0
Wednesday 16 Jun 2010 13:09

سی آئی اے،را اور موساد کے درمیان تعاون

سی آئی اے،را اور موساد کے درمیان تعاون
نصرت مرزا
 8 نومبر 2005ء کو چندی گڑھ انڈیا میں ہسکر فاؤنڈیشن کے تحت ایک 7 روزہ سیمینار منعقد ہوا تھا،اس میں پاکستان سے راقم،جنرل طلعت حسین اور سفیر نجم الدین شیخ شریک ہوئے تھے،جبکہ اسرائیل سے سابق موساد چیف اور موساد کے دیگر اہلکار سابق کے جے بی کے افسران،را،سی آئی اے اور دیگر ممالک کے انٹیلی جنس افسران شریک تھے۔ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اِس جاسوس برادری کے اجتماع میں ہم سول پاکستانیوں کو شرکت کی دعوت کیوں دی گئی۔ 
راقم نے واپس آ کر جنرل اسد درانی سے دریافت کیا تھا کہ وہ چندی گڑھ کیوں نہیں گئے،جبکہ اُن کو دعوت دی گئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر دعوت تو دی گئی تھی،مگر بعد میں رابطہ نہیں کیا گیا۔جس کے بعد معاملہ کافی گنجلک دکھائی دیا۔اِس سیمینار میں اگرچہ پاکستانیوں نے کھل کر اپنی بات کی،مگر سارے سیمینار کا ہدف پاکستان تھا،وہ پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز سمجھتے تھے،اُن کا خیال تھا کہ زلزلہ میں جو بچے اور بچیاں یتیم ہو گئے ہیں،وہ دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ جائیں گے،جن کو بعد میں جنرل پرویز مشرف کے ذریعہ جامعہ حفصہ میں شہید کرا دیا گیا۔
 ایک روسی دانشور سر جی کرنیال نے اپنی تقریر میں بلیک ہول اور سفید سرزمین کا تصور پیش کیا اور کہا کہ بلیک ہول وہ جگہیں ہیں،جہاں دہشت گردی پروان چڑھ رہی ہے،وہ صاف اور ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ کہتے رہے کہ پاکستان ہی وہ بلیک ہول ہے،جہاں دہشت گردی پنپتی ہے۔اس سے پہلے تو ہم اِس گمان میں مبتلا ہو گئے تھے کہ روسی افغانستان میں اپنی شکست کو نہیں بھولے اور حالت انتقام میں پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں،مگر بعد میں انہوں نے یہ تصور بھی پیش کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف اتحاد بنا لیا جائے تو راقم نے یہ جان لیا کہ پاکستان کے خلاف اردگرد کے ممالک امریکی ایماء پر یکجا ہو رہے ہیں اور شاید ہم دو سویلین قلمکاروں،ایک سفیر کو اس لئے بلایا گیا ہے کہ ہمیں خبردار کر دیں کہ وہ ایسا کرنے جا رہے ہیں۔
 بعد میں راقم نے اخباری خبروں پر نظر رکھی تو یہ معلوم ہوتا رہا کہ امریکہ،موساد اور را کے مشترکہ اجلاس تواتر کے ساتھ دہلی میں ہوتے رہے ہیں۔پہلا اجلاس تو سیمینار ختم ہونے کے ایک ہفتہ کے اندر ہو گیا اور دوسرا اسی سال دسمبر میں اور اُس کے بعد بھی مسلسل اجلاس ہوتے رہے۔اب روزنامہ ”جنگ“ کی ایک خبر سے اِس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ را،موساد اور سی آئی اے کے مابین مشترکہ دفاتر کھولنے کا ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔اِس معاہدہ کی رو سے امریکہ اپنے تین معروف انٹیلی جنس اداروں کے دفاتر دہلی،ممبئی،مدراس اور جے پور میں قائم کرے گا جبکہ اسرائیل کے انٹیلی جنس آفس دہلی،ممبئی اور جموں میں قائم ہونگے۔بھارت واشنگٹن،نیویارک میں اور جبکہ اسرائیل میں تل ابیب اور اشدود میں اپنے مشترکہ دفاتر قائم کرے گا۔وہ کہتے تو ہیں یہ کہ ایک سال کی طویل مذاکرات کے بعد یہ پانچ سالہ معاہدہ طے پایا ہے،مگر اصل صورت حال یہ ہے کہ پانچ سال سے مذاکرات چل رہے تھے،اور اب پانچ سال کے لئے معاہدہ طے ہوا ہے۔
راقم نے 2005ء میں آ کر اپنے احساسات کا اظہار اس وقت کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سے کیا کہ انڈیا،امریکہ،اسرائیل اور روس مل کر پاکستان کے خلاف انٹیلی جنس نظام وضع کر رہے ہیں،جس کا تدارک ہونا چاہئے۔معلوم نہیں کہ پاکستان نے اس سلسلے میں کیا کارروائی کی۔تاہم اُن کے مشترکہ آپریشن کا اظہار کئی معاملات میں ہوا۔بلوچستان میں پاکستان کے حکمران دراصل صرف "را"کی موجودگی کی بات کرتے ہیں اگرچہ وہاں سی آئی اے،ایم آئی 6 اور موساد بھی را کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔وہ نہ صرف پاکستان کے بلوچستان بلکہ ایران کے بلوچستان کو بھی عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں اور اسی لئے امریکہ نے انڈیا کو افغانستان میں کئی غیر ضروری قونصل خانے کھولنے کی اجازت دی ہوئی ہے،جس کی وجہ سے تخریب کاریاں بڑھی ہیں۔
وہ طالبان کی صفوں میں بھی گھس آئے ہیں اور بلوچوں کو بہکانے میں بھی کافی سے زیادہ کامیاب ہو گئے ہیں۔اسکولوں میں پاکستان کا ترانہ گانا ممنوعہ قرار دے دیا گیا ہے اور پاکستان کا پرچم لگانے پر پابندی ہے۔دوسرے صوبے کے اساتذہ کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے مارا جا رہا ہے۔یہ مشرقی پاکستان پیٹرن ہے۔اِس طرح سے پاکستان کی مذہبی،جہادی تنظیموں میں اُن کا اثر و رسوخ ضرورت سے زیادہ نظر آ رہا ہے اور پاکستان کو سخت نقصان پہنچا رہا ہے۔پاکستانی فوج کو مصروف رکھا جا رہا ہے،نااہل حکومت براجمان ہے۔اب امریکی حکومت پاکستان سے اجازت مانگ رہی ہے کہ وہ کوئٹہ میں انٹیلی جنس کے دفاتر کھولنے دے۔اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سرکٹ مکمل ہو جائے گا اور امریکہ،انڈیا،اسرائیل مل کر پاکستان میں اپنی تخریب کاریوں کو عروج پر پہنچا دیں گے۔اِن تینوں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان اتحاد پاکستان کے لئے سم قاتل ہے اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس اتحاد کے منفی نتائج اور اثرات سے اپنے آپ کو بچائے۔
 یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ جہاں را،سی آئی اے اور موساد کے درمیان تعاون بڑھا ہے وہاں انڈیا نے روس سے بھی اسی قسم کا معاہدہ ضرور کر لیا ہو گا،جس کی خبر ہمیں چند روز میں سننے کو مل جائے گی۔اس کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستان،چین،ترکی اور ایران مل کر صورتحال کا مقابلہ کریں،کیونکہ یہ سارے ممالک خطہ کے اِن چاروں ممالک کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔

خبر کا کوڈ : 28471
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب