6
0
Tuesday 31 Mar 2015 03:22

تحفظ حرمین یا تحفط اسرائیل

تحفظ حرمین یا تحفط اسرائیل
تحریر: ڈاکٹر ابو بکر عثمانی

میرے سامنے اخبار کی دو خبریں موجود ہیں۔ ایک میں پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان جلی حروف میں لکھا ہے، یمن میں کسی پاکستانی پر کوئی حملہ ہوا، تو اسے پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ دوسری ایک چھوٹی سی خبر ہے۔ جس کی تفصیل میں درج ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعاء میں آئی ڈی پیز کے ایک کیمپ پر سعودی طیاروں نے بمباری کی۔ جس میں مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں چند خواتین اور ایک آدھ بچہ بھی شامل ہے۔ آخری لائن میں لکھا ہوا ہے کہ مرنے والوں میں کوئی دو پاکستانی بھی ہیں۔ خیر سعودی عرب ہمارا بڑا بھائی ہے۔ اس کی سرزمین پر روزانہ کے حساب سے کتنے پاکستانیوں کے سرقلم ہوجاتے ہیں، ہم برا نہیں مناتے، تو یمن میں مرنے والے پاکستانیوں کا کیا افسوس کریں۔ ہمیں تو خوشی اس بات کی ہے کہ ان گناہگار پاکستانیوں کو حرمین شریفین کے مقدس گولہ بارود سے موت نصیب ہوئی ہے۔ مرنا تو ہر کسی نے ہے۔ سعودی عرب کے بابرکت اسلحہ سے حاصل موت کا مرتبہ تو نہایت بلند ہے۔ گرچہ یہ تمام اسلحہ میڈ ان یو ایس اے ہے، مگر چونکہ سعودی عرب سے گزر چکا ہے، لہذا نجاست کے مضمرات سے یقیناً پاک ہوگا۔

میں اتنی چھوٹی خبریں کبھی پڑھتا نہیں۔ پڑھنے کی اکلوتی وجہ محض دل میں انگڑائیاں لیتی ایسی خبر پڑھنے کی خواہش تھی کہ جس میں کسی پاکستانی کی موت کسی حوثی زیدی شیعہ کی گولی، ڈنڈے یا چاقو سے لکھی ہو، مگر مایوسی ہوئی۔ کسی حوثی کے ہاتھوں تاحال کوئی غیر ملکی قتل نہیں ہوا۔ یہ تو معلوم نہیں کہ وزارت خارجہ ان پاکستانیوں پر حملے کو ریاست پر حملہ تصور کرتی ہے یا نہیں، مگر اتنا ضرور ہے کہ ان پاکستانیوں کی موت کی خبر میڈیا کے کسی ادارے نے نشر کرنا مناسب نہیں سمجھی۔ شائد کہ یمن کی جنگ میں کودنے کیلئے جاری میڈیا مہم اس معمولی خبر کی متحمل نہیں تھی۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ وطن عزیز میں جاری دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے دعوؤں کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کو حاصل ہونے والی فنڈنگ روکنے کی دوہائیاں بھی جاری تھیں کہ بعض حکومتی عہدیداروں نے ڈھکے چھپے اور ایک آدھ منہ پھٹ نے سیدھا سیدھا سعودی عرب کا نام لے لیا۔ دفاع کی وزارت کے سربراہ، جو کہ دفاعی اداروں کی سوچ اور وسائل و مسائل سے اتنا ہی دور ہیں، جتنا ان دنوں اومان سعودی عرب سے دور ہے، کے نزدیک یقیناً یہ سعودی عرب کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش ہی تھی، مگر اس فنڈنگ سے کون کون مستفید ہوا، اس کا اظہار دفاع حرمین، تحفظ حرمین کے نام پر جاری تقریری مقابلوں سے بخوبی کیا جاسکتا ہے۔

