0
Wednesday 5 Dec 2012 23:17

جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد چاہتے ہیں، اگر وہ اپنے قد کے مطابق بات کرے، مولانا فضل الرحمن

جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد چاہتے ہیں، اگر وہ اپنے قد کے مطابق بات کرے، مولانا فضل الرحمن
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اگر حکومتیں گرانا اور بنانا عدلیہ کا کام ہے تو پھر عوام گھر بیٹھ جاتے ہیں۔ بلوچستان کیس میں ذمہ دار ایف سی کو قرار دیا گیا مگر سمجھ سے بالاتر ہے کہ نزلہ صوبائی حکومت پر گرایا جا رہا ہے۔ پارٹی رہنما بلال میر کی رہائشگاہ پر میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اٹھاون ٹو بی اس لئے ختم کی گئی تھی کہ حکومتیں گرائی نہ جائیں اب یہی کام اگر عدلیہ نے کرنا ہے تو پھر اٹھاون ٹوبی کا خاتمہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کیس میں عدلیہ نے ذمہ داری ایف سی پر عائد کی مگر فیصلے میں نزلہ صوبائی حکومت پر گرانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ 

مولانا فضل الرحمن نے چوہدری نثار کو بھی غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تو ایسے ہی نگران سیٹ اپ کے لئے نام تجویز کرتے پھر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے نوید سنائی کہ ایم ایم اے کے تنظیمی سیٹ کا جنوری میں اعلان کر دیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کو اتحاد میں لینا چاہتے ہیں مگر وہ اپنے قد کے مطابق بات کرے۔ دبے دبے مسکراتے ہوئے مولانا کے لبوں پر وزیراعظم بننے کی خواہش بھی آ ہی گئی۔ مولانا نے واضح کیا کہ جے یو آئی پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ ن کی محتاج نہیں اور تحریک انصاف کو کبھی اتحاد کے لئے زیر بحث نہیں لائے۔
خبر کا کوڈ : 218318
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے