0
Friday 1 Apr 2011 16:03

جب تک ثبوت نہ ملے کسی پر حملے کا الزام نہیں لگاؤں گا، ہمیشہ سامراج کی غلامی سے آزادی کے لئے جدوجہد کرتے رہیں گے، فضل الرحمن

جب تک ثبوت نہ ملے کسی پر حملے کا الزام نہیں لگاؤں گا، ہمیشہ سامراج کی غلامی سے آزادی کے لئے جدوجہد کرتے رہیں گے، فضل الرحمن
کراچی:اسلام ٹائمز-جیو ٹی وی کے پروگرام  " آج کامران خان کے ساتھ " میں میزبان کے مولانا فضل الرحمٰن سے سوال کہ آپ پر حملوں کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں؟ کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے جے یو آئی ہمیشہ سے سامراج کی غلامی سے آزادی کے لئے جدوجہد کرتی رہی ہے لیکن ہماری یہ کوشش ہمیشہ سیاسی انداز میں رہی اور قانون اور آئین کے دائرے میں رہی، ہم نے کبھی تلوار بندوق یا میزائل نہیں چلائے، دوسری جانب وہ قوتیں جو شاید اس بات پر ناراض ہیں کہ وہ ہماری طرح پہاڑوں میں تلوار بندوق کیوں نہیں اٹھا رہے۔ میزبان کامران خان نے پوچھا کہ ابھی ہمیں نہیں پتا کہ ان حملوں کے پیچھے کون لوگ ہیں،غیر ملکی ہیں یا جو کوئی بھی ہے ان کی بیخ کنی کیسے ہو؟ مولانا نے کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ یہ کام کرنے والے اپنے ہیں یا پرائے ہیں، میرا اپنا یہ اصول رہا ہے کہ جب تک ثبوت سامنے نہ آئیں کسی پر الزام نہ لگائیں۔ کامران خان نے پوچھا کیا ایسا تو نہیں کہ آئندہ الیکشن میں جے یو آئی کو حصہ لینے سے روکنے کیلئے انتہاء پسند قوتیں ابھی سے متحرک ہو گئی ہیں؟ اس پر مولانا نے کہا کہ ہماری مقبولیت کو عوام میں جو پذیرائی مل رہی تھی انتہاء پسند ان حملوں سے اسے روکنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دھمکیاں تو ملتی رہتی تھیں مگر ہم نے سوچا کہ عوام میں پیدا ہونے والے خوف کو کم کریں اور عوام میں جائیں لیکن کچھ قوتوں کو یہ پسند نہیں آیا اور انہوں نے ہماری اس کوشش کو روکنے کی کوشش کی۔
 بھارت سے رشتوں میں بہتری کی گاڑی پھر چل پڑی اس عنوان کے حوالے سے کامران خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گو کہ پاکستان بدھ کو میچ ہار گیا مگر اچھی بات یہ ہوئی کہ دونوں ممالک میں ایک عرصہ سے تعطل کا شکار تعلقات میں بہتری آئی اور ملاقات کا سلسلہ پھر شروع ہوا، دونوں ممالک کے وزرائے اعظم میں ملاقات ہوئی جس میں بھارتی پارلیمنٹ کے ارکان اور سونیا گاندھی بھی شریک تھیں، اس موقع پر یہ کہا گیا کہ اب دونوں ممالک تمام ایشوز پر مل کر کام کریں گے، اسی
 دوران یہ بھی خبر ہے کہ بھارتی وزیراعظم نے انڈین کرکٹ بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاک بھارت کرکٹ سیریز کا نیا سلسلہ فوراً شروع کرے جس کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاکستان بورڈ کے ساتھ رابطہ کیا ہے، حالات کی بہتری کے لئے دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانا اہم معاملہ ہے۔
ممبئی واقعات کے بعد سے اس سلسلے میں کوششیں ہوئی ہیں، تاہم یہ کوششیں پس پردہ رہیں، ان کوششوں میں کلیدی ہاتھ سابق وزیر خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی کا رہا۔ پروگرام میں شاہ محمود قریشی سے کامران خان نے سوال کیا کہ کیا اب پاکستان اور بھارت میں امن کی گاڑی چل چکی ہے؟ کے جواب میں شاہ محمود نے کہا کہ بدھ کو پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان ہونی والی نشست اچھی تھی، ممبئی حملوں کے بعد ہمارے تعلقات کشیدہ تھے، مذاکرات کا سلسلہ بھی رک گیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ میری پہلے دن سے یہ کوشش رہی کہ بھارتی حکام کو اس بات پر آمادہ کر لوں کہ دہشت گردی کے واقعات ہمارے امن عمل کو متاثر نہ کریں، اگر ایسا ہوا تو کامیابی انہی لوگوں کو ہو گی جو اس عمل کو روکنا چاہتے ہیں، بھارت کو اس پر ہچکچاہٹ تھی اور ان کا کہنا تھا کہ نہیں پہلے دہشت گردی پر بات ہو گی ممبئی پر پیش رفت ہو گی تو آگے بڑھیں گے، اس میں بھارت کی ڈومیسٹک سیاسی صورتحال آڑے آ رہی تھی، وہ آگے بڑھنا چاہتے تھے لیکن ان کے ملک کا ماحول سازگار نہ تھا۔
 کامران خان نے پوچھا کہ کیا بدھ کی ملاقات کے بعد ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ حالات بہتر ہونگے اور ہم موثر نتیجے کی جانب بڑھیں گے؟ جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بدھ کی ملاقات اسٹرکچرڈ ڈائیلاگ نہیں تھا، اس میں نہ ہی فارن منسٹر اور نہ فارن سیکریٹری تھے، جہاں تک معاملات کا تعلق ہے تو وہ پہلے سے طے شدہ ہیں، موہالی سے پہلے ہی پاکستان اور بھارت روڈ میپ طے کر چکے ہیں۔ کامران خان نے سوال کیا کہ کیا حالیہ رابطوں کے بعد ہم کسی بڑے بریک تھرو کی جانب بڑھ سکتے ہیں؟ شاہ محمود نے کہا کہ بریک تھرو حاصل کرنے کے لئے دو تین چیزیں درکار ہیں، پولیٹیکل ول ہونی چاہئے، میں نے بھارتی قیادت کے سامنے چند چیزیں رکھی تھیں جو قابل عمل ہیں، دوسری چیز اعتماد کی بحالی اور تناؤ میں کمی لانا ہو گی۔

خبر کا کوڈ : 62520
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب