0
Tuesday 22 Apr 2014 21:49

اپریل 1996ء، اسرائیلی جارحیت کی داستان (روز بروز)

اپریل 1996ء، اسرائیلی جارحیت کی داستان (روز بروز)
تحریر: صابر کربلائی
(ترجمان فلسطین فائونڈیشن پاکستان)


یہ اپریل 1996ء کی بات ہے کہ جب غاصب صیہونی اسرائیل نے لبنان پر جارحانہ حملے کا آغاز کیا، جی ہاں یہ اپریل 1996ء کا گیارھواں دن تھا، اسرائیلی فوج نے لبنان کے خلاف Grapes of Wrath کے نام سے فوجی آپریشن کا آغاز کیا اور اس دوران سیکڑوں بچوں اور خواتین سمیت بزرگوں اور نوجوانوں کا قتل عام کیا۔ اس آپریشن کو جواب دینے کے لئے لبنانی فوج کے پاس صلاحیت ناکافی تھی تاہم لبنانی عوام کی نگاہیں صرف اور صرف اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ پر لگی ہوئی تھیں، اور حزب اللہ نے اپنے فرض کی ادائیگی کرتے ہوئے اسرائیل کو جواب دینے کا فیصلہ کیا اور مزاحمت اس آپریشن کو روکنے کے لئے فرنٹ لائن پر آ گئی۔

دوسری طرف امریکہ اسرائیلی جارحیت کے اس آپریشن میں اسرائیل کو ہر طرح سے مدد فراہم کررہا تھا اور جدید ترین ٹیکنالوجی سمیت اسلحہ فراہم کیا جا رہا تھا، کیونکہ ایک ماہ قبل ہی شرم الشیخ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں اس وقت کا امریکی صدر بل کلنٹن یہ بات کہہ چکا تھا کہ وہ لبنان میں اسلامی مزاحمت کو ختم کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے اسرائیلی ہم منصب شمعون پیریز کی خدمات انہیں درکار تھیں جس پر شمعون پیریز نے حامی بھرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلہ کو ڈومیسٹک سطح پر حل کر لیں گے اور حزب اللہ اور لبنان کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کریں گے، اور پھر اس فیصلے کے بعد گیارہ اپریل 1996ء کو لبنان کے خلاف جارحیت کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے اس آپریشن کو Grapes of Wrath کا نام دیا اور پہلے مرحلے میں لبنان کے علاقے بعلبک شہر میں فضائی حملوں کا آغاز کر دیا اور ساتھ ساتھ سجود اور ریحان نامی پہاڑی سلسلوں پر موجود لبنانی آبادی کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا۔

11 اپریل، جارحیت کا پہلا روز:
جارحیت کے پہلے روز اسرائیلی فوج نے لبنانی فوج کی چیک پوسٹوں کو بھی نشانہ بنایا، اور متعدد لبنانی فوجی زخمی ہوئے اور اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی افواج نے 1982ء سے لبنان پر جاری اسرائیلی جارحیت کے دور میں پہلی مرتبہ لبنان کے جنوبی حصے اور بالخصوص بیروت کو حملوں کا نشانہ بنایا جسکے نتیجے میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ اسرائیلی افواج نے لبنان کے گائوں دیہاتوں میں بسنے والے معصوم انسانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اور بکا سے لے کر ضاحیہ تک کے تمام علاقوں میں بمباری جاری رکھی جبکہ اس کے جواب میں حزب اللہ کے مجاہدین نے اسرائیلی افواج کی چیک پوسٹوں پر چھاپہ مار کاروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور ہر اس جگہ کو بم دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ شروع کیا جو غاصب اسرائیلیوں کی مدد میں استعمال ہو رہی تھی۔

12 اپریل، جارحیت کا دوسرا روز:
اسرائیلی آپریشن کے دوسرے روز بھی اسرائیلی جنگی مشینری نے مغربی بکا کے علاقوں بشمول دیہاتوں کی آبادیوں کو نشانہ بنایا اور درجنوں افراد کو موت کی نیند سلا دیا، بیروت کے علاقے ضاحیہ میں مسلسل بمباری جاری رہی، اس کے نتیجے میں ایک شامی فوج کا اعلٰی افسر جو اس وقت رام العالی کے مقام پر تعینات تھا اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہو گیا۔ اسرائیلی فوج کے لبنان کے خلاف جاری آپریشن Grapes of Wrath میں سب سے بڑا سفاکانہ حملہ اسی روز ہوا کہ جس دن شُمر نامی مقام پر اسرائیلی افواج نے بڑا حملہ کیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، یہ بہت بڑی تباہی تھی جو اس آپریشن کے دوران سامنے آئی۔

اسرائیلی افواج نے غیر اعلانیہ طور پر کرفیو کا نفاذ کر دیا اور اس حالت میں لوگ جو بازاروں سے روزمرہ کی ضروریات کی اشیاء خرید و فروخت کرنا چاہتے تھے ان پر اسرائیلی افواج نے بدترین تشدد کئے اور گولیوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں نو افراد جن میں معصوم بچوں سمیت ایک معصوم لڑکی بھی شامل تھی شہید ہوئے۔ اس بدترین تباہی کے جواب میں اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے Katyusha نامی راکٹوں سے اسرائیلی فوجیوں کی پناہ گاہوں پر حملہ کر دیا اور خاص طور پر متالیہ کے علاقے کریات شما میں موجود صیہونی آباد کاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیلی دشمن کو واضح پیغام تھا کہ اسلامی مزاحمت اسرائیلی جارحیت کے جواب میں کاروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ حزب اللہ کی جوابی کاروائیوں کے سلسلے میں لبنانی عوام کو ہمت حاصل ہونا شروع ہوئی اور لبنان کے عوام اپنے دکھ اور غموں کو بھول کر حزب اللہ کی حمایت میں نکل پڑے۔

13 اپریل، جارحیت کا تیسرا روز:
جارحیت کے تیسرے روز شمور کے بعد دوسرا بڑا تباہ کن قتل عام لبنانی علاقے ال منصوری میں ہوا، یہاں چھ افراد شہید ہوئے اور ساتھ زخمی، یہ حادثہ ایک ایمبولینس کے ساتھ پیش آیا جو اسپتال کی طرف روانہ تھی تاہم اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے اس ایمبولینس کو نشانہ بنایا، ان چھ شہید ہونے والوں میں دو خواتین جن کی عمر 28سال اور50 سال تھی، جبکہ باقی شہید ہونے والے بچے تھے جب میں ایک بچے کی عمر دو سال اور ایک کی عمر دس سال تھی۔ جارحیت کے تیسرے روز اسرائیلی افواج نے جب شیث، عدشیث، ہاروف اور میفدوم نامی جنوبی لبنانی گائوں پر حملے جاری رکھے، اور لبنانی فوج کی چوکیوں کو بھی ڈسٹرکٹ تیر اور نباتیہ میں نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب مجاہدین نے ایک کاروائی میں اسرائیلی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا جو کہ شہریوں کے گھروں پر بمباری کر رہا تھا، حزب اللہ کے راکٹوں نے اسرائیلی ٹینک Merkava کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ٹینک میں موجود تمام اسرائیلی فوجی مارے گئے۔ حزب اللہ کی ایک اور کاروائی کہ جس میں Katyusha نامی راکٹ اسرائیلی شہروں نہاریہ، گیدون اور کرات شما میں جا گرے۔ یہ حزب اللہ کی کامیابی تھی کہ اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے اعتراف کیا کہ اسرائیلی سخت ترین آپریشن کے باوجود بھی حزب اللہ یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

14 اپریل، جارحیت کا چوتھا روز:

جارحیت کے چوتھے دن بھی اسرائیلی جنگی جہازوں نے جنوبی لبنان کے علاقوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا، دوسری جناب المنصوری میں ہونے والے انسانی جانوں کے زیاں کے بعد مصر، شام، فرانس، ایران، امریکہ، اسرائیل، روس، لبنان کے مابین گفت و شنید کا عمل شروع ہوا کہ آخر جنگ بندی کس طرح کی جائے؟ جارحیت کے چوتھے دن لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق الحریری فرانس کے دورے پر جا رہے تھے اور اس سے قبل انہوں نے کچھ عرب ممالک کے رہنمائوں سے بھی ملاقات کی تھی۔ دوسری طرف لبنان کے اقوام متحدہ کے ترجمان نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک درخواست بھی اقوام متحدہ میں جمع کروائی۔ سفارتی حل کی شروعات میں امریکہ نے اس مسئلے کے حل کو اسرائیلی شرائط اور من مانی سے مشروط قرار دیتے ہوئے اپنی ہٹ دھرمی کا ثبوت دیا، ان تمام سفارتی گفت و شنید میں لبنان نے اسرائیلی دبائو میں نہ آنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اس حوالے سے ایران کا کردار انتہائی مثبت رہا کہ جس نے لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مزاحمت نے اسرائیل کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ بہرحال اسرائیلی جارحیت کے اس چوتھے دن کا سب سے بڑا درد ناک واقعہ حزب اللہ کے ستر مجاہدین کی شہادت کا تھا جسے لبنان کے سرکاری ٹی وی المنار نے خبر کے ذریعے اعلان کیا تھا۔

15 اپریل، اسرائیلی جارحیت کا پانچواں روز:

پانچویں روز اسرائیلی درندہ صفت افواج نے جنوبی لبنان کے علاقے نباتیہ اور تیر کو بڑی سطح کی بمباری کا نشانہ بنایا اور وہاں کے باسیوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ جنوبی لبنان کو خالی کر دیں اور شمال کی طرف ہجرت کریں، 155 اور 175 mmکے چار سو بم نباتیہ پر گرائے گئے، بعد میں اسرائیلی روز نامے ہارٹز میں شائع ایک تجزیہ میں اسرائیلی تجزیہ کار نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے لئے بےحد مشکل تھا کہ وہ تیر اور نباتیہ کے لوگوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کرتے کیونکہ ان مقامات کے باسیوں نے آخری دم تک اپنی جگہ کو نہیں چھوڑا اور اس طرح اسرائیل کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ دوسری بڑی کاروائی اسرائیلی افواج کی جانب سے مغربی بکا کے علاقے میں ہوئی جہاں اسرائیلی افواج نے چالیس عدد 500,000-pound وزنی بم گرائے، اس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید ہوئے اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ تمام علاقوں میں بجلی بند کر دی گئی، بھاری گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا، اسرائیلی افواج شہریوں کے گھروں میں گھس کر معصوم لوگوں کو تشدد کا نشانہ بناتی رہیں، معصوم بچوں کو زدو کوب کیا گیا۔

16 اپریل، اسرائیلی جارحیت کا چھٹا روز:

اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ چھٹے روز بھی جاری رہا، آج کے روز اسرائیلی درندوں نے صبح چار بجے جنوبی لبنان میں قائم فلسطینیوں کی ایک مہاجر بستی میں موجود فلسطینی رہنما منیر مکدہ کے گھر پر حملہ کرنے سے شروع کیا، اس حملے کے نتیجے میں منیر کا آٹھ ماہ کا بیٹا اسرائیلی درندگی کا نشانہ بنا اور شہید ہو گیا۔ صبح  6 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان اسرائیلیوں نے سات سو بم اور میزائل بکا کے علاقے پر داغے، جس کے نتیجے میں بڑا جانی و مالی نقصان ہوا، دشمن کا ریڈیو پورا دن اعلانات کر رہا تھا کہ اور لبنان کے لوگوں کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ وہ جنوب کے علاقے میں اسرائیلی فوج کے سامنے آنے کی غلطی نہ کریں ورنہ کسی بھی وقت حملہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے جنوب لبنان کے علاقے بازوریہ میں ایک کار کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد وہاں پر موجود ایک گھر پر بم اور میزائل حملہ کیا جس کے نتیجے میں گھر میں مقیم تمام افراد شہید ہو گئے۔ دوپہر کے بعد اسرائیلیوں نے بیروت کے جنوب میں ایک بڑا حملہ کیا جس میں شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اسی طرح دوپہر دو بجے اسرائیلوں نے ایئرپورٹ پر حملہ کیا اور ایک سیلون کو بمباری کا نشانہ بنایا جہاں پر چار سالہ اسرٰی القیس شہید ہو گئی۔

17 اپریل، اسرائیلی جارحیت کا ساتواں روز:

ساتویں روز سفارتی سطح پر امریکہ اور فرانس کے درمیان کچھ ان بن ہو گئی، جبکہ دورسی طرف اسرائیلی افواج لبنان کے شہروں، دیہاتوں اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہی تھیں اور سیکڑوں کی تعداد میں لوگ شہید ہو چکے تھے، اس کے جواب میں اسلامی مزاحمت حزب اللہ نے Katyusha راکٹ کے ذریعے اسرائیل کو جواب دینا شروع کر دیا تھا۔ آج کے روز اسرائیلی طیاروں نے نباتیہ اور تیر کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ملحقہ آبادیوں کو بھی نشانہ بنایا، شکرا ٹائون میں اسرائیلیوں نے دو گھروں کو نشانہ بنایا جہاں تقریباً پچاس افراد موجود تھے، یوں تو اسرائیل کی تاریخ میں متعدد جارحیت کی داستانیں موجود ہیں لیکن اپریل 1996ء کی ایک ایسی ظلم بھری داستان ہے جس کی مثال شاید ہی تاریخ میں کبھی ملے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی ہیلی کاپٹر مسلسل شہر میں چلنے والی ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنا رہے تھے کہ جن کے ذریعے زخمیوں کو اسپتال پہنچانے کا کام کیا جا رہا تھا، جہاں اسرائیلی لبنانی شہریوں اور عوام کو نشانہ بنا رہے تھے وہاں حزب اللہ خاموش نہیں رہی، حزب اللہ کے مجاہدین نے اسرائیلی فوجی چوکیوں اور مختلف مقامات پر چھاپہ مار کاروائیوں میں درجنوں اسرائیلیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

18 اپریل، اسرائیلی جارحیت کا آٹھواں روز:

اسرائیلی جارحیت کے آٹھویں روز میں اسرائیل درندوں نے نباتیہ پر ایک بڑا حملہ شروع کیا، اس حملے میں العابد خاندان کو نشانہ بنایا گیا جو اپنے ایک پڑوس میں سکونت پذیر تھا، صیہونی درندوں کے جنگی جہازوں نے ایک تین منزلہ عمارت پر حملہ کیا اور اس عمارت میں موجود ایک ماں سمیت اس کے ساتھ بچوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ اسی طرح اسرائیلی افواج نے قانا میں معصوم بچوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا اور قانا کی زمین کو بچوں کے لہو سے تر کر دیا۔ آٹھویں روز دوپہر کے دو بجے اقوام متحدہ کے ایک کیمپ میں موجود مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لبنانی پناہ گزینوں پر اسرائیلی فوج نے بمباری کی اور اس کیمپ میں کسی بھی انسان کو زندہ نہ چھوڑا۔ اندازے کے مطابق اس کیمپ میں پانچ سو شہری پناہ گزین موجود تھے۔

19 اپریل، اسرائیلی جارحیت کا نواں روز:
اسرائیلی جارحیت میں دن گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل اضافہ ہو رہا تھا، نواں دن خونی مناظر کی تصویر تھا کہ صیہونیوں نے قانا میں ایک بڑا حملہ کیا اور قانا کو لہو لہو کر دیا، اس موقع پر عالمی برادری نے بھی کسی حد تک شور شرابا کیا لیکن یہ کافی نہیں تھا۔ قانا میں رونما ہونے والے بڑے قتل عام پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کو ایک ٹیلی گرام بھیجا جس میں امریکی ایماء پر کئے جانے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہادتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا تھا اور امریکہ اور اسرائیل کے جارحانہ عزائم کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ یقینا اس مذمت اور ٹیلی گرام سے اسرائیل کو کوئی اثر نہیں ہونا تھا لیکن اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینے کا ارادہ کر لیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجاہدین نے اٹھارہ اپریل کی رات سے ایک حملے کا آغاز کیا جو انیس اپریل کی صبح تک اسرائیلیوں پر جاری رہا، اور اس حملے میں حزب اللہ کے مجاہدین نے Katyusha راکٹوں کی نہ رکنے والی برسات کا آغاز کر دیا۔

اسرائیل کو ان حملوں سے بہت نقصان پہنچا لیکن اسرائیل نے اپنے تمام اداروں پر پابندی عائد کر دی اور کہا کہ ان خبروں کو ہر گز ہر گز شائع نہ کیا جائے، قانا میں بڑے پیمانے پر ہونے والے قتل عام نے امریکہ کے خلاف ایک نئے باب کھولنے کا آغاز کیا جس میں عالمی برادری نے واضح طور پر کہا کہ Grapes of Wrath لبنان کے سویلین کے خلاف ہو رہا ہے۔ اسی دوران حزب اللہ کی قیادت سید حسن نصر اللہ شام میں موجود تھے اور اعلٰی سطحی اجلاس میں حزب اللہ نے صاف صاف بتایا کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف اس وقت تک مزاحمت جاری رکھے گی جب تک اسرائیل کو لبنان سے بے دخل نہ کر دے۔ دن گذرنے کے ساتھ ساتھ سفارتی اور مزاحمتی کاروائیوں کے نتیجے میں اسلامی مزاحمت اس قابل ہو چکی تھی کہ اسرائیل کے مقابلے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھا جائے۔

20 اپریل، اسرائیلی جارحیت کا دسواں روز
:
دسویں دن اسرائیلی فوج نے سمندری جہازوں کے ذریعے بھی لبنان پر بڑے حملے کا آغاز کر دیا، شیلنگ جاری رہی، ہر تین منٹ میں دو شیل گرتے رہے اور اس کے نتیجے میں متعدد عام شہریوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا اور درجنوں کی تعداد میں زخمی ہوئے، صبح ساڑھے چار بجے اسرائیلی فوج نے جب شیث، عد شیث، ہاروف اور شکرا کے مقامات پر موجود گھروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا، صبح ساڑھے سات بجے صیہونی جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں نے ہنیہ، قلایہ، تیر اور ملحقہ علاقوں پر تین بڑے حملے کئے جس کے نتیجے میں چار افراد شہید ہوئے۔ صیہونیوں نے اپنے فضائی حملوں میں مقامی آبادی اور سڑکوں سمیت انفراسٹرکچر کو بری طرح متاثر کیا اور اپنے حملوں کا نشانہ بنایا۔

21 اپریل، اسرائیلی جارحیت کا گیارہواں روز:

صیہونی افواج نے لبنان کے عوام پر اپنے حملوں کا سلسلہ گیارہویں روز بھی جاری رکھا، اس کے جواب میں حزب اللہ نے راکٹوں کی مدد سے اسرائیلی علاقوں کو نقصان پہنچانے کا عمل بھی جاری رکھا، اسرائیلی بھاری گولہ باری کے نتیجے میں آج کے دن لبنانی فوج کا اعلیٰ آفیسر عباس حیدر جابر شہید ہوا، جبکہ سمندر میں موجود اسرائیلی بحری جہازوں کی گولہ باری کے نتیجے میں کوسٹل روڈ پر متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ صیہونی افواج کے جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں نے شکرہ کے علاقے میں ابو راعد صالح کے گھر کو نشانہ بنایا جہاں پر کافی افراد پناہ گزین موجود تھے، اس حملے کے نتیجے میں دو شہری زخمی ہوئے جن میں ہادی صالح جس کی عمر نوے برس تھی اور اس کی بیٹی علاویہ جس کی عمر پینسٹھ برس تھی، جبکہ دیگر افراد خود کو حملے سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ اسی دن ٹھیک تین بجے صیہونی جنگی جہازوں نے عد شیث میں روڈ پر جانے والی ایک کار کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا جس میں پانچ افراد سوار تھے اور وہ سب کے سب شدید زخمی ہو گئے۔

22 اپریل، اسرائیلی جارحیت کا بارہواں روز
:
لبنان اپنے شہریوں کے قتل عام پر سوگوار تھا، جبکہ دشمن اپنے حملے جاری رکھے ہوئے تھا، اس دن دشمن نے سلطانیہ میں دس بڑے حملے کئے اور ان حملوں میں شہریوں کے لئے پانی کی پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا اور پانی کے ٹینک کو نشانہ بنایا گیا تا کہ پورے علاقے کی آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہو جائے، صیہونی دشمن نے فوار پل، ھالوشیہ، بدیاس اور دیگر ملحقہ علاقوں کو منہدم کر دیا، دوسری طرف اواری کوسٹل روڈ پر اسرائیلی بحریہ کے حملوں میں چھ افراد نشانہ بنے،ایک موقع پر اقوام متحدہ کی UNIFIL فورسز کو بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنایا گیا جب UNIFIL کفر کے مقام پر پناہ گزینوں کو خوارک اور ضروریات کی اشیاء فراہم کر رہی تھی، ٹھیک تین بجے صیہونی جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں نے ڈیڑھ گھنٹے تک حملوں کا سلسلہ جاری رکھا اور ان حملوں میں فلسطینی پاپولر فرنٹ کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا اور یہاں تقریباً تیس راکٹ فائر کئے گئے۔

23 اپریل، اسرائیلی جارحیت کا تیرھواں روز:

صیہونی جنگی مشینری کی بڑی تعداد میں جنوبی لبنان میں مغربی بکا پر بہت بڑا حملہ کیا، ہر گزرنے والی کار کو نشانہ بنایا گیا، ایک کار کو عوالی پل پر نشانہ بنایا گیا، جس میں تین افراد سوار تھے۔ دن بھر مختلف مقامات پر حملے جاری رہنے کے بعد اسرائیلیوں نے آدھی رات کو ماروب ٹائون میں حملہ کیا اور بنت جبیل پر آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔

24 اپریل، اسرائیلی جارحیت کا چودھواں روز
:
آج بھی اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ اسی طرح ہی جاری رہی، سفارتی معاملات میں تیزی آئی اور لبنانی صدر اور امریکی صدر کے مابین نیویارک میں ملاقات ہوئی، جبکہ دوسری ملاقات بیک وقت امریکی وزیر دفاع کے ساتھ لبنانی وزیراعظم اور اسپیکر نبی بری کے ساتھ لبنان میں ہوئی، بہرحال دونوں مقامات پر لبنانیوں کا ایک ہی موقف سامنے آیا جس میں انہوں نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور اس جارحیت کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ دوسری طرف اسرائیلی بمباری جاری تھی، ایک تین سالہ بچہ چودھویں روز کی اس جارحیت کا نشانہ بن گیا جبکہ اس کے ساتھ دو دیگر شہری بھی اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ تمام حملے نباتیہ اور تیر میں ہوتے رہے۔ آج صیہونی دشمن نے ایک نئی ترکیب کا استعمال کیا اور حملوں میں گائوں اور شہروں کے مابین رابطوں کی سڑکوں کو نشانہ بنا کر رابطہ منقطع کر دیا گیا۔

25 اپریل، اسرائیلی جارحیت کا پندرہواں روز:
صیہونی دشمن نے آج اسکولوں، سڑکوں، اور دیگر عمارتوں کو نشانہ بنانے کا عمل شروع کر دیا، کفرا پہاڑیوں، سدکن، قانا، سلطانیہ، تی بین، دیر انتار، بئر السلاسل، ھنووئیہ، مشارف، ماہرونہ سمیت دیگر ملحقہ علاقوں کی سڑکوں کو حملہ کر کے منقطع کر دیا گیا اور اس طرح ان تمام علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔

26 اپریل، اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کا دن، اسلامی مزاحمت کی کامیابی کا دن:
اپریل 1996ء میں ہونے والی اسرائیلی جارحیت سولہویں روز میں داخل ہو چکی تھی اور لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ اسرائیل کی شکست اور اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کی کامیابی کے ساتھ ہوا، دشمن نے اپنے مسلح قوت کو جمع کر کے مارکابہ ٹائون میں حملہ کیا، یہ حملہ صبح سویرے کیا گیا تھا، اسرائیلی فضائیہ نے جبور کی پہاڑیوں کو قبضے میں کر لیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ابو راشد، قترانی جنگلات اور لیتانی دریا بھی صیہونی دشمن کے قبضے میں تھا۔ صیہونیوں کا یہ قبضہ دو ہوائی حملوں کے بعد ہوا تھا، ٹھیک اسی وقت اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے ایک بڑا حملہ کیا جس کے نتیجے میں اسرائیلیوں کو پسپائی کا شکار ہونا پڑا اور یہ صیہونی دشمن کے لئے ایک سرپرائز کے طور پر تھا، بعد میں اس بارے میں صیہونی اخبار ہارٹز لکھتا ہے کہ اس محاذ پر اسرائیل کی شکست درا صل اسرائیلی انٹیلی جنس کی حزب اللہ کے بارے میں غلط اندازوں اور معلومات کے تحت ہوئی، کیونکہ اسرائیلی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے پاس مزید راکٹ موجود نہیں تھے جبکہ حزب اللہ کے پاس بڑی تعداد میں راکٹ تھے جس کا انہوں نے ٹھیک وقت پر استعمال کیا اور اسرائیل کو بھاری نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔

یہ وہ وقت تھا کہ جب صیہونیوں نے اپنی جارحانہ کاروائیوں کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا تھا ٹھیک اسی وقت اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے Katyusha راکٹوں کی نہ رکنے والی برسات کا سلسلہ شروع کیا جو کہ اسرائیل کے اندر تک جا پہنچے جس کے بعد اسرائیلیوں میں خوف کا یہ عالم تھا کہ اسرائیلی فوجی اپنی چوکیوں کو چھوڑ کر جا چکے تھے اور اسرائیلی شہری اپنے گھروں میں رہنے کو تیار نہیں تھے، یہی وجہ تھی کہ اسرائیل کو حزب اللہ کے ہاتھوں ایک اور جنگ میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اورا س طرح 1996ء کے ماہ اپریل مین لبنان کے خلاف امریکی ایماء پر شروع کی جانے والی اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہو گیا۔
خبر کا کوڈ : 375426
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش