بعد دہشتگردی کی لہر کو ایشیا، یورپ، امریکا سمیت دنیا بھر میں دیکھا گیا، دہشتگردی اب ایسی اجتماعی اصطلاح بن چکی ہے کہ ہر ملک اب یہ سمجھتا ہے کہ دہشتگردی اب اس کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے، امریکا نے یہ بات کہی، چین نے کہی، 2001ء کے بعد اقوام متحدہ کی متعدد قراردادیں ہیں، جس پر پوری دنیا نے دستخط کئے، ان میں بہت ہی کھلے الفاظ میں یہ کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کی کارروائی چاہے جس ملک میں بھی ہو، یہ تمام دستخط کرنے والے ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ مل کر اس کے خلاف کارروائی کرینگے، پاکستان نے بھی ان پر دستخط کئے ہیں، چین نے بھی کئے، امریکا نے بھی کئے، دہشتگردی کا معاملے میں کوئی کسی کے دباؤ میں نہیں ہے، لیکن ہر ملک اپنے مفاد کو دیکھتا ہے، چین کا معاملہ سنکیانگ صوبے سے جڑا ہو اہے، جہاں ایک علیحدگی پسند تحریک سو سال سے چل رہی ہے، وہ زیر زمین ایک تحریک ہے، ان کو افغان جہاد کے دوران اسلحہ، پیسہ بھی ملا، لیکن اس وقت چین کے مفادات بالکل مختلف تھے اور وہ خود کیونکہ سوویت یونین کے خلاف تھا، لہٰذا اس وقت یہ بات دب گئی، لیکن سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد اب وہی چین ہے، جو بہت سخت پالیسی رکھتا ہے سنکیانگ کے بارے میں، حالیہ برکس اعلامیے میں جو چین نے کچھ نہیں کہا، رکاوٹ نہیں بنا، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چین کے دو داخلی معاملات ہیں، اس میں چین یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس قسم کی دہشتگرد تنظیموں پر پابندی نہیں لگائی گئی تو ناصرف یہ کہ چین کیلئے مسئلہ بنے گا، بلکہ پڑوسی ممالک اور خطے میں پائیدار امن کبھی قائم نہیں ہو سکے گا۔

اسلام ٹائمز: کیا برکس اعلامیہ پاکستان سے متعلق حالیہ امریکی مؤقف کی تائید کرتا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شیخ مطاہر احمد:
جی بالکل، برکس اعلامیہ امریکی مؤقف کی تائید کرتا ہے اور ان قراردادوں کی بھی تائید کرتا ہے جو اقوام متحدہ کی طرف سے منظور ہوئی ہیں، پاکستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے حوالے سے امریکا انتہائی سخت مؤقف رکھتا ہے، 2011ء میں تو امریکی جنگی جہاز یہاں آ چکے تھے اور انہوں نے سلالہ پر حملہ بھی کیا بغیر بتائے، لہٰذا حالیہ برکس اعلامیہ پر ہم اتنی آسانی سے چشم پوشی اختیار نہیں کر سکتے، برکس اعلامیہ بالکل امریکی لائن آف ایکشن پر ہے، کیونکہ یہ معاملہ دہشتگردی کا ہے، اس وجہ سے اس پر تمام ممالک اتفاق رائے بھی رکھتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا برکس اعلامیہ پاکستانی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شیخ مطاہر احمد:
ناکام تو میں نہیں کہوں، لیکن پاکستان کا بیانیہ یہ کہ ایک طرف تو پاکستان چاہتا ہے کہ کشمیر کا معاملہ حل ہو اور 1999ء کے بعد سفارتی کوششیں بھی ہوئیں، لیکن معاملہ حل نہیں ہو سکا، دوسری جانب وہ یہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں ایک ایسی غیر جانبدار حکومت ہو کہ جو افغان عوام کیلئے بھی قابل قبول ہو، ایران و پاکستان کیلئے بھی قابل قبول ہو، لیکن بدقسمتی سے اب تک جتنی بھی حکومتیں افغانستان میں آئیں، وہ یا تو بھارت سے دوستی کی خواہاں ہیں، ایران سے دوستی کی خواہاں ہیں، لیکن پاکستان سے انکی دوستی نہیں ہے، تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی قوتوں کا افغانستان میں ہونا ضروری ہے جو کم از کم پاکستان کیلئے دوستانہ جذبات رکھتی ہوں، لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا، تو اس وجہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ہم ناکام نہیں کہہ سکتے، لیکن یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کو بہت زیادہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: برکس اعلامیہ اگر خارجہ پالیسی کی ناکامی نہیں پھر کیا یہ حقیقت پسندانہ مؤقف ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شیخ مطاہر احمد:
اگر آپ 1947ء سے پاکستانی خارجہ پالیسی کو دیکھیں تو وہ تقریباً رہی نہیں ہے، وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی چونکہ کوئی داخلہ پالیسی کوئی نہیں ہے تو خارجہ پالیسی کیسے ہوگی، ہر تین چار پانچ سال بعد الیکشن ہو جاتے ہیں یا مارشل لاء لگ جاتا ہے، جب مارشل لاء لگتا ہے تو ان کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں، جب سول حکومت ہوتی ہے تو وہ فوج کے اتنے دباؤ میں ہوتی ہیں کہ جو فوج چاہے، وہ انہیں کرنا پڑتا ہے، جب ہماری پڑوس یا دنیا میں کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اسی وقت ہم وقتی طور پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں، لیکن لانگ ٹرم بنیادوں پر کوئی مربوط اور واضح پالیسی پاکستان کی نہیں ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ سارے مسائل پاکستان کو بھگتنے پڑتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا چین سمیت پاکستان کے دوست ممالک بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شیخ مطاہر احمد:
اب مسئلہ سب سے بڑا یہ ہے کہ جو پاکستان کے دوست ممالک ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ جہادی تنظیموں کے اڈے پاکستان میں موجود ہیں، خصوصاً حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے، یہ بھی دیکھا گیا کہ افغان طالبان کے سربراہ جو ایران جا رہے تھے یا وہاں سے آرہے تھے، انہیں راستے میں پاکستانی سرزمین پر فضائی حملے میں مار دیا گیا اور اس وقت یہ بات سامنے آئی کہ افغان طالبان سربراہ پاکستان میں کیا کر رہے تھے اور کیسے ان کو پاکستانی شناختی کارڈ ملا، اس طرح ایسے بہت سے واقعات ہیں، جس سے دنیا یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کی پوشیدہ حمایت انہیں حاصل ہے، اسی حوالے سے کوئٹہ شوریٰ، پشاور شوریٰ کے نام سامنے ہیں، کوئٹہ اور پشاور جو کہ پاکستانی شہروں کے نام ہیں اور شوریٰ ظاہر ہے کہ افغان طالبان کے حوالے سے ہے، اس تناظر میں اس بات کی اور زیادہ تائید ہو جاتی ہے کہ یا تو پاکستان کی حمایت بالکل واضح ہے یا پھر درپردہ حمایت ہے، کیونکہ دنیا یہ دیکھتی ہے کہ ایک شوریٰ پشاور میں بیٹھی ہے، ایک کوئٹہ میں شوریٰ بیٹھی ہے، تو پاکستان کیلئے بڑی مشکل ہو جاتی ہے یہ کہنا کہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ شوریٰ کے نام تک پاکستانی شہروں کے نام پر ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا برکس اعلامیہ درحقیقت پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پر سوالیہ نشان ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شیخ مطاہر احمد:
پاکستان میں جہادی تنظیموں کا سلسلہ جنرل ضیاء کے زمانے میں شروع ہوا تھا کہ جب افغانستان میں جہاد کا معاملہ ہوا تھا، تو اس وقت یہ تمام جہادی تنظیمیں پاکستان سے آپریٹ کرتی تھیں، سامنے چونکہ سوویت یونین تھا تو امریکا، چین اور جتنے بڑے ممالک تھے وہ پاکستان کی حمایت کیا کرتے تھے اور پاکستان ان جہادی تنظیموں کو اپنا اثاثہ بھی کہا کرتا تھا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 9/11 کے واقعے سے پہلے جنرل پرویز مشرف نے بھی یہ بات کہی تھی کہ یہ مجاہدین نہیں ہیں، بلکہ یہ پاکستان کے اسٹراٹیجک اثاثے ہیں، لیکن 9/11 کے بعد ساری کی ساری کیمسٹری تبدیل ہوگئی، اس کے بعد وہ تمام جہادی تنظیموںجنہیں دنیا وقتاً فوقتاً سپورٹ کرتی رہی تھی، انہوں نے ہاتھ کھنچ لیا، سوائے پاکستان کے، اب جب پاکستان نے ہاتھ نہیں کھینچا اور ان کے تمام کے تمام اڈے (bases) پاکستان میں موجود رہے، تو پاکستان کیلئے مسائل مزید بڑھتے چلے گئے، جس کی وجہ سے آج 2017ء میں بھی ہم انہی مسائل سے نبرد آزما ہیں، رہا معاملہ اسٹیبلشمنٹ کا، تو بغیر اسٹیبلمنٹ کی حمایت کے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پاکستان کے اندر سے کوئی چیز آپریٹ ہو سکے، لیکن اب اسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی مسئلہ بنتا چلا جا رہا ہے کہ اگر اس معاملے کو حل نہیں کیا گیا، تو دنیا سے پاکستان بالکل کٹ جائے گا اور پاکستان کا جو اسٹراٹیجک مقام ہے، اس میں مزید مسائل آئیں گے، مثلاً بلوچستان کے اندر مسائل موجود ہیں، جہاں ایسی قوتیں موجود ہیں کہ جو چاہتی ہیں کہ وہاں مسائل کھڑے کرکے پاکستان کو تنگ کیا جا سکے، لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ اسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی بہت بڑا ہے، چیلنجنگ ہے کہ کس طرح سے اس معاملے کو حل کیا جا سکے، سردست تو کوئی صورتحال نظر نہیں آ رہی، کیونکہ اس کیلئے پاکستان کو اپنی تمام کی تمام خارجہ پالیسی کو پیچھے کرنا پڑے گا اور ماضی میں جو غلطیاں کر چکا ہے، اس سے بھی سبق حاصل کرنا ہوگا، لیکن ہم نے یہ دیکھا کہ ابھی تک ایسی صورتحال سامنے نہیں آئی ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ یہ جو بیس پچیس سال گزرے ہیں، خاص طور پر جنرل ضےاءدور کے بعد سے، تو اس سوچ کا بہت زیادہ نفوذ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں ہوا ہے، پاکستانی معاشرے میں بھی نفوذ ہوا ہے، اور ایک ایسی نسل ہم نے پیدا کی ہے کہ جو باکل single minded چیزوں کو دیکھا کرتی ہے، لہٰذا اب یہ بہت بڑا مسئلہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی بن گیا ہے، پاکستانی فوج نے جو قربانیاں دی ہیں، وہ بھی آپ کے سامنے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ فوج کی قربانیاں نہیں ہیں۔ بہرحال یہ مسئلہ ہمارے سامنے کھڑا ہے، آج بھی دہشتگردوں کی بھرتیاں چل رہی ہیں، کیونکہ بہرحال دہشتگردوں کیلئے حمایت آج بھی پاکستانی ریاست اور معاشرے میں موجود ہے، اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ دہشتگردوں اور دہشتگردانہ سوچ کو طاقت کی مدد سے ختم کر دے گی، تو ایسا نہیں ہوا کرتا، جتنی آپ طاقت استعمال کرینگے، اتنی ہی دگنی طاقت سے وہ پھر واپس آئیں گے، اس کے خاتمے کیلئے ایک لانگ ٹرم پالیسی کی ضرورت ہے اور اس کیلئے پاکستان میں سیاسی استحکام اور سیاسی اداروں کا فعال ہونا ضروری ہے، جب تک یہ نہیں ہوتا، اس وقت تک یہ مسئلہ اتنی آسانی سے حل نہیں ہوگا۔

اسلام ٹائمز: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیان کے بعد جو فضاء بنی، اس میں کچھ حلقوں کی رائے یہ سامنے آئی ہے کہ یہ پاکستان کیلئے اچھا موقع ہے کہ وہ امریکی بلاک سے باہر نکل آئے، اس حوالے سے آپ کی نگاہ کیا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر شیخ مطاہر احمد:
اس حوالے سے دو تین چیزیں ہیں، سب سے پہلے بات تو یہ ہے کہ یہ اب وہ زمانہ نہیں ہے کہ جس میں ہم کسی ایک بلاک میں چلے جائیں، یہ اب زمانہ ہے علاقائییت (regionalism) کا، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے خطے کے ممالک سے پہلے دوستانہ تعلقات قائم کریں، ان کے درمیان تجارت ہو، جس سے خطے میں خوشحالی آئے، پاکستان کا المیہ دراصل یہ ہے کہ اس کی جو حاکم اسٹیبلشمنٹ (ruling establishment) ہے، اس نے 1950ء سے امریکا سے ایسے تعلقات قائم کئے ہیں کہ یہ اب اس طرح سے ختم ہوتے نظر نہیں آرہے۔ مثال کے طور پر امریکی پاسپورٹ، امریکی ویزے کا حصول، امریکی شہریت، ان کے بچے وہاں پڑھ رہے ہیں، ان کے مفادات وہاں ہیں، تو یہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ امریکا سے پاکستان کے تعلقات ختم ہوں، لیکن ساتھ ساتھ کیونکہ اقتصادی خوشحالی نہیں ہے، تو اس کیلئے یہ سمجھتے ہیں کہ چین کے معاشی و تجارتی تعلقات بہتر ہو جاتے ہیں تو کم از کم پاکستان میں ایک اقتصادی خوشحالی آسکتی ہے، لیکن امریکا والے معاملے پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی، تعلقات میں ایسے اتار چڑھاؤ 1960ء میں بھی آئے، لیکن اس کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا، اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے ایک بہت مضبوط سیکشن کے مفادات امریکا سے جڑے ہوئے ہیں، اسی وجہ سے وہ آپ کو دو کشتیوں میں سوار ہوتے نظر آئیں گے۔ پھر ایک بہت بڑی چیز اور بھی ہے، وہ یہ کہ اس خطے کی بہت بڑی طاقت بھارت بھی ہے، اگر آپ امریکا کو ایسے چھوڑ دیتے ہیں تو اس کے تعلقات بھارت سے پہلے سے ہی بہت اچھے ہیں، وہ مزید اچھے ہونگے اور پاکستان کیونکہ خود ایک ایٹمی ملک ہے، تو کیا یہ اچھا ہوگا کہ آپ امریکا کو بالکل الگ تھلگ کرکے اسے بھارت کے قریب کر دیں، تو policy of engagement کا ہونا بھی بہت ضروری ہے اور ان کو یہ بتانے کی بہت ضرورت ہے کہ اگر بھارت سے آپ نے اچھے تعلقات قائم کئے تو آپ ہمیں بھی نظر انداز نہیں کر سکتے، ویسے بھی اب تو دنیا میں آٹھ دس سپر پاورز ہیں، جس میں بھارت جنوبی ایشیا کا ستر فیصد ہے، اور امریکا اس کے پیچھے ہو، تو یہ پاکستان کے قومی مفاد کے بھی بڑے خلاف ہوگا، کیونکہ وہ بھارت کو جو بھی فوجی امداد دے گا وہ اسے کہاں استعمال کریگا، بھارت چین کے خلاف تو کر نہیں سکتا۔ لہٰذا مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان کے امریکا سے تعلقات ختم ہوں یا خراب ہوں۔
خبر کا کوڈ : 667503
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Sumaira Ali
United States
Sir you are the best. Very interesting n bold interview.
Regards
سلیم آفریدی
United States
سر بہت خوب۔۔۔ آپ کی شخصیت بہت ہی غیر جانبدار اور نڈر ہے۔۔۔۔
منتخب