0
Saturday 13 Jun 2009 10:17

لاہور:جامعہ نعیمیہ میں خودکش دھماکہ، ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہید

لاہور:جامعہ نعیمیہ میں خودکش دھماکہ، ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہید
لاہور: جامعہ نعیمیہ لاہور میں خودکش حملے کے نتیجے میں ملک کے ممتاز عالم دین اور جامعہ نعیمیہ لاہور کے منتظم علامہ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی اور ان کے 3ساتھیوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق علامہ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں جامعہ نعیمیہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد معمول کے مطابق اپنے دفتر میں جامعہ کے طلبا اور لوگوں سے ملاقات کر رہے تھے کہ اسی اثناء میں خودکش حملہ آور اندر داخل ہوا اور ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ خودکش حملے میں ڈاکٹر سرفراز نعیمی، ان کے معتمد ڈاکٹر خلیل، ان کے قریبی ساتھی عبدالرحمن، راشد اور ایک نامعلوم شخص جاں بحق ہوگیا جبکہ دفتر میں موجود دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ دھماکے سے مسجد اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی کو کیرن اسپتال لے جایا جارہا تھا کہ وہ راستے میں ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ دھماکے کے وقت نمازیوں کی اکثریت نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد سے جا چکی تھی۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت کی خبر ملتے ہی جامعہ کے طلباء، اساتذہ اور مولانا کے عقیدت مند، رفقاء، عزیز وا قارب اور رشتہ دار فوری طور پر مسجد پہنچ گئے اور انہوں نے ناقص سیکورٹی انتظامات پر احتجاج کیا۔ اس موقع پر بعض طلبا مشتعل ہوگئے اور ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت پر عقیدت مند، طلباء اور یگر افراد دھاڑیں مار مار کر روتے رہے اور ہر آنکھ اشکبار تھی جبکہ شہر بھر میں سوگ کا سماں رہا۔ مظاہرین نے سیکورٹی کے ناقص انتظامات پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین نے اس موقع پر اسلام کے نام پر معصوم، بے گناہ اور نیک انسانوں کا نا حق قتل کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی۔ مشتعل طلباء نے پولیس اہلکاروں اور میڈیا کے نمائندوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، پولیس ، رینجرز اور دیگر سیکورٹی اداروں کے اہلکار سوگواران کے احتجاج پر مدرسے سے باہر آگئے۔ تاہم ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے صاحبزادے راغب نعیمی،جامعہ نعیمیہ کے ذمہ داروں اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے طلبا کو صبروتحمل کی تلقین اور پرامن رہنے کی اپیل کی۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے صاحبزادے نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے ملک کی حفاظت کیلئے اپنی جان کا نذرانہ دیا ہے، اس کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا، والد کی شہادت ملک کو محفوظ بنانے کیلئے ایک قربانی ہے جو کسی بھی صورت رائیگاں نہیں جائے گی۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی کی نماز جنازہ (آج) ہفتہ کو صبح 10بجے جامعہ نعیمیہ میں ادا کی جائے گی۔ جنازہ میں اہم سیاسی اور دینی شخصیات سمیت تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ شرکت کریں گے۔ اس موقع پر پولیس اور رینجرز کی جانب سے فول پروف سیکورٹی کے انتظامات کیے
گئے ہیں۔ حکومت پنجاب نے جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور میں جمعہ کے روز ہونیوالے خودکش بم دھماکے کی تحقیقات کیلئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سی آئی ڈی پولیس پنجاب کی سربراہی میں ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کے ارکان میں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شامل ہیں جو فوری طور پر مذکورہ افسوسناک واقعہ کی تحقیقات کرکے اس کی رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کریگی۔ یادر ہے کہ علامہ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی کا شمار ملک کے ممتاز علمائے کرام میں ہوتا تھا، وہ رویتِ ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین اور جامعہ نعیمیہ کے بانی مفتی محمد حسین نعیمی کے صاحب زادے تھے۔
ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت پر ملک بھر میں سوگ، مظاہرے، آج ہڑتال اور مدارس بند رکھنے کا اعلان
کراچی :لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں خودکش حملہ اور علامہ مفتی سرفراز احمد نعیمی سمیت دیگر افراد کی شہادت کے واقعہ کے خلاف ملک بھر میں سوگ کا سماں تھا اور کراچی سمیت سندھ بھر میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور ملک بھر میں جلوس نکالے گئے ، جبکہ علماء اہلسنت، سنی رہبر کونسل اور سنی تحریک نے آج مدارس بند رکھنے اور ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے ،تفصیلات کے مطابق تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے صدر مفتی منیب الرحمن، سرپرست علامہ سید حسین الدین شاہ، ناظم امتحانات مولانا غلام محمد سیالوی، قائم مقام ناظم اعلیٰ صاحبزادہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی، علامہ جمیل احمد نعیمی، مفتی محمد اطہر نعیمی، مفتی محمد رفیق حسنی، مولانا غلام دستگیر افغانی، مفتی محمد جان نعیمی، مفتی محمد الیاس رضوی، صاحبزادہ ریحان امجد نعمانی اور دیگر علماء اہلسنت نے ایک مشترکہ بیان میں ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی رحمتہ اللہ علیہ کی شہادت پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی شہادت اہلسنت و الجماعت کیلئے ایک عظیم سانحہ ہے اور ان کی شہادت سے ناقابل تلافی خلا پیدا ہو گیا ہے، جو مدتوں پر نہیں ہو سکے گا۔ وہ شہید اسلام، شہید تحفظ ناموس رسالت اور شہید پاکستان ہیں۔انہوں نے ڈاکٹر نعیمی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نڈر بیباک اور عظیم عالم دین تھے انہوں نے استحاکم پاکستان کیلئے بےمثال جدوجہد کی، تحفظ ناموس رسالت کیلئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔انہوں نے جرات اور استقامت اور قوت ایمانی کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھا اور انتہائی مستعد ،متحرک اور فعال شخصیت کے مالک تھے، وہ اہلسنت و لجماعت کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ نعیمیہ لاہور کے مہتمم و ناظم اعلی، اہلسنت و لجماعت کے چھ ہزار مدارس کی تنظیم ،تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے ناظم اعلیٰ اور مختلف مسالک کے مدارس کی تنظیمات کی فیڈریشن ،اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ تھے، علماء نے ان کی دینی و ملی خدمات کو شاندار خراج تحسین پیش کیا ہے، وہ اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کی نگاہ میں کانٹے کی
طرح کھٹکتے تھے اور بالآخر ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے جمعةالمبارک کے دن وہ شہادت کے منصب پر فائز ہو ئے ۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے مشن کو جاری رکھا جائے گا۔ دشمنان دین و ملت نے ان کی ایک زندگی کا چراغ گل کیا ہے اس سے اور کئی پرعزم چراغ جلیں گے۔ علماء نے ملت اسلامیہ پاکستان سے آج بروز ہفتہ پرامن ہڑتال اور یوم سوگ کی اپیل کی ہے۔ تمام مدارس میں تدریس معطل رہے گی اور ان کے ایصال ثواب کی مجالس منعقد ہوں گی۔ انہوں نے تمام دینی قوتوں اور دردمند پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ اس سانحہ پر پرزور احتجاج کریں اور اہلسنت و لجماعت سے اپیل کی ہے کہ پرامن رہیں، ثابت قدم رہیں، حوصلہ مند رہیں اور ڈاکٹر صاحب کے مشن کو زندہ و تابندہ اور جاری و ساری رکھنے کیلئے پرامن جدوجہد کریں۔ علماء اہلسنت، سنی رہبر کونسل نے معروف عالم دین مولانا سرفراز احمد نعیمی اور ان کے رفقاء کے قتل کیخلاف ہفتہ کو پرامن ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ جمعہ کو دارالعلوم امجدیہ میں مقتدر اہلسنت علماء کے ہنگامی اجلاس کے دوران کیا گیا۔ اجلاس میں علامہ جمیل نعیمی، مفتی محمد جان نعیمی، صاحبزادہ ریحان امجدی، علامہ شاہ تراب الحق، علامہ اکرام مصطفی عظمی، شاہد غوری، حاجی حنیف طیب، صدیق راٹھور، مفتی حلیم ہزاروی، طارق محبوب اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تنظیم المدارس کے تحت آنے والے دینی مدارس میں تین روزہ سوگ کے طور پر تدریسی عمل معطل رہے گا۔ سربراہ سنی تحریک ثروت اعجاز قادری نے لاہور میں ممتاز عالم دین مفتی سرفراز نعیمی کی المناک شہادت کے خلاف آج ہفتہ (13/جون) ملک بھر میں عام ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ سربراہ سنی تحریک نے لاہور بم دھماکے کو ملک کے اعتدال پسند عوام اہلسنت کے خلاف گھناؤنی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں شیطانائزیشن کی یلغار کو روکنے کیلئے مفتی سرفراز نعیمی نے مرکزی کردار ادا کیا۔ 
ڈاکٹر نعیمی کی شہادت: کراچی میں شدید افواہوں سے خوف و ہراس، بازار جلدی بند ہوگئے
کراچی: لاہور میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملے میں معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت کی اطلاع کراچی پہنچتے ہی شہر میں سوگ کی فضا قائم ہو گئی مگر اس کے ساتھ ہی افواہوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا اور شہر میں طرح طرح کی افواہیں پھیل گئیں جس سے خوفزدہ ہو کر کاروباری حضرات نے دکانیں وغیرہ بند کر دیں جب کہ دفاتر سے لوگ جلد از جلد گھر پہنچ گئے جس کے باعث شام تک شہر کی سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم رہ گیا۔ سندھ خصوصاً کراچی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔ اہم تنصیبات، اہم مقامات اور حساس علاقوں میں پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا جب کہ رینجرز کی پیٹرولنگ میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔ سینٹرل پولیس آفس کے ایک اعلامیے کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس سندھ سلطان صلاح الدین بابر خٹک نے سی سی پی او کراچی ریجنل پولیس افسران حیدرآباد
اور سکھر کو ہدایات جاری کی ہیں کہ پورے صوبے میں اہم تنصیبات اور عبادت گاہوں کی سخت حفاظت کی جائے۔ آئی جی نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں خود گشت کریں۔
علامہ سرفراز نعیمی کی شہادت،جمعہ کی شام کراچی کے مختلف علاقوں میں نامعلوم افراد کی فائرنگ اور جلاوٴ گھیراوٴ
کراچی : لاہور میں معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر علامہ سرفراز احمد نعیمی کی شہادت کے بعد جمعہ کی شام کراچی کے مختلف علاقوں میں نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ اور جلاوٴ گھیراوٴ کا سلسلہ شروع ہو گیا، فائرنگ کی زد میں آکر ایک نوجوان ہلاک اور 3بچوں سمیت 15افراد زخمی ہو گئے جبکہ ایک ٹیکسی اور ایک منی بس کو جلا دیا گیا، ذرائع کے مطابق نیو کراچی نالہ اسٹاپ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 35سالہ فیصل ولد ظہیر شدید زخمی ہو گیا جسے عباسی اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ رات کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے  چل بسا، دریں اثنا کھارادر کے علاقے میں جیلانی سینٹر، ٹاور کے قریب فائرنگ سے 38 سالہ سلیم اور 45 سالہ تازہ گل، نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں 13 سالہ اسامہ، نارتھ کراچی میں 25 سالہ نعمان، اورنگی ٹاوٴن سیکٹر 12-L میں 22/سالہ غلام مصطفی، رضویہ سوسائٹی میں رمضان، اور ناصر، شاہ فیصل کالونی میں افتخار، جیکب لائن میں 35 سالہ محمد یعقوب اور 25سالہ عمران، گرومندر میں 35سالہ صمد اور 12سالہ شہزاد، بلدیہ ٹاوٴن میں 8سالہ اکبر اور نیا آباد، لیاری میں فائرنگ سے 18سالہ نوجوان شکیل زخمی ہو گیا۔ مزید برآں جہانگیر روڈ پر نامعلوم افراد نے ایک ٹیکسی نمبر JM-4639 کو جلا دیا جسے ایک فائر ٹینڈر نے موقع پر پہنچ کر بجھایا، نیز فیڈرل بی ایریا، واٹر پمپ چورنگی کے قریب ایک منی بس کو جلا دیا گیا جسے ایک فائر ٹینڈر نے بجھایا۔ نامہ نگار کے مطابق میرپور خاص میں بڑی تعداد میں مشتعل افراد سڑکوں پر نکل آئے، دکانوں پر توڑ پھوڑ کی، ٹائر جلائے اور ہوائی فائرنگ کی جس سے تمام کاروباری مراکز بند ہو گئے۔ دریں اثناء سنی تحریک میرپور خاص کے زیر اہتمام مظاہرہ ہوا اور ریلی نکالی گئی۔ شکارپور سے نامہ نگار کے مطابق ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت کے خلاف مدرسہ غوثیہ جیلانیہ شکارپور سے نائب ناظم اعلٰی جماعت اہلسنت صوبہ سندھ، مولوی شفیق احمد قادری کی سربراہی میں احتجاجی جلوس نکالا گیا ۔سکھر سے بیورو رپورٹ کے مطابق جے یو پی سندھ کے صدر مفتی محمد ابراہیم قادری کی قیادت میں ایک جلوس نکالا گیا، جس نے ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت پر احتجاج کیا اور گھنٹہ گھر پر ٹائر جلائے اور حکومت سے قاتلوں کی گرفتار ی کا مطالبہ کیا۔سرگودھا میں سیاسی، مذہبی جماعتوں نے شدید احتجاج کیا اور دہشت گردوں کو گرفتار کرنے اور سرعام سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ شورکوٹ میں مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت کی خبر سنتے ہی اہل سنت والجماعت کے کارکنوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی، اوکاڑہ میں بھی جامعہ نعیمیہ لاہور
کے پرنسپل ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی خودکش دھماکے میں شہادت کے خلاف جے یو پی، جماعت اہل سنت اور سنی تحریک نے جامعہ غوثیہ اوکاڑہ سے احتجاجی جلوس نکالا اور نعرے لگائے۔
ڈاکٹر سرفراز نعیمی کا قتل ملک کے خلاف سنگین سازش ہے، سیاسی و مذہبی رہنما
کراچی: سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے لاہور میں جامعہ نعیمیہ اور نوشہرہ سپلائی ڈپو کی مسجد میں خودکش حملوں اور جامعہ نعیمیہ کے سربراہ ڈاکٹر مفتی سرفراز احمد نعیمی اور مہتمم ڈاکٹر خلیل سمیت متعدد افراد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مفتی نعیمی کے قتل کو ملک کے خلاف سنگین سازش قرار دیا ہے اور سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔ ان رہنماؤں میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ، مسلم لیگ ن کے قائد محمد نوازشریف، مسلم لیگ ق کے صدر سینیٹر چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الٰہی ، جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن ، قاضی حسین احمد، لیاقت بلوچ ، جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن ، وفاق المدارس پاکستان کے سیکریٹری جنرل حنیف جالندھری ، پی پی (ش ب ) کی چیئرپرسن غنویٰ بھٹو ، این پی پی کے سربراہ غلام مصطفی جتوئی، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قائد سید حامد علی شاہ موسوی ، تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر طاہر القادری سمیت دیگر شامل ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف نے جامعہ نعیمیہ کے سربراہ ڈاکٹر مفتی سرفراز نعیمی کی خود کش بم دھماکے میں شہادت کو عظیم قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی المناک شہادت میں اپنے نہایت ہی مخلص اور ہمدرد بھائی سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوگیا ہوں ۔ مفتی سرفراز نعیمی کے قاتلوں نے مذموم فعل کے ذریعے اسلام، انسانیت اور پاکستان دشمنی کا ثبوت دیا ہے ۔ انہوں نے شہداء اور زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کے ساتھ گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر سینیٹر چوہدری شجاعت حسین اور مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے جامعہ نعیمیہ لاہور اور نوشہرہ کینٹ کی مسجد میں خودکش حملوں میں جامعہ نعیمیہ کے سرپرست اور ممتاز عالم دین مولانا سرفراز احمد نعیم الازہری اور دیگر علماء کرام کی شہادت پر دلی رنج و غم اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کیلئے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا نعیمی کی شہادت ناقابل تلافی نقصان ہے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن ، سابق امیر قاضی حسین احمد، سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے مفتی سرفراز نعیمی کے قتل کو قومی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سب کیلئے قابل احترام شخصیت تھے ۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر اور قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا
نعیمی کی شہادت فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی سازش ہے ۔ وہ صرف ایک مسلک کے نمائندے نہیں بلکہ ہم سب کے لئے انتہائی قابل احترام شخصیت تھے ۔ وفاق المدارس پاکستان کے سیکریٹری جنرل حنیف جالندھری نے مفتی سرفراز نعیمی کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفتی سرفراز نعیمی کا قتل گہری سازش ہے ۔ پاکستان پیپلزپارٹی ( شہید بھٹو ) کی چیئرپرسن غنویٰ بھٹو نے مولانا سرفراز نعیمی کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ اور اہلسنت جماعت کے ملک بھر میں ان کے معتقدین سے دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ 
حملہ آور نے ریکی کی، ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو رکشے پر اسپتال لے جایا گیا، سیکورٹی کے ناقص انتظامات
لاہور: جامعہ نعیمیہ میں خودکش حملہ آور نے دھماکے سے قبل ریکی بھی کی تھی، جب زخمیوں کو میو اسپتال، سر گنگا رام اسپتال اور سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تو جمعہ کو ہاف ڈے اور نماز جمعہ کے باعث سینئر ڈاکٹر اسپتالوں میں موجود نہ تھے۔ جامعہ نعیمیہ میں سیکورٹی کے فرائض سرانجام دینے والے تین پولیس اہلکار سگریٹ پیتے رہے اور خودکش حملہ آور اندر داخل ہو گیا۔ واقعے کے عینی شاہد نے بتایا کہ وہ دفتر کے بالکل سامنے برآمدے میں بیٹھا دیکھ رہا تھا کہ پولیس اہلکار اپنی گپوں میں مصروف اور سگریٹ پی رہے ہیں کہ اسی دوران سفید شلوار قمیض میں ملبوس خودکش حملہ آور اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا جس کے بعد شدید دھماکا ہوا۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی جو حملہ میں شدید زخمی ہو گئے تھے، کو اسپتال لے جانے کیلئے ایمبولینس میسر نہ آ سکی جس کے باعث انہیں رکشا میں ریلوے کیرن اسپتال پہنچایا گیا۔ 
ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت پر آج لاہور میں تعطیل کا اعلان
لاہور: حکومت پنجاب نے ملک کے ممتاز عالم دین اور سرپرست اعلیٰ و پرنسپل جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی کی شہادت کے سوگ میں آج لا ہور میں مقامی تعطیل کا اعلان کیا ہے ،جبکہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی تدفین بھی سرکاری اعزاز کے ساتھ کی جائے گی، تاہم صوبائی دفاتر کھلے رہیں گے۔
طالبان نے ڈاکٹر نعیمی کی شہادت اور پشاور دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی
اسلام آباد:کالعدم تحریک طالبان نے پشاور اور لاہور کے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی،تنظیم کے ترجمان مولوی عمر نے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ہم نے پشاور کے ہوٹل پر حملہ کیا کیونکہ وہاں غیر ملکیوں کا آنا جانا تھا اور وہ طالبان اور اسلام کے خلاف سازشیں کر رہے تھے،انہوں نے کہا کہ ہم سرفراز نعیمی پر ہونیوالے خودکش حملے کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ امریکوں کو خوش کرنے کیلئے جو کوئی بھی ہمارے خلاف اقدامات کرے گا اس کا یہی انجام ہو گا،امریکا کے حامی ہمارے دشمن ہیں انہوں مزید کہاکہ ہمارا مقصد ملک میں اسلامی قانون کا نفاذ ہے ۔

خبر کا کوڈ : 6626
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب