3
0
Friday 19 Aug 2022 20:47

سلمان رشدی پر غصہ قابل فہم لیکن حملہ خوفناک اور افسوسناک ہے، عمران خان

سلمان رشدی پر غصہ قابل فہم لیکن حملہ خوفناک اور افسوسناک ہے، عمران خان
اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان گذشتہ دنوں ملعون سلمان رشدی پر ہونیوالے حملے کو افسوسناک قرار دینے والے دنیا کے پہلے مسلمان رہنماء بن گئے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ متنازع مصنف سلمان رشدی پر غصہ قابل فہم ہے، لیکن انہوں نے سلمان رشدی پر ہونے والے حملے کو "خوفناک" اور "افسوس ناک" قرار دیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ سلمان رشدی کی متنازع کتاب پر مسلمان دنیا کا غصہ قابل فہم ہے، لیکن یہ ان پر حملے کا جواز نہیں ہوسکتا۔ برطانوی اخبار دا گارڈین میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو کے مطابق جب نیویارک میں سلمان رشدی پر چاقو کے حملے کے بارے میں ان سے ردعمل پوچھا گیا تو عمران خان نے کہا کہ میرے خیال میں یہ خوفناک اور افسوس ناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رشدی سمجھ گئے تھے کہ (ان کی کتاب کیوں دل شکن تھی) کیونکہ وہ ایک مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، وہ ہمارے دلوں میں بسنے والے پیغمبر اسلامؐ کی محبت، احترام، تعظیم کو جانتے ہیں، وہ یہ سب جانتے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ اس لئے (ان کی کتاب پر) غم و غصہ تو قابل فہم، لیکن جو ہوا، وہ اس کا جواز نہیں ہوسکتا۔

یاد رہے کہ عمران خان نے 10 سال قبل انڈیا میں ایک پروگرام میں شرکت سے معذرت کر لی تھی، کیونکہ سلمان رشدی بھی اُس تقریب میں شامل تھے، جن کے ساتھ وہ اسٹیج پر نہیں بیٹھنا چاہتے تھے۔ انٹرویو کے دوران افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وہ طالبان کی پابندیوں کے باوجود افغان خواتین سے اپنے حقوق کے لئے کھڑا ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ تاہم ایک سال پہلے عمران خان نے مغرب میں اور بہت سے افغانوں میں اس وقت غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی، جب انہوں نے طالبان کے اقتدار پر قبضے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غلامی کی زنجیریں توڑیں ہیں۔ گارڈین کو انٹرویو میں سابق پاکستانی وزیراعظم نے مزید کہا کہ بالآخر افغان خواتین اور افغان عوام کو ہی اپنے حقوق کے لئے زور دینا ہوگا، وہ مضبوط لوگ ہیں، لیکن اگر آپ طالبان کو باہر سے دھکیلتے ہیں تو وہ صرف اپنا دفاع کریں گے، وہ صرف بیرونی مداخلت سے نفرت کرتے ہیں۔

عمران خان نے ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے اپنا الزام دہرایا کہ ان کی حکومت کو "بیرونی سازش" کے تحت مقامی کھلاڑیوں کے ذریعے ہٹایا گیا۔ ان کے معاون شہباز گل کو منگل کے روز گرفتار کیا گیا تھا، جن کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ انہیں مارا پیٹا گیا اور نفسیاتی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ انہیں (گِل کو) یہ کہنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ میں نے ہی انہیں یہ (متنازع بیان) دینے کے لئے کہا تھا۔ ان کے بقول کہ وہ شہباز گل کے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں، اس سے وہ سب کو پیغام بھیج رہے ہیں، انہوں نے ہمارے کارکنوں کو ڈرایا ہے، سوشل میڈیا کے کارکنوں کو جبری طور پر اٹھایا گیا ہے اور وہ لوگوں کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
برطانوی اخبار گارڈین کی خبر کا لنک:
https://www.theguardian.com/world/2022/aug/19/salaman-rushdie-attack-was-unjustifiable-says-pakistans-imran-khan
خبر کا کوڈ : 1010005
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Sayed Ali Asad rizvi
Jab tak pori kitab ka mutala na kr Len us wakt tak kui fesla nahi dia ga sakta huq se is ko ashna karo agar phir bhi na mane to is k Sath gaung karo ur is ko katal kr do
Arif kazmi
Canada
Haq pehchan ki apki umar hogi hame pata hai haq kiya hai
Arif kazmi
Canada
Afsos nak imran khan ke liye hoga, hamare liye tu ayse logo ko khatam karna ibadad say kam nahi hai or next time bhi inshallah nabi pak saww pe gustakhana harkat ki tu wo bi wasily jejanun hoga.s
منتخب
ہماری پیشکش