یقینی طور پر اب ملک میں متحرک انٹیلی جنس اداروں کو پتہ چلانے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہوگی کہ سعودی ریال کہاں کہاں پر کتنے عرصے سے برس رہے ہیں۔ حکومتی رویہ جو حکومت سعودی عرب کی خواہشات سے بھی بڑھکر مثبت ہے، اس امر کی دلالت کرتا ہے کہ وہ سعودی شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفادار ہیں۔ سعودی عرب مشکل میں ہے، سعودی عرب بڑا بھائی ہے، سعودی عرب کا دفاع فرض ہے، سعودی مفت تیل کا ہم پر قرض ہے، سعودی عرب کے تحفظ کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔ ایسی گفتگو سے حالات و واقعات سے ناآشنا آدمی سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ آخر سعودی عرب پر کونسی ایسی مصیبت آن پڑی ہے، کہ حکومت، میڈیا، جہادی بشمول دہشتگرد گروہ، سبھی کو سعودی عرب کی فکر ستا رہی ہے۔ کیا سعودی عرب پر کسی نے حملہ کر دیا ہے۔ کیا دہشتگردوں نے عراق، شام، پاکستان، افغانستان سے منہ موڑ کر حج و عمرہ کا قصد کرلیا ہے۔ کیا امریکہ نے سعودی عرب میں موجود اپنی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ کیا سعودی عوام کے مطالبے پر انتخابات کا اعلان ہوگیا ہے، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔ سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر یمن پر فضائی حملے شروع کئے ہوئے ہیں۔ یہ حملے کیوں جاری ہیں۔ تاحال کوئی سعودی ذمہ دار ان حملوں کی کوئی قابل قبول وجہ بیان نہیں کرسکا ہے۔ یمن ایک اسلامی ملک ہے۔ جس کی خوش قسمتی ہے کہ وہ سعودی عرب کے پڑوس میں واقع ہے، مگر یہ خوش قسمتی اس وقت بدقسمتی میں بدل گئی، جب یمنی عوام نے سعودی عرب کی جانب سے مسلط کردہ خائن صدر کو مسترد کرکے اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کی۔

عرب میڈیا سمیت اطلاعات و نشریات کا کوئی مستند ادارہ یہ بھی ثابت نہیں کر پایا ہے کہ سابق یمنی صدر کے خلاف اٹھنے والی حوثی قبائل کی عوامی تحریک میں کوئی بیرونی لوگ موجود تھے۔ یعنی یہ تحریک خالصتاً یمنی عوام کی اندرونی تحریک تھی۔ جس میں عوام کی شرکت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یمن کے سابق صدر سمیت فوج و حکومتی اداروں نے بھی اس تحریک کی حمایت کی۔ حکومتی اداروں کی حمایت کے بعد خائن صدر کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ اقتدار سے الگ ہو جاتا۔ یمنی صدر ہادی منصور نے اسی عوامی تحریک کے نتیجے میں باقاعدہ استعفٰی دیا۔ مستعفی ہونے کے بعد یہ سابق صدر پہلے عدن میں منتقل ہوا، پھر سعودی عرب چلا گیا۔ سعودی عرب کی گود میں بیٹھ کر اقتدار کے دوبارہ حصول کا خواہش مند ہے۔ سعودی عرب ہادی منصور کی حکومت کے قیام کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر یمن پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ میرا سوال ان دینی، جہادی اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے ہے، جو تحفظ حرمین شریفین کے نام پر ملک میں ایک مخصوص ماحول بنانے میں جتے ہوئے ہیں اور پاک فوج کے ماتھے پر بھی یمنی عوام پر بمباری کا کلنک سجانا چاہتے ہیں۔ کیا یمن کے مستعفی صدر ہادی منصور کی حکومت کا قیام اسلامی مسئلہ ہے۔ کیا یمن اتنا ہی طاقت ور ملک ہے جو سعودی عرب کی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہو۔ کیا اقتدار یمنی عوام یعنی حوثی قبائل کے ہاتھ میں آنے کے بعد کوئی مسلکی، مذہبی یا علاقائی خونریزی ہوئی ہے۔ کیا اقتدار میں آکر حوثیوں نے سعودی عرب کو للکارا ہے۔

کیا حوثیوں نے بھی امریکہ اور داعش کی طرح مکہ و مدینہ پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔ کیا حوثیوں نے یمن میں مقیم پاکستانیوں سمیت کسی غیر ملکی کو یرغمال بنایا ہے یا ان کا قتال کیا ہے۔ کیا اقتدار حاصل کرنے والے حوثی قبائل پاکستان دشمن ہیں۔ تو ان تمام سوالوں کے جواب یقیناً نفی میں ہونگے۔ حوثیوں کا جھنڈا جس پہ امریکہ، اسرائیل کی موت کے الفاظ درج ہیں، دراصل سعودی عرب کے لئے نہیں بلکہ سعودی عرب پر مسلط آل سعود کے دوست اسرائیل و امریکہ کے لئے خطرہ ہے۔ جس داعش کے جرائم اور ظلم و ستم کے چرچے پوری دنیا میں ہیں۔ وہی داعش یمن میں سب سے زیادہ حوثیوں کے اوپر دہشتگرد حملے کر رہی ہے۔ کتنا بڑا دھوکہ ہے عوام کے ساتھ کہ حوثی قبائل اعلان کر رہے ہیں کہ وہ اسرائیل اور امریکہ کے لئے موت ہیں۔ آل سعود کے خائن حکمرانوں کا اعلان ہے کہ نہیں یہ ہمارے دشمن ہیں، لہذا ان پر بمباری کرنے کے لئے ہمیں اپنی افواج کرائے پر دو۔ امریکی حمایت یافتہ سعودی نواز حکمران ان حملوں کی تائید بھی کر رہے ہیں اور اپنی فوجیں ادھار دینے کی یقین دھانی کروا رہے ہیں۔ مکہ و مدینہ پر حملے کی دھمکیاں دینے والا امریکہ حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کو آلات فراہم کر رہا ہے۔ حرمین شریفین پر حملوں کی اعلان کرنے والی داعش حوثیوں کیا مساجد میں بم دھماکے کر رہی ہے۔ ریال و ڈالر سے متاثر جماعتوں نے تحفظ حرمین شریفین کے نام پر عوامی رابطہ مہم جاری کی ہوئی ہے۔ عقل کے پردے سرکانے کی ضرورت ہے، اپنے ضمیر سے ایک سوال تو کیا جاسکتا ہے کہ کیا تحفظ حرمین شریفین کے نام پر تحفظ اسرائیل یا تحفظ مفادات آل سعود کا کھیل تو جاری نہیں۔
خبر کا کوڈ : 451056
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Ahsan
United Kingdom
Every word is worth reading.


Needs to be shared further
فدا حسین
India
ایک چشم کشا کالم جو بار بار پڑھنے پر باذوق اور انصاف پسند قاری کو مجبور کرے۔ مصنف کی انصاف پسندی اور حقیقت بینی ہر لفظ میں عیاں ہے۔ یقیناً اس کاوش کا حقیقی صلہ خدائے عادل ہی دے سکتا ہے۔ لہذا شاندار کالم کے جواب میں بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں
جزاک اللہ--------------
خیر اندیش
فدا حسین بالہامیؔ
محمد عابس
Pakistan
بہت خوب ڈاکٹر صاحب،

پاکستانیوں کو حرمین شریفین کے مقدس گولہ بارود سے موت نصیب ہوئی ہے

آگے آگے دیکھے کتنے مزید مسلمان اس سعادت سے مستفید ہوتے ہیں
Pakistan
دلچسپ کالم ہے،
zahra
Pakistan
too nice Article.
masood
Canada
EXCELLANT ARTICAL HUNDRED PERCENT AGREED.
منتخب
ہماری پیشکش