0
Friday 28 Dec 2012 19:47

اسلام دشمن قوتیں پورے ملک کو کراچی بنانا چاہتی ہیں،حافظ سعید

اسلام دشمن قوتیں پورے ملک کو کراچی بنانا چاہتی ہیں،حافظ سعید
اسلام ٹائمز۔ جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت الدعوۃ نے کہا کہ کراچی میں قتل و غارت گری کی انتہا ہو چکی ہے، اسلام دشمن قوتیں یہی ماحول پورے ملک میں بنانا چاہتی ہیں، بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک پروان چڑھائی جا رہی ہے، سندھ اور سرحد میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتیں عروج پر ہیں تو پنجاب کے پانیوں پر بھارت نے زبردستی قبضہ کر رکھا ہے، چاروں طرف سے پاکستان مسائل میں گھرا ہوا ہے، نوجوان نسل کے دین اسلام سے رشتے کمزور کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں تاکہ یہ ملک مضبوط قوت نہ بن سکے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی قوتوں سے زیادہ پاکستان کو درپیش ان اندرونی فتنوں سے خطرہ ہے جو ہر وقت ملک و قوم کو بھارت و امریکہ کی غلامی میں دھکیلنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم (ص) کی حدیث کا مفہوم ہے کہ میری امت کے بعض لوگ مشرکوں اور کافروں سے دوستیاں لگائیں گے جو بہت بڑے فتنوں کا سبب بنیں گی، گیارہ سالہ امریکہ کی دوستی کو دیکھیں تو اب تک ہم اسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، پاکستان کی فضائیں اور زمینی اڈے اس کے قبضہ میں ہیں، ڈرون طیارے پاکستان کی سرزمین سے اڑتے ہیں اور بے گناہ پاکستانیوں کا ہی خون بہا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاکھوں افغان بھائیوں کا قتل بھی یہاں سے ہی جانے والے طیاروں نے بمباری کر کے کیا اس کا وبال پاکستان پر نہیں پڑے گا تو اور کیا ہو گا؟ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اپنی غلطیوں سے نصیحت حاصل کرنے کی بجائے اب انڈیا سے ایسی ہی دوستیاں لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، حکمرانوں کو یہ بات یار رکھنی چاہیے کہ پاکستانی قوم اب ملک کا مزید نقصان برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ بھارت سے دوستی کی خواہش رکھنے والے حکمران مشرقی پاکستان سمیت انڈیا کے سارے جرائم قوم کی نظروں سے اوجھل کرنا چاہتے ہیں، انہیں یہ احساس تک نہیں کہ پاکستان ایک عقیدے اور نظریے کی بنیاد پر لاکھوں شہداء کا نذرانہ پیش کر کے حاصل کیا گیا تھا، جس کا مقصد یہ تھا کہ ایک الگ خطہ حاصل کر کے ہم وہاں اللہ کا دین نافذ کریں گے اور ہم انگریز کی طرح ہندوؤں کے ساتھ ملکر نہیں رہ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ افسوس کہ حکمرانوں کو اپنے ذاتی مفادات اور کرسی و اقتدار کے علاوہ کسی چیز کی کو ئی پرواہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں و بعض سیاستدانوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ بھارت سے جنگیں لڑ کر ہم نے کیا حاصل کیا ہے؟ نئے دور اور نئے حالات کے تقاضوں کے مطابق انڈیا سے دوستی کی پالیسیاں ترتیب دینی چاہئیں، ہم بھی کہتے ہیں کہ اب نیا دورہے لیکن ہمارا موقف یہ ہے کہ چالیس ملکوں کی فوجوں کے ساتھ افغانستان پر حملہ کرنے والا امریکہ اللہ کے فضل و کرم سے شکست کھاچکا ہے،اس لئے جس دین اسلام اور مسلمانوں کی قربانیوں و شہادتوں کی وجہ سے امریکہ کو شکست ہوئی ہے اس نظام کو پاکستان میں نافذ کیا جائے اوروہی راستہ اختیار کیا جائے جس سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کامیابیوں سے نواز رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 225843
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے