0
Friday 29 Jan 2016 16:20

مسئلہ شام میں امریکہ کی پسپائی

مسئلہ شام میں امریکہ کی پسپائی
تحریر: علی موسوی خلخالی

اب پوری طرح واضح ہو چکا ہے کہ امریکی حکومت نے شام کے مسئلے میں اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔ پانچ برس دوغلا موقف اپنانے اور حتی دہشت گردوں کی بالواسطہ مدد اور حمایت کے بعد جس کے نتیجے میں "داعش" اور "النصرہ فرنٹ" جیسے تکفیری دہشت گرد گروہ معرض وجود میں آئے، آخرکار امریکہ اپنا موقف ایران اور روس کے موقف سے قریب لانے پر مجبور ہو گیا اور شام کے بحران کے خاتمے کیلئے مشابہ موقف کا اظہار کر دیا۔ اگرچہ واشنگٹن نے واضح طور پر اعلان نہیں کیا کہ اب وہ صدر بشار اسد کو اقتدار سے ہٹانے کی پالیسی پر گامزن نہیں لیکن امریکی وزارت خارجہ کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سفارتکاری ایران کی جانب سے مسئلہ شام کیلئے پیش کردہ راہ حل سے قریب ہو چکی ہے اور اب امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ شام کے حکومت مخالف گروہوں پر ویانا میں چار طرفہ معاہدے کی بنیاد قرار پانے والے ایرانی منصوبے کو قبول کر لینے کیلئے دباو ڈالے۔ لبنان سے شائع ہونے والا ڈیلی "الحیات" اس بارے میں لکھتا ہے: "ریاض حجاب نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے انہیں ایسی پیشکش کی ہے جسے قبول کرنا زہر کا پیالہ پینے کے مترادف ہے"۔ 
 
جان کیری نے سعودی عرب دورے کے دوران ریاض حجاب سمیت شام حکومت کے مخالف رہنماوں سے ملاقات کی اور ان پر تاکید کی کہ یا تو وہ کسی پیشگی شرط کے بغیر مذاکرات کی میز پر حاضر ہو جائیں اور یا پھر وہ بھی امریکہ اور روس کے درمیان تمام متفقہ نکات پر اتفاق رائے کا اظہار کریں اور انہیں کی بنیاد پر صدر بشار اسد کے حکومتی نمائندوں سے جنیوا میں مذاکرات کو آگے بڑھائیں اور اگر وہ یہ دونوں پیشکشیں ٹھکرا دیتے ہیں تو  پھر انہیں امریکہ کی جانب سے ہر قسم کی مدد اور حمایت کے خاتمے کا سامنا کرنا ہو گا۔ ریاض حجاب صدر بشار اسد حکومت کا سابقہ وزیراعظم تھا جس نے قطر سے 10 ملین ڈالر کے عوض اپنی وفاداریاں بیچ دیں اور بشار اسد کے مخالفین میں شامل ہو گیا۔ اس وقت وہ شام کے حکومت مخالف گروہوں کے کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کر رہا ہے اور مغربی و عرب ممالک کے ساتھ ہونے والے اکثر مذاکرات میں شام کے حکومت مخالف دھڑوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ 
 
ڈیلی الحیات اس منصوبے کے بارے میں جس پر جان کیری اصرار کر رہے ہیں اور شام کے حکومت مخالف دھڑوں پر اسے قبول کرنے پر زور دے رہے ہیں، لکھتا ہے: "اس منصوبے میں نہ صرف صدر بشار اسد کی اقتدار سے علیحدگی کی تجویز پیش نہیں کی گئی بلکہ انہیں ان صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت بھی دی گئی ہے جو شام حکومت اور مخالفین کے درمیان مذاکرات کی ممکنہ کامیابی کے بعد منعقد ہونے ہیں۔ اسی طرح صدر بشار اسد کے اقتدار میں رہنے کی مدت بھی تعین نہیں کی گئی۔ منصوبے کے تحت شام کے آئین میں اصلاحات انجام پانی ہیں لیکن اس طرح نہیں جس طرح مخالفین مطالبہ کرتے چلے آ رہے تھے بلکہ ان اصلاحات کا مقصد صرف انتخابات کے انعقاد کا زمینہ فراہم کرنا ہے۔ اسی طرح جان کیری نے کہا ہے کہ اب عبوری مدت کا مسئلہ بھی نہیں اٹھایا جائے گا اور جس مسئلے کے بارے میں گفتگو ہو گی وہ ایسی حکومت میں شام کے مخالفین کی شرکت ہے جس میں بشار اسد بھی موجود ہوں گے"۔ 
 
ڈیلی الحیات کے مطابق ریاض حجاب نے شام مخالف وفد میں اپنے ساتھیوں سے کہا ہے کہ جان کیری ہم پر زہر کا پیالہ پینے پر زور دے رہے ہیں اور ہمارے پاس اس پیالے کو پینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیونکہ جان کیری نے دھمکی دی ہے کہ اگر ہم نے ان کا پیش کردہ منصوبہ قبول نہیں کیا تو امریکہ ہماری ہر قسم کی مدد اور حمایت بند کر دے گا۔ اسی طرح امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شام مخالف دھڑوں کے ان مطالبات کو بھی کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے روس اور شام کی مسلح افواج کی جانب سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہوائی حملے بند ہونے چاہئیں، شام آرمی کی پیش قدمی روک دی جانی چاہئے اور شام آرمی کی جانب سے مختلف شہروں کا محاصرہ بھی ختم ہونا چاہئے، یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ یہ ایک طرح سے مذاکرات کی پیشگی شرائط ہیں جو قابل قبول نہیں۔ 
 
شام کا حکومت مخالف وفد جس نے ریاض میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کی اس میں ریاض حجاب، سالم المسلط، صفوان عکاش، عبدالحکیم بشار اور جیش الاسلام کا محمد علوش شامل تھے۔ جیش الاسلام القاعدہ کے ہاتھ پر بیعت کر چکا ہے اور النصرہ فرنٹ اسی کی ایک شاخ محسوب ہوتا ہے جسے سعودی عرب، قطر اور ترکی کی حمایت حاصل ہے۔ محمد علوش کے اخوان المسلمین سے قریبی تعلقات ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اسے شام مخالف گروہوں میں اخوان المسلمین کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ملاقات میں جان کیری نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ اس نکتے پر متفق ہو چکے ہیں کہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات اور اس کے بعد والے مذاکرات میں بشار اسد کی شراکت سے حکومت کی تشکیل اور ایسے انتخابات کے انعقاد کے بارے میں گفتگو کی جائے جس میں بشار اسد بھی شریک ہو سکیں گے۔ جان کیری نے زور دے کر کہا کہ گذشتہ ماہ قرارداد نمبر 2254 ایران کی جانب سے پیش کردہ "چار طرفہ منصوبے" کی بنیاد پر منظور کی گئی اور اسی کی بنیاد پر مذاکرات آگے بڑھائے جائیں گے۔ اس قرارداد کے تحت شام میں فوراً جنگ بندی کا اعلان ہونا چاہئے اور بشار اسد سمیت تمام سیاسی گروہوں کی شراکت سے قومی حکومت کی تشکیل انجام پانا ہے۔ 
 
اسی طرح جان کیری نے شام کے حکومت مخالف دھڑوں سے مطالبہ کیا کہ وہ "کردستان ڈیموکریٹک اتحاد" کے سربراہ صالح مسلم جن کی فورسز فی الحال شام کے حکومت مخالف دھڑوں میں سے داعش کے خلاف لڑنے والی واحد فورسز ہیں جبکہ انہوں نے صدر بشار اسد کے ساتھ تعاون کیلئے آمادگی کا اظہار بھی کر رکھا ہے، "شام ڈیموکریٹک کونسل" کے سربراہ ھیثم مناع اور "نیشنل فرنٹ فار فریڈم اینڈ چینج" کے سربراہ قدری جمیل کو بھی شام حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اپنے ساتھ شامل کریں۔ جان کیری نے کہا کہ اگر وہ ان افراد کو مذاکرات میں شمولیت کی دعوت دینے کے خواہاں نہیں تو کم از کم شام کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے ڈی مستورا کو سیاسی ماہر یا مشیر کے طور پر جنیوا مذاکرات میں شامل ہونے کی دعوت دیں۔ شام کے حکومت مخالف دھڑوں نے جان کیری کی اس تجویز کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ جنیوا اور ریاض میں انجام پانے والے اجلاس میں شمولیت کیلئے ان کے نمائندوں کی فہرست مکمل ہو چکی ہے اور اس میں اب مزید افراد کے اضافے کی گنجائش نہیں۔ ھیثم مناع شام حکومت کے مخالف سمجھے جاتے ہیں لیکن انہوں نے شام میں جنم لینے والے والے بحران کے آغاز سے ہی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کی مخالفت کی ہے اور حکومت مخالف گروہوں کی سرگرمیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں۔ انہوں نے آغاز سے ہی اپنا راستہ دوسرے مخالف گروہوں سے علیحدہ کر لیا اور کہا کہ بشار اسد حکومت کے خلاف ان کا طریقہ کار انہیں پسند نہیں۔ ھیثم مناع کو روس اور ایران کی حمایت بھی حاصل ہے اور اب تک وہ کئی بار ماسکو اور تہران بھی جا چکے ہیں۔ ماسکو نے اعلان کیا ہے کہ وہ ھیثم مناع کو حکومت مخالف وفد کا سربراہ تصور کرتا ہے اور ان کی حمایت کرتا ہے۔ شام کے حکومت مخالف وفد سے ماسکو کی مراد قدری جمیل اور صالح مسلم پر مشتمل وفد ہے۔ یہ دونوں افراد ھیثم مناع کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ 
 
جب امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شام حکومت کے مخالفین سے میٹنگ کے بعد ریاض کو ترک کیا تو مخالفین میں جھگڑا اور تنازعہ شروع ہو گیا۔ سعودی عرب اور ترکی نے جان کیری کی اس تجویز پر کہ انہیں صدر بشار اسد کی شراکت کو قبول کرنا ہو گا شدید غصے کا اظہار کیا۔ ترک وزیراعظم احمد داود اوگلو نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "انقرہ کی نظر میں سب کرد ایک جیسے ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔ ترکی جس طرح پی کے کے کو دہشت گرد گروہ قرار دیتا ہے اسی طرح کردستان ڈیموکریٹک اتحاد کو بھی دہشت گرد گروہ سمجھتا ہے"۔ انہوں نے جنیوا اجلاس میں کردوں کے نمائندے کی موجودگی کو وحشتناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری نے کردوں کے نمائندے کو دعوت دے کر بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ سعودی عرب نے بھی جان کیری کی جانب سے بری خبریں لے کر ریاض آنے پر اپنی برہمی کا اظہار کیا ہے۔ 
 
سعودی حکام جان کیری سے توقع کر رہے تھے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد جب ریاض کا دورہ کریں گے تو انہیں تسلی دیں گے اور ان سے اظہار ہمدردی کریں گے۔ لیکن انہوں نے اپنی توقع کے خلاف جان کیری کے منہ سے ایرانی موقف کو ظاہر ہوتا دیکھا اور محسوس کیا کہ جان کیری شام کے مسئلے کو ایران کے پیش کردہ راہ حل کے مطابق نپٹانا چاہتے ہیں، لہذا انے کے غصے کی انتہا نہ رہی۔ شام حکومت کے مخالفین نے جان کیری سے ملاقات کے بعد آپس میں ایک میٹنگ منعقد کی۔ اس میٹنگ میں آئندہ حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ مستقبل میں وہ تین قسم کی پالیسی اختیار کر سکتے ہیں: پہلا یہ کہ جنیوا اجلاس کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے اور امریکہ اور روس کی ڈکٹیشن کے خلاف آپس میں اتحاد قائم کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ جنیوا اجلاس میں شرکت کی جائے لیکن اپنے موقف پر ڈٹ جائیں۔ البتہ اس کے نتیجے میں مذاکرات ناکامی کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ تیسرا ہر قسم کے سیاسی مذاکرات اور ڈیل کو مسترد کرتے ہوئے صدر بشار اسد، روس اور ایران کے خلاف اعلان جنگ کر دیا جائے اور بھرپور مسلح جدوجہد کا آغاز ہو جائے۔ 
 
مغربی حکام نے شام حکومت کے مخالفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی قسم کے ناعاقلانہ موقف کو اپنانے سے پرہیز کریں کیونکہ ایسی صورت میں وہ کسی بھی جگہ ان کی حمایت کرنے کے قابل نہیں رہیں گے اور ان سے اپنے تمام رابطے مکمل طور پر ختم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ جان کیری اور دیگر مغربی حکام انقرہ، ریاض اور شام مخالف گروہوں کو کوئی ایسا اقدام انجام نہ دینے کے بارے میں خبردار کر چکے ہیں جو ڈی مستورا کی کوششوں پر پانی پھیرنے کا باعث بنے۔ مغربی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ڈی مستورا کی کوششوں میں ناکامی کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ شام حکومت کے مخالفین انہیں چند روز میں اپنا موقف واضح کرنے والے ہیں۔ 
خبر کا کوڈ : 516260
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب