2
0
Monday 5 Dec 2016 11:20

کیا ہماری خارجہ پالیسی کا محور جیش محمد اور لشکر طیبہ ہیں؟

کیا ہماری خارجہ پالیسی کا محور جیش محمد اور لشکر طیبہ ہیں؟
تحریر: سردار تنویر حیدر بلوچ

بھارت کے شہر امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے پاکستانی مشیر خارجہ کے ساتھ تمام تر بے سلوکی اس لئے کی گئی کہ خطے میں عدم استحکام کا سبب صرف ایسے جہادی گروپس ہیں، جن کی سرپرستی کا الزام پاکستان پہ لگایا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان کشمیر کاز کو ہو رہا ہے۔ یہ معاملہ پاکستان کے ایوانوں میں بھی زیر بحث ہے کہ دیوبندی اور اہل حدیث جہادی اور عسکری گروپوں کو دی جانے والی کھلی چھوٹ سے پاکستان کو بالعموم اور کشمیر کاز کو بالخصوص سخت نقصان پہنچ رہا ہے، جیسا کہ کشمیر میں جاری بھارتی سرکار کے بد ترین مظالم کا کہیں ذکر نہیں، لیکن کانفرنس پاکستان مخالف تقریروں سے گونجتی رہی۔ اس بات کا تذکرہ کشمیر پر سفارتی جنگ کے لئے جانے والے حکومتی نمائندے بھی کر چکے ہیں کہ فرانس سمیت تمام ممالک میں جہاں بھی پاکستانی پارلیمان کے ارکان گئے اور کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دیکر بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کرنا چاہا، تمام ممالک نے ان سے حافظ سعید، مسعود اظہر اور حقانی نیٹ ورک کے عالمی دہشت گرد ہونے کا معاملہ چھیڑ دیا، جس وجہ سے نہ صرف ہمارے مندوبین اور وفود کو شرمندگی کیساتھ ناکام واپس آنا پڑا، بلکہ بھارت کو سفارتی محاذ پر فتح بھی نصیب ہوئی۔

افغانستان میں امن کے نام پر منعقد ہونے والی حالیہ کانفرنس کے اعلامیے میں بھی پھر سے دہشت گردی کو ہی خطے کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔ افغانستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار بھی اسی تناظر میں کیا گیا۔ اعلامیے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا گیا کہ دہشت گردی چاہے، کسی بھی شکل میں ہو، قابل قبول نہیں، اس کے خاتمے کے لئے تمام علاقائی اور عالمی طاقتوں کو ایک ہونا ہوگا، لیکن اس میں کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی مظالم کا کہیں ذکر نہیں۔ الٹا اعلامیے میں یہ کہا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ اتنے بڑے ظنز کے بعد ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس نے 30 برس افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان اور ایران کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک مہاجرین کی اپنے ملک میں رضاکارانہ، محفوظ، بتدریج و باوقار واپسی اور افغانستان میں آبادکاری تک میزبانی جاری رکھیں، عالمی برادری امداد جاری رکھے۔ حالانکہ اس معاملے میں پاکستان کو زبردست چیلنج کا سامنا ہے اور پاکستان افغان مہاجرین کی جلد از جلد واپسی چاہتا ہے، اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ کوئٹہ، پشاور اور دوسرے علاقوں میں افغان پاشندے پاکستان کے خلاف جاسوسی اور دہشت گردی کی وارداتوں ملوث ہیں۔

کانفرنس کے اعلامیہ میں افغانستان اور خطے میں سکیورٹی صورتحال کی سنگینی، داعش اور اس سے منسلک لشکر جھنگوی جیسی تنظیموں، حقانی نیٹ ورک، القاعدہ، فاٹا، کوئٹہ اور کراچی میں موجود اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، چین میں عسکری کارروائیاں کرنے والی ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور کراچی میں موجود لشکر طیبہ اور جیش محمد، فاٹا، بلوچستان، جھنگ، جنوبی پنجاب اور کراچی میں موجود تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار، جند اللہ کی پرتشدد کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اگر افغانستان تک بات محدود رہے تو یہ اس میں پاکستان کا کوئی نقصان نہیں، لیکن یہ عسکری تنظیمیں تو پاکستان کے اندر بھی دہشت گردی میں ملوث ہیں اور شدت پسندی کو فروغ دیکر تشدد کی فضا پروان چڑھا رہی ہیں۔ کشمیر میں مظالم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ سینہ تان کے بھارت کو پاکستان کیخلاف زہر افشانی کا موقع کون دے رہا ہے، یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں، بس اس پالیسی پہ نظرثانی کی ضرