0
Sunday 26 Apr 2020 02:38
اسرائیل و امریکہ کے گماشتے پاکستان میں موجود ہیں

امریکہ بعض بڑی غلطیاں کرچکا، اسکا ماضی سازشوں اور تباہی سے بھرا پڑا ہے، علامہ سید عابد الحسینی

حکومت نے اپنی ناکامی کا بوجھ زائرین پر ڈالنے کی کوشش کی
امریکہ بعض بڑی غلطیاں کرچکا، اسکا ماضی سازشوں اور تباہی سے بھرا پڑا ہے، علامہ سید عابد الحسینی
علامہ سید عابد حسین الحسینی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور اسکے بعد تحریک جعفریہ میں صوبائی صدر اور سینیئر نائب صدر کے عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ ایک طویل مدت تک تحریک کی سپریم کونسل اور آئی ایس او کی مجلس نظارت کے رکن بھی رہے ہیں۔ 1997ء میں پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ آج کل علاقائی سطح پر تین مدارس دینیہ کی نظارت کے علاوہ تحریک حسینی پاراچنار کے سرپرست اعلٰی کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ علامہ سید عابد حسین الحسینی تشیع پاکستان میں انتہائی ادب و احترام کا مقام رکھتے ہیں۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے مختلف ملکی و بین الاقوامی امور، خاص طور پر کورونا وائرس کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال کے تناظر میں انکے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: علامہ صاحب سب سے پہلے بتایئے گا کہ پاراچنار پر کورونا وائرس کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔؟
علامہ عابد الحسینی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اس بیماری نے تو پاکستان سمیت لگ بھگ پوری دنیا کو کسی نہ کسی طرح متاثر کیا ہے، البتہ کرم پر بھی اس کے اثرات ہوئے ہیں، بازار وغیرہ بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے، دیہاڑی دار مزدور یا روزانہ اجرت پر کام کرنے والے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ جہاں تک مریضوں کا تعلق ہے تو پاراچنار اس حوالے سے بفضل خدا محفوظ ہے، تاہم لوئر کرم میں کچھ مریض ہوئے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ خدا جلد از جلد اس بیماری سے لوگوں کی جان چھڑائے اور جو مریض ہیں، انہیں شفاء عطا کرے۔

اسلام ٹائمز: بعض گروہوں نے کورونا وائرس کو فرقہ واریت کا رنگ دینے کی کوششیں بھی کیں، پاکستان میں کیوں ہر موقع پر ایک خاص طبقہ کو تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔؟
علامہ عابد الحسینی:
یہ سب کچھ حکومتی سرپرستی میں ہوتا ہے، بعض وزراء نے اس قدر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا کہ جس کی وجہ سے فرقہ پرستوں کو مزید موقع مل گیا۔ حکومت نے اپنی ناکامی کا بوجھ زائرین پر ڈالنے کی کوشش کی، انہیں کئی کئی دنوں تک قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا، ان کو بے جا تنگ کیا گیا، بیان بازی کی گئی۔ لہذا اس کے پیچھے خود حکومت پہلے تھی۔

اسلام ٹائمز: کورونا کو لیکر عالمی سطح پر امریکہ اور چین ایک دوسرے کو اسکا الزام دے رہے ہیں اور واشنگٹن کے حوالے سے تو کئی حلقوں کیجانب سے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، آپ اس وائرس کو کوئی سازش سمجھتے ہیں یا قدرتی بیماری۔؟
علامہ عابد الحسینی:
شیطان بزرگ امریکہ کا ماضی کسی طرح بھی سازشوں اور تباہی سے خالی نہیں رہا، اس نے ہمیشہ تباہی کی اور لوگوں کی زندگیاں ختم کیں، امریکہ اپنے غلیظ مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے، عین ممکن ہے کہ امریکہ کی یہ سازش ہو، تاہم جوں جوں یہ مسئلہ کچھ ٹھیک ہوگا تو حقائق سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس بیماری نے دنیا کا پہیہ روک دیا ہے، کئی ممالک کی معیشتیں تباہ ہوگئی ہیں، ہزاروں لوگ مارے گئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: برادر اسلامی ملک ایران کو بھی کورونا نے متاثر کیا، ایک جانب مہلک وائرس دوسری طرف پابندیاں، اس انسانی حقوق کے مسئلہ پر اقوام عالم اور عالمی تنظیموں کی خاموشی کو کیسے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ عابد الحسینی:
اقوام متحدہ ہو، او آئی سی ہو یا دیگر انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں، یہ سب تو شیطان بزرگ کے گھر کی لونڈی اور غلام ہیں، ان سے ہرگز توقع نہیں کی جاسکتی کہ یہ امریکہ کی مرضی کے بغیر کچھ کریں۔ ایران امریکہ کا دشمن نمبر ایک ہے، ان سب کا مقصد ایران کو کمزور کرنا تھا، لیکن ایران اس بیماری پر کافی حد تک قابو پاچکا ہے اور جب تک امریکہ کا وجود ہے، یہ ادارے کبھی بھی حقیقی طور پر انسانی حقوق کی بات نہیں کرسکتے۔ ان عرب ممالک نے تو دعائیں مانگیں کہ یہ وائرس ایران کو لے ڈوبے۔

اسلام ٹائمز: بعض مبصرین کا خیال ہے کہ تیل کی عالمی سطح پر گرتی قیمتیں اور کورونا امریکہ کو دیوالیہ کرسکتے ہیں، آپ کیا رائے رکھتے ہیں۔؟
علامہ عابد الحسینی:
تاریخ نے بڑے بڑے یزید اور فرعونوں کو تباہ ہوتے دیکھا ہے، امریکہ کا زوال اور تباہی زیادہ دور نہیں، امریکہ ایک چالاک لومڑی کی مانند پالیسیاں بناتا ہے، لیکن اس کو شائد معلوم نہیں کہ اس کا مقابلہ جن کے ساتھ ہے، انہیں خدا کی مدد حاصل ہے، مقاومتی طاقتیں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد مزید مضبوط ہوئی ہیں، امریکہ بعض بڑی غلطیاں کرچکا ہے اور بعض کرے گا، جس کی وجہ سے اس کی باقاعدہ تباہی شروع ہوگی اور آپ دیکھیں گے کہ یہ شیطان کس طرح نامراد و ناکام ہوتا ہے۔

اسلام ٹائمز: اسلام آباد جیسے حساس اور اہم مقام پر گذشتہ دنوں اسرائیل کا جھنڈا لہرایا گیا اور اس پر حکومت نے کوئی ردعمل بھی ظاہر نہیں کیا، اس حرکت کے پیچھے کیا عوامل ہوسکتے ہیں۔؟
علامہ عابد الحسینی:
امریکہ اور اسرائیل کے گماشتے تو پاکستان میں موجود ہیں، ممکن ہے کہ وہ جو کام پس پردہ کر رہے تھے، اب شائد منظر عام پر آکر کریں۔ پاکستان کا آئین و دستور اسرائیل جیسی ناجائز ریاست کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اس یہودی کیخلاف کارروائی ہوتی، تحقیقات کی جاتیں کہ یہ شخص کون ہے اور اس کے پیچھے کون سے ہاتھ ہیں۔ صیہونی ناجائز ریاست کا وجود ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔ پاکستان کی حکومت کو اس پر فوری طور پر کارروائی کرنے چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: آخر میں رمضان المبارک کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
علامہ عابد الحسینی:
تمام مومنین و مسلمین کی خدمت میں یہی عرض ہے کہ اس بابرکت مہینے کے کسی بھی لمحے کو ضائع نہ جانے دیں، اپنے آپ کو خدا اور محمد (ص) و آل محمد (ع) سے قریب کریں، دعا و مناجات اور عبادات کا اہتمام کریں۔
خبر کا کوڈ : 858999
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش