0
Friday 25 May 2012 13:51

اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی، مظاہرہ

اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی، مظاہرہ
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے زیراہتمام اویس عقیل کے قاتلوں کی عدم گرفتاری، پنجاب یونیورسٹی کو پولیس سٹیٹ بنانے اور وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کی برطرفی کیلئے احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا گیا۔ ریلی کا آغاز ایک نمبر ہاسٹل سے ہوا جو کہ کیمپس پُل پہ احتجاجی دھرنے کی صورت اختیار کر گئی، جسکی قیادت ناظم علاقہ وسطی حافظ نعمان ظفر، ناظم اولڈ کمپس آصف وحید، حارث سعید اور ثاقب گجر نے کی۔

ا س موقع پر طلبہ نے اپنے مطالبات کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے اور ٹائروں کو آگ لگا کر شدید احتجاج کیا۔ ناظم علاقہ وسطی نعمان ظفر نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس قاتلوں کو گرفتار کرنے کی بجائے پنجاب یونیورسٹی میں مورچے بنانے میں مصروف ہے، پنجاب حکومت کی نا اہلی کی انتہا ہے کہ قاتلوں کو گرفتار کرنے کی بجائے پنجاب یونیورسٹی میں کرپٹ اور نا اہل وائس چانسلر اور اسکے جعلی ڈگریوں والے سیاسی شبدے بازوں کے کہنے پر ناچ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر کی ایما پر (ASA) کلاسز کے بائیکاٹ کا ڈرامہ اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی کے بے بنیاد واقع پر رچایا گیا جبکہ وائس چانسلر اپنے دیرینہ مطالبے یونیورسٹی میں پولیس چوکی کے قیام اور اپنے فرسٹ کزن منصور سرور کے خلاف FIR کے اخراج کے لیے کلاسز کا بائیکاٹ کروا کے 30 ہزار طلبہ کا تعلیمی نقصان کیا، ہم پنجاب حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ لاء کالج کے طالبعلم اویس عقیل کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور طلبہ کے صبر کو مزید نہ آزمایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کے دور میں ساڑھے تین ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے جبکہ اس دور میں یونیورسٹی میں 4 افراد کاقتل ہوا ہے جب کہ بے ضابطگیوں پر خادم اعلیٰ پنجاب نجانے کیوں خاموش ہیں، اس کرپشن پر میاں شہباز شریف کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر کا سارا فساد پربا کر کے لندن فرار ہو جانا وائس چانسلر کی بد نیتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
خبر کا کوڈ : 165344
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب