0
Saturday 24 Jan 2015 14:56

نواز لیگ اور پیپلز پارٹی میں رابطہ، پی ٹی آئی کے اراکین سندھ اسمبلی کے استعفے التوا کا شکار

نواز لیگ اور پیپلز پارٹی میں رابطہ، پی ٹی آئی کے اراکین سندھ اسمبلی کے استعفے التوا کا شکار
اسلام ٹائمز۔ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطے کے بعد مفاہمتی پالیسی کے تحت سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے 4 ارکان کے استعفوں کا معاملہ التواء کا شکار ہوگیا ہے، اور ان کے استعفوں کے بارے میں تاحال الیکشن کمیشن کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے 2 روز قبل سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے 4 ارکان اسمبلی ثمر علی خان، خرم شیر زمان، سید حفیظ الدین اور ڈاکٹر سیما ضیاء کے استعفے منظور کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد ملک کی سیاسی فضاء میں ہلچل پیدا ہوگئی تھی اور نواز لیگ کی وفاقی حکومت کے اہم حلقے اس حوالے سے متحرک ہوگئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کا پیپلز پارٹی کی اعلیٰ شخصیت سے رابطہ ہوا ہے، جس میں انھیں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر عملدرآمد فی الحال روک دیا جائے۔

اس رابطے کے بعد پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اسپیکر آغا سراج درانی کو اہم ہدایات جاری کی ہیں، اور انھوں نے فی الحال ان استعفوں کو الیکشن کمیشن میں بھیجنے سے روک دیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ التواء کا شکار ہو گیا ہے اور اسمبلی سیکریٹریٹ نے اسپیکر کی جانب سے استعفوں کے منظوری کے اعلان کے باوجود ان کو الیکشن کمیشن کے پاس نہیں بھیجا۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ تحریری طور پر استعفوں کی منظوری کے حوالے سے دستاویزات نہیں بھیجے گا، استعفوں کی منظوری کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ان استعفوں کی منظوری کے معاملے پر بعض قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں، جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے، امکان ہے کہ استعفوں کی منظوری کے تحریری احکام جاری کرنے سے قبل ان تمام ارکان اسمبلی کو اسپیکر دوبارہ طلب کر سکتے ہیں، اور ان کے موجودہ فیصلے میں اگر قانونی تقاضے پورے نہیں ہوئے تو منظوری کے فیصلے میں ردوبدل ہو سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 434757
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب