0
Thursday 4 Apr 2013 00:01

تاجروں کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر مجبور نہ کیا جائے، عتیق میر

تاجروں کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر مجبور نہ کیا جائے، عتیق میر
اسلام ٹائمز۔ آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے کہا ہے کہ تاجروں کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر مجبور نہ کیا جائے، ہر شہری کو اپنی جان و مال کی حفاظت کا پورا حق حاصل ہے، غیر منصفانہ قوانین کا نفاذ عمل میں لا کر تاجروں اور شہریوں کو نہتا اور ان کے ہاتھ باندھ کر مجرموں کے سامنے ڈالا جا رہا ہے، لائسنس یافتہ اسلحے پر پابندی لگانے کی بجائے اسلحے کی غیر ضروری نمائش کی موثر روک تھام کی جائے، سخت ترین سزا کے ذریعے غیر قانونی اسلحہ کا حصول خوفناک جرم بنا دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرام باغ فرنیچر مارکیٹ میں منعقد کئے گئے تاجروں کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں تاجروں نے دفعہ 144 کے تحت شہریوں اور تاجروں کیلئے لائسنس یافتہ اسلحہ ساتھ لیکر چلنے کی ممانعت کو حکومت کا غلط فیصلہ قرار دیا۔

عتیق میر نے کہا کہ متنازعہ فیصلے سے ڈاکوﺅں، لٹیروں، رہزنوں اور بھتہ خوروں کی لاٹری نکل آئی ہے۔ تاجر اور شہری نہتے اور جرائم پیشہ عناصر کھلے عام اسلحہ لیکر دندناتے پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی اسلحے کا مجرمانہ استعمال اور لائسنس یافتہ اسلحے پر پابندی جرائم پیشہ عناصر کیلئے انمول تحفہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز اہلکار چیکنگ کے دوران شہریوں اور تاجروں سے قانونی اسلحہ لائسنس سمیت ضبط کر رہے ہیں جبکہ ضبط کیا گیا اسلحہ تفتیش کے بہانے کئی کئی ماہ تک واپس نہیں کیا جاتا۔

اجلاس میں موجود تاجر اتحاد کے دیگر رہنماﺅں نے کہا کہ جرائم کے خلاف پولیس اور رینجرز کی کارروائیوں میں تیزی کے باوجود نتائج حوصلہ افزاء نہیں ہیں۔ رہزنی، لُوٹ مار، قتل و غارتگری کے بڑہتے ہوئے واقعات اور بےخوف بھتہ خور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ تاجروں نے سندھ کی نگران حکومت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کی مختصر اور پُرعزم کابینہ سابقہ بھاری بھرکم بےحس کابینہ سے لاکھ درجہ بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سازشی عناصر مہینے بھر کی نگران حکومت کو غلط مشوروں سے متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نگران کابینہ کے وزیر مشیر شیروانی میلی ہونے سے پہلے ہی فارغ ہو جائیں گے لہٰذا ایسے متنازعہ فیصلوں سے گریز کریں جس سے ان کی نیک نامی داغدار ہونے کا خطرہ ہو۔
 
تاجروں نے کہا کہ سیاسی پشت پناہی نے پولیس کی کارکردگی کو دھندلا کر رکھ دیا ہے۔ محکمہ پولیس میں کالی بھیڑوں کے ہوتے ہوئے شہر میں امن و مان کے قیام کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ عمدہ کارکردگی اور اچھی شہرت کے حامل پولیس افسران کو ترقی دیکر شہر میں جاری آپریشن کے تحت فری ہینڈ دیا جائے۔ تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سابق حکمرانوں کی پشت پناہی پر جرائم میں ملوث پولیس اہلکاروں اور افسران کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں کسی بھی صورت میں آئندہ انتخابی عمل میں ذمہ داریاں تفویض نہ کی جائیں۔ تاجروں نے حکومتِ سندھ کے نگران سیٹ اپ میں تاجروں اور صنعتکاروں کے نمائندگان کی تقرری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے خوشگوار تجربات کو مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہیئے تاکہ عوام اور تاجروں کو اپنے مسائل کے حل کیلئے حقیقی نمائندگی میسر آ سکے۔
خبر کا کوڈ : 251267
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب