0
Saturday 18 Oct 2014 08:42

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ختم کر دیا گیا

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ختم کر دیا گیا
اسلام ٹائمز۔ امریکی و سعودی دباو نے کام کر دکھایا، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ختم، اقتصادی رابطہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایران نے بین الحکومتی تعاون کے معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیا ہے، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایران نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ برادر ممالک کے مابین یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ پائے تاہم پاکستانی حکومت مسلسل امریکی اور سعودی اشاروں پر اس منصوبے کو حیلوں بہانوں سے سرد خانہ کی نظر کرتی رہی، جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ ناقابل عمل ہو کر رہ گیا۔ جس کے بعد پاکستان نے یکم جنوری 2015 سے 1 ملین ڈالر یومیہ جرمانے سے بچنے کیلئے ایران کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ سرکاری دستاویز کے مطابق 2 اکتوبر کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزارت پٹرولیم نے انکشاف کیا تھا کہ ایران نے بین الحکومتی تعاون معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کردیا ہے۔ مزید یہ کہ ایران پاکستان کو گیس پائپ لائن کی تعمیر کے لیے پچاس کروڑ ڈالرز کی ادائیگی کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔

عالمی پابندیوں اور ایران کی جانب سے یکطرفہ طور پر بین الحکومتی تعاون معاہدہ ختم ہونے کی وجہ سے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ موجودہ شکل میں ناقابل عمل ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے ساتھ ماضی میں کیے گئے معاہدے کے مطابق پاکستان ایران سے دسمبر 2014ء تک گیس کی خریداری کا پابند ہے۔ اس معاہدے کے مطابق اگر پاکستان ایران سے گیس کی خریداری نہیں کرتا تو اس صورت میں یکم جنوری 2015ء سے پاکستان کو دس لاکھ ڈالرز یومیہ جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ چنانچہ اس جرمانے سے بچنے کے لیے وزارت پٹرولیم کی کمپنی انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم نے آئی پی منصوبے پر ایران کو نوٹس جاری کر دیا ہے، جس میں عالمی پابندیوں کو بنیاد بنا کر فورس میجور کلیم کیا گیا ہے۔ فورس میجور کے تحت منصوبے پر عمل کرنا پاکستان کے اختیار میں نہیں۔ اسی لیے فورس میجور ایران کے ساتھ معاہدے میں درج شق کے تحت کیا گیا ہے۔ وزارت پٹرولیم کے حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایران پر عالمی پابندیاں ختم ہوگئیں تو گیس خریداری کے لیے ایران کے ساتھ نیا معاہدہ کیا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 415148
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے