0
Thursday 9 Feb 2012 14:47

سوئس حکام کو خط لکھ دیں ‌توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لینگے،عدالت، نہیں‌ لکھا جا سکتا، اعتزاز

سوئس حکام کو خط لکھ دیں ‌توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لینگے،عدالت، نہیں‌ لکھا جا سکتا، اعتزاز
اسلام ٹائمز۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے اپیل میں جو کچھ لکھا وہ بھی توہین عدالت کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم سوئس حکام کو خط لکھ دیں۔ نوٹس واپس لے لیں گے جبکہ وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ سوئس حکام کو خط نہیں لکھا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے وزیراعظم کی اپیل سے قابل اعتراض پیراگراف 45، 51 اور 52 حذف کرا دیئے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اپیل میں ایسا تاثر دیا گیا ہے جیسے احسانات کے بدلے کوئی ریلیف مانگا جا رہا ہو۔ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بھی قابل اعتراض قانونی سوالات حذف کرانے کی ہدایت کی ہے۔ 

توہین عدالت کیس میں وزیراعظم کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کرنے والے آٹھ رکنی بنچ کے سربراہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئي بھي قانون سے بالاتر نہيں۔ کیا وزیراعظم کہنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے ہم پر احسان کیا۔ ایک آئینی حکومت کے سربراہ کو ایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہئے تھی۔ وزیراعظم نے اپیل میں جو کچھ لکھا وہ بھی توہین عدالت کے مترادف ہے۔ انہوں نے اعتزاز احسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے جو کچھ لکھا اس سے عدالت نہیں بلکہ وزیراعظم کی سبکی ہوئی۔ اپیل میں جو کچھ لکھا اسے وزیراعظم کا لکھا سمجھیں گے۔ آپ کے کندھوں پر نہیں ڈال سکتے۔ جسٹس میاں شاکراللہ جان نے کہا کہ کیا وزیراعظم کو اس لئے کھلی چھٹی دے دی جائے کہ انہوں نے ہم پر احسان کیا۔ 

اعتزاز احسن نے کہا کہ وزیراعظم نے حقائق بیان کیے ہیں اور عدلیہ بحالی کی بات کر کے اپنا دفاع کیا ہے۔ اپیل میں قابل اعتراضات سوالات حذف کروا دیتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری میں لیتا ہوں کیونکہ میں یہاں اداروں کے درمیان ٹکراؤ روکنے آیا ہوں۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سات رکنی بینچ نے حکم نامے میں وزیراعظم کے خلاف سخت زبان استعمال کی جبکہ آپشنز میں بھی ان کے خلاف سنگین الزامات لگائے گئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ 6 آپشنز کو بھول جائیں۔ ہمیں وہ آپشن بتائیں جس سے صدر کے خلاف خط لکھنے کے فیصلے پر عمل ہو، کیونکہ کیس کی بنیاد یہی ہے۔ وزیراعظم خط لکھ دیں، توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیں گے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ معافی چاہتا ہوں، یہ کوئی لین دین نہیں ہو رہا۔ اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ لین دین کی بات نہیں، عدالتی بردباری کی بات ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے اصل معاملے کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ٹکراؤ نہ ہو اور ملک میں استحکام آئے۔ سوئس اکاؤنٹس میں قومی دولت پڑی ہے۔ 18 کروڑ عوام کے منتخب کردہ وزیراعظم اس کی واپسی کے معاملے کو آگے نہیں بڑھا رہے۔
خبر کا کوڈ : 136587
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب