0
Friday 17 Feb 2012 15:40

ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے، دمشق پر حملے القاعدہ نے کروائے، نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر کا اعتراف

ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے، دمشق پر حملے القاعدہ نے کروائے، نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر کا اعتراف
اسلام ٹائمز- فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے نیشنل انٹلی جنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر (James Clapper) نے تاکید کی ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے اور اسکا مقصد جوہری ہتھیار تیار کرنا نہیں۔ امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق امریکی نیشنل انٹلی جنس کے ڈائریکٹر سینیٹ کی مختلف کمیٹیوں کے اراکین سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر فوجی حملہ اسکے جوہری پروگرام میں ایک یا دو سال کی تاخیر کا باعث تو بن سکتا ہے لیکن ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں اور اس میں امریکہ کا کوئی فائدہ نہیں۔
جیمز کلیپر نے کہا کہ امریکہ کی تمام انٹیلی جنس ایجنسیز کو یہ یقین حاصل ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور اسکے جوہری پروگرام کا مقصد پرامن اٹامک انرجی کا حصول ہے۔ انہوں نے اسی طرح ایران کی ایٹمی تنصیبات پر عراق اور شام جیسے ممکنہ حملے پر اپنی تشویش کا اظہار بھی کیا۔
ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس جناب جیمز کلیپر نے سینیٹ کی فوجی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے ایران پر فوجی حملے کے نتیجے میں پیش آنے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے اور ایران پر حملے کی تاریخ یا اس حملے کا تاخیر کا شکار ہونے کی پیشین گوئی کرنے سے قاصر ہیں۔
یاد رہے گذشتہ ماہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے یہ دعوا کیا تھا کہ اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔ جبکہ امریکی انٹیلی جنس اداروں سے وابستہ افراد جیسے سی آئی اے کے سابق چیف مائیکل ہائیڈن نے نیتن یاہو کے اس دعوے پر اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
مائیکل ہائیڈن نے امریکی وزارت خارجہ کے افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات کو نقصان پنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
دمشق میں بم دھماکے القاعدہ نے کروائے:
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر نے اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ دنوں شام کے دارالحکومت دمشق اور شہر حلب میں ہونے والے بم دھماکوں میں القاعدہ ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے دہشت گرد شام کے حکومت مخالف مسلح گروپس میں گھس چکے ہیں۔ جیمز کلیپر نے کہا کہ چند روز قبل دمشق اور حلب میں ہونے والے بم دھماکوں میں القاعدہ کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ نے عراق کے علاوہ شام میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔
اس سے قبل شام کے حکام نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ملک میں انجام پانے والے دہشت گردانہ اقدامات میں القاعدہ کا ہاتھ ہے جبکہ بیرون ملک مقیم حکومت مخالف رہنماوں کا کہنا تھا کہ یہ دھماکے حکومت نے خود کروائے ہیں۔
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے سربراہ جیمز کلیپر نے اسی طرح واضح کیا کہ القاعدہ شام میں موجود حکومت مخالف مسلح گروہوں میں گھس کر کاروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاید یہ مسلح گروہ خود بھی اس واقعیت سے بے خبر ہوں کہ القاعدہ کے دہشت گرد ان میں گھس چکے ہیں۔
جیمز کلیپر نے مزید کہا کہ شام کے حکومت مخالف گروہ شدید انتشار کا شکار ہیں اور شام کے حکام اپنا اقتدار محفوظ رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 138474
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب