0
Tuesday 3 Jun 2014 15:10
حکومت میرٹ کی بنیاد پر لوگوں کی آبادکاری کے انتظامات کرائے

امام خمینی نے وسائل و سہولیات کے بغیر طاغوتی نظام کو پاش پاش کیا، علامہ عابد حسینی

امام حسین (ع) کی قربانی امت مسلمہ کی روحانی اور اخلاقی نجات کا ذریعہ ہے، پروفیسر حبیب اللہ
امام خمینی نے وسائل و سہولیات کے بغیر طاغوتی نظام کو پاش پاش کیا، علامہ عابد حسینی
رپورٹ: ایس این حسینی

3 شعبان سن 3 ہجری کو مدینہ منورہ میں امام حسین علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ اسی مناسبت سے 14 سو 32 سال گزرنے کے باوجود آج تک ہر سال دنیا کے گوشے گوشے میں یہ دن پورے مذھبی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ دنیا کے کونے کونے میں اس دن سیمنیارز، جلسے، اور کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں۔ جس میں علمائے کرام، اور سکالرز امام عالی مقام کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ دنیا بھر کی طرح تحریک حسینی کے زیراہتمام پاراچنار شہر میں بھی امام حسین علیہ السلام کی ولادت باسعادت نیز امام خمینی کے یوم وفات کی مناسبت سے 3 شعبان کو ایک عالیشان جلسے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں بڑی تعداد میں مومنین نے شرکت کی۔ جلسے  سے مقامی علمائے کرام کے علاوہ باجوڑ اور چارسدہ کے جید اہل سنت علمائے کرام، علامہ محمد شعیب اور پروفیسر علامہ حبیب اللہ  نے بھی خطاب کیا۔ اپنے اپنے خطابات میں مذکورہ علماء نے امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی پر روشنی ڈالی، انہوں نے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی قربانی کو امت مسلمہ کی روحانی اور اخلاقی نجات کا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کل ہم مسلمانوں کے پاس جو کچھ ہے وہ کربلا کے صدقے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مشہور مذاہب اس بات کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ کہ کاش ہمارے پاس واقعہ کربلا کا کوئی نمونہ ہوتا، تو ہم پوری دنیا پر حکومت کرتے اور پوری دنیا کو اپنی مذہب کے پیروکار بناتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ قربانی نہ ہوتی تو امت مسلمہ کے سامنے یزیدی کردار ہی حجت ہوتا۔ یوں مسلمان انہی کو اصل اسلام سمجھ کر برقرار رکھتے۔ انہوں نے امام عالی مقام کی قربانی کو امت کے لئے نجات کا ذریعہ قرار دیا۔ 

جلسے سے مقامی علماء نے بھی اپنے خطاب کے دوران امام خمینی کی عظیم شخصیت کو اجاگر کیا۔ اس دوران علامہ سید عابد حسین الحسینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ امام خمینی کی شخصیت تمام مسلمانوں کے لئے ایک نمونہ ہے، امام راحل نے بغیر وسائل اور سہولیات کے ایک طاقتور طاغوت اور اسکے طاغوتی نظام کو پاش پاش کرکے شکست سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے سیاسی اور مذھبی رہنماوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح پاراچنار بھی گونا گوں مسائل سے دوچار ہے۔ ہمیں متحد ہوکر ان مسائل کے حل کے لئے قیام کرنا چاہیئے، اور مسائل کے حل تک آرام سے نہیں بیٹھنا نہیں چاہیئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ہمیں اپنے اندرونی مسائل میں الجھائے رکھا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے حقوق پائمال ہو رہے ہیں اور ہم انکی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے۔ انہوں نے 31 سال قبل صدہ سے بےدخل طوری بنگش قبائل کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف سات سال قبل افغان منگل قبائل کی بحالی کی حکومتی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت انصاف کا دامن ہاتھ میں تھام کر میرٹ کی بنیاد پر سب سے پہلے ان لوگوں کی آباد کاری کے انتظامات کرائے جن کی دو نسلوں نے اپنے آبائی وطن کو دیکھا تک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاراچنار اور ملک کے دیگر علاقوں میں شیعوں کے ساتھ بےانصافی اور ناروا سلوک پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ حکومت اپنے عوام کے مسائل اور مشکلات میں اگر واقعا سنجیدہ ہے۔ تو وہ بلا تفریق مذہب و مسلک اپنے ہر شہری کو پورا پورا تحفظ فراہم کرے اور انہیں پورا پورا انصاف دلایا جائے۔ 

پروگرام کے اختتام پر تحریک حسینی کے سپریم لیڈر، سابق سینیٹر علامہ سید عابد حسینی نے تحریک کے نومنتخب صدر مولانا منیر حسین سے حلف لیا۔ واضح رہے، منیر حسین دو سال قبل جون 2012ء کو تحریک کے صدر منتخب ہوِئے تھے اور انہوں نے علامہ عابد حسینی کی سرپرستی میں تحریک حسینی کے پلیٹ فارم سے علاقے کے مسائل کے لئے دن رات ایک کرکے بھرپور محنت کی۔ انکی قیادت میں کرم ایجنسی کے ہزاروں مسائل حل ہوئے، انہی خدمات کے صلے میں تحریک کے متعلقہ شعبہ جات، سپریم کونسل اور کابینہ نے انہیں آئندہ دو سال کے لئے دوبارہ صدر منتخب کردیا۔
خبر کا کوڈ : 388809
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے