0
Tuesday 30 Jul 2013 17:56

جیسمین منظور کو نواز شریف کے آگے اپنے رونے دھونے کا جواب مل گیا

جیسمین منظور کو نواز شریف کے آگے اپنے رونے دھونے کا جواب مل گیا
رپورٹ: ایس زیڈ ایچ جعفری

پاکستانی سیاست میں انتہائی غیر متوقع حادثات اور رشتہ داریاں ہوتی ہی رہتی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک انتہائی غیر متوقع حادثہ گذشتہ دنوں کراچی میں مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطحی وفد کا متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو جانا تھا۔ نواز حکومت کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر متحدہ رہنماوں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صدراتی امیدوار ممنون حسین کی حمایت پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حیسن کے مشکور ہیں۔ ایم کیو ایم نے نواز شریف کی سوچ کے ساتھ اتفاق کیا جبکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حیسن نے لیگی وفد کے ارکان کو اپنی رہائش گاہ پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آپ میری جانب سے میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کو پیغام دیدیں کہ میں انہیں اپنا بھائی سمجھتا ہوں۔ ہمارے درمیان غلط فہمیاں ہو گئیں تھیں، الطاف حسین بھی انسان ہے کوئی فرشتہ نہیں۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو صاف کرکے ایک نئے سفر کا آغاز کریں، الطاف حسین اور ایم کیو ایم آپ کے ساتھ ہے۔ اس غیر متوقع دورے نے جہاں نہ صرف مسلم لیگ نواز گروپ کے سندھ میں سیاسی اتحادیوں کو، جن کے ساتھ نواز لیگ نے سندھ میں عام انتخابات میں بھرپور حصہ لیا تھا کو حیران و پریشان کر دیا بلکہ خود سندھ میں حکومت بنانے والی پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی حیران کر دیا۔ جبکہ عوامی حلقوں کی جانب سے بھی نواز لیگ کو شدید تنقید کا نشانہ جا رہا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو جانے پر مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ اور حروں کے روحانی پیشواہ پیر صاحب پگارا تو اتنے ناراض ہوئے کہ انہوں نے دعوت افطار تک منسوخ کر دی۔ اطلاعات آنا شروع ہو گئی ہیں کہ نواز لیگ کی ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو یاترا سے مسلم لیگ (ن) سندھ کی قیادت میں بھی دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ ایک سے زائد لیگی اراکین سندھ اسمبلی کا ممنون حسین کے خلاف ووٹ دینے کا امکان پیدا ہو گیا ہے جبکہ دوسری جانب اپنوں اور پرائے سب کو حیران و پریشان حالت میں مبتلا کرکے مسلم لیگ (ن) کا مرکزی وفد واپس روانہ ہو چکا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صدارتی امیدوار کیلئے سابق گورنر سندھ ممنون حسین کو نامزد کرنے پر مسلم لیگ (ن) سندھ کے عہدایدارن اور اراکین صوبائی اسمبلی پہلے ہی شدید ناراض تھے کہ جمعہ 26 جولائی کی شب مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کا وفد وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار، نامزد صدارتی امیدوار ممنون حسین، سینیٹر پرویز رشید، ظفرجھگڑا، صوبائی رہنماء سلیم ضیاء، نہال ہاشمی ایڈووکیٹ و دیگر کے ہمراہ متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پہنچ گیا۔ نائن زیرو پر رابطہ کمیٹی کے اراکین نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماوٴں کا استقبال کیا، انہیں پھولوں کے ہار پہنائے اور گلدستے پیش کئے۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے متحدہ قو می موومنٹ کی جانب حالیہ غیر متوقع جھکاو کے بعد مسلم لیگ فنکشنل کے سرابرہ پیر صاحب پگارا مسلم لیگ (ن) سے ناراض ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ہفتہ کو مسلم لیگ فنکشنل کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے صدارتی امیدوار اور مرکزی وفد کے اعزاز میں پیر پگارا نے افطار ڈنر اپنی رہائش گاہ راجہ ہاوس میں منعقد کیا تھا تاہم مسلم لیگ (ن) کے وفد کی متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز جانے کے بعد پیر صاحب پگارا نے افطار ڈنر منسوخ کر دیا اور مسلم لیگ (ن) کے وفد سے ملنے سے انکار کر دیا۔ مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر صاحب پگارا کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے وفد کی متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو جانے کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا اور یہ فیصلہ پہلے سے طے تھا کہ سندھ کے حوالے سے فیصلہ کرنے سے قبل مسلم لیگ فنکشنل کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ اگر اس طرح کے فیصلے کرنے ہیں تو پھر ہمیں بھی مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔
 
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) سندھ کے بعض عہدایداران اور اراکین صوبائی اسمبلی ممنون حسین کی نامزدگی پر مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت سے ناراض تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی وفد کی متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو جانے کے بعد خصوصا سردار ممتاز بھٹو نے اپنی ناراضگی کا اظہار مرکزی قیادت سے بھی کر دیا ہے جبکہ سندھ اسمبلی کے بعض اراکین کا بھی اظہار ناراضگی کے بعد صدارتی انتخاب میں ممنون حسین کے خلاف ووٹ دینے کا امکان پیدا ہو چکا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی وفد میں شامل وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار، وقافی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اقبال ظفر جھگڑا نے ناراض اراکین اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) سندھ کے عہدایداران سے ملنے کی کوشش کی تاہم ذرائع نے بتایا وفد سے کسی بھی رہنماء یا اراکین صوبائی اسمبلی نے ملاقات نہیں کی ہے۔ جس کے بعد وفد کراچی سے روانہ ہوگا۔ نواز لیگ کا ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو جانا جہاں نواز لیگ کے اتحادیوں کیلئے غیر متوقع ثابت ہوا وہاں پیپلز پارٹی بھی نواز لیگ کی اس سیاسی چال سے کچھ پریشان دکھائی دیتی ہے۔

 قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اس حوالے سے کہا کہ مسلم لیگ نواز نے متحدہ قومی موومنٹ کیخلاف سندھ کے قوم پرستوں سے اتحاد کیا تھا اور اس وقت نواز شریف تو کہتے تھے کہ ایم کیو ایم ایک دہشت گرد جماعت ہے اب وہ ایم کیو ایم سے اتحاد کے بعد قوم پرستوں کو کیا جواب دیں گے۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء اور وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے حکمراں جماعت نواز لیگ اور اپنی سابقہ اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ اب میاں نواز شریف کراچی کے دورے پر آئیں گے تو متحدہ قومی موومینٹ پر کوئی الزام نہیں لگائیں گے اور یہ بھی امید ہے کہ نواز شریف اب اجمل پہاڑی اور ولی بابر کے قاتلوں کے متعلق بھی کوئی بیان نہیں دیں گے۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ عوام کو یہ بھی یاد ہے کہ لندن میں اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں نواز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں سے شرط رکھی تھی کہ وہ ایم کیو ایم سے کبھی اتحاد نہیں کریں گے لیکن اب خود انہوں نے ایم کیو ایم سے اتحاد کر لیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف نے ایم کیو ایم پر الزامات لگائے اور انہیں الزامات نے نواز شریف کو متنازعہ بنا دیا ہے۔ شرجیل میمن کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز لیگ اور ایم کیو ایم کے سیاسی کے اتحاد کے بعد پیپلز پارٹی کے گناہ دھل گئے ہیں۔

عوامی حلقوں نے بھی نواز حکومت کو ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم بطور سیاسی جماعت تقریباً یتیم ہونے لگی تھی پورے ملک میں سیاسی تنہائی کا شکار تھی اور دہشت گرد جماعت کا لقب پا چکی تھی۔ الطاف حسین لندن میں شدید مشکلات سے دوچار تھے اور پاکستان میں گرفتار انکے ٹارگٹ کلرز متحدہ تابوت میں آخری کیل ثابت ہونے لگے تھے مگر نواز شریف اور انکی جماعت جو کہ پہلے ہی متحدہ کو دہشت گرد جماعت کہہ چکے ہیں انہوں نے اسے سہارا دے دیا ہے۔ لہٰذا اب کراچی ہونے والی تمام تر دہشت گردی اور بدامنی کی ذمہ دار مسلم لیگ نواز کی حکومت ہوگی۔ عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نے خودغرضی کا یقیناً کوئی نہ کوئی عالمی ریکارڈ توڑا ہوگا جب محض اپنی مرضی کا صدر لانے کے لئے اپنے تمام سابقہ بیانات اور وعدوں سے پھرتے ہوئے ایک ایسے وقت میں نہ صرف ایم کیو ایم کو سہارا دیا جب ان کی کشتی ڈوبنے والی تھی بلکہ مبینہ طور پر الطاف حسین کو بچانے کے لئے گرفتار ٹارگٹ کلرز کو بھی برطانیہ کے حوالے نہ کرنے کا معاہدہ کیا۔ اور تو اور ایم کیو ایم کو تمام سابقہ وزارتیں بمع شپنگ اور گورنر شپ تک دینے کا وعدہ کر لیا ہے۔ عوام نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اب جبکہ ایم کیو ایم نواز حکومت میں شامل ہوگئی ہے تو سوال یہ ہے کہ اب نواز شریف کراچی کے حالات کیسے ٹھیک کریں گے کس کے خلاف کاروائی کریں گے؟ لوگوں نے نواز لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا ڈرونز حملوں، دہشت گردی، بجلی اور مہنگائی کی طرح میاں صاحب نے کراچی کا بھی سودا کر لیا۔ شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ شرم تو شائد ہمارے ان جمہوری لیڈروں کو چھو کر بھی نہیں گزری جب صرف ایک دن پہلے ایک تقریب میں مشہور ٹی وی اینکر جیسمین منظور نواز شریف کے آگے ایم کیو ایم کی دہشت گردی کا رونا رو رہی تھی اور میاں صاحب ان کو " تسلی" دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ "ہاں ہم جانتے ہیں"۔ متحدہ سے اتحاد کرکے نواز حکومت پیپلز پارٹی اور انکی سندھ حکومت کو دباو میں لانا چاہتی اور انہیں تنہا کرنا چاہتی ہے یا ان کا کچھ اور مقصد ہو مگر اب شاید جیسمین منظور کو نواز شریف کے آگے اپنے رونے دھونے کا جواب ضرور مل گیا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 288225
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب