0
Saturday 9 Nov 2013 14:45

ایران اور گروہ 5+1 کے وزراء خارجہ کے مذاکرات جاری، مثبت پیشرفت کی توقع

ایران اور گروہ 5+1 کے وزراء خارجہ کے مذاکرات جاری، مثبت پیشرفت کی توقع
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے نائب وزیر خارجہ اور ایران کی ایٹمی مذاکراتی ٹیم کے رکن سید عباس عراقچی نے جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران، یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں طے ہونے والے ممکنہ معاہدے کے مشترکہ بیانیہ کے بارے میں ہو رہے ہیں۔  ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ ہفتے کو بھی جاری رہے گا۔
اسلامی جمہوری ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، یورپی یونین کی خارجہ امور  کی سربراہ کیتھرین آشٹن اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے درمیان جمعے کے روز مذاکرات کے دو دور ہوئے۔ یہ تینوں سفارتکار ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ہونے والے ممکنہ معاہدے کے مشترکہ بیانیہ کے بارے میں بحث و گفتگو کر رہے ہیں۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان جاری مذاکرات کے ذریعے ایران کے ایٹمی مسئلہ کے حل کے لئے کسی مشترکہ معاہدے تک پہنچا جاسکتا ہے۔ سفارتی ذرائع ایران اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین سمیت جرمنی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو مثبت بیان کر رہے ہیں۔

ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ہونے والے مذاکرات جمعرات کے روز جینیوا مِیں شروع ہوئے تھے اور جمعے کے روز امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزراء خارجہ بھی ان مذاکرات میں شامل ہوگئے ہیں۔ جمعرات کے روز اسلامی جمہوری ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا تھا کہ اگر تمام فریق کوشش کریں تو ایران کے ایٹمی مسئلے کے بارے میں کسی سمجھوتے تک پہنچا جاسکتا ہے۔ ان مذاکرات کے شروع ہونے سے ایک روز قبل بدھ کے روز ایران کے نائب وزیر خارجہ اور ایران کی مذاکراتی ٹیم کے رکن عباس عراقچی نے بھی ان خیالات کا اظہار کیا تھا کہ ایران کے ایٹمی مسئلے کے حل کے لئے قابل توجہ پیشرفت ہوگی۔
 
دیگر ذرائع کے مطابق اسلامی جمہوری ایران، امریکہ اور یورپی یونین کے وزراء خارجہ کے درمیان جاری سہ فریقی مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے۔ جنیوا سے موصولہ رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات جمعہ کی رات کو  وہاں کے مقامی وقت کے مطابق گیارہ بجکر پچیس منٹ پر ختم ہوگئے اور طے یہ پایا ہے کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ آج دن میں بھی جاری رہے گا۔ در ایں اثنا مذاکراتی ٹیم کے ایک قریبی ذریعے نے مذاکرات کے عمل کو مفید  اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مذاکرات، ایٹمی مسئلے پر اتفاق رائے ہونے تک جاری رہیں گے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، یورپی یونین کی وزیر خارجہ کیتھرین اشٹن اور امرکی وزیر خارجہ جان کیری کے درمیاں ہونے والے مذاکرات کی مزید تفصیلات منظر عام پر نہيں آئی ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان جانش یرنسٹ نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے خیالات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تنقید ایک عجلت پسندانہ اقدام ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کی رپوٹ کے مطابق جانش یرنسٹ نے جو امریکی صدر باراک اوباما کے ساتھ ریاست نیو اورلئان کے دورے پر ہیں، نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ مذاکرات بہت مناسب اور تعمیری ماحول میں انجام پا رہے ہیں، تاہم  بھی حتمی سمجھوتے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا اور اس کے لئے وقت درکار ہے۔

قبل ازیں امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ ایران کے نیو کلیئر پروگرام کے حوالے اعلٰی سطحی بات چیت میں بہت سے اہم معاملات پر فاصلے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ جنیوا پہنچنے پر جان کیری نے کہا کہ فی الوقت ایران کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا جسے مشرق وسطٰی میں جنگ کے خطرات کو کم کرنے کیلئے بریک تھرو کہا جاسکے۔ ہمیں امید ہے کہ ایران سے اختلافات میں قدرے کمی آئے گی، لیکن کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ کسی اہم مسئلے پر اتفاق ہوگا۔ ادھر صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے کسی بھی معاہدے پر عمل کا پابند نہیں ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 319225
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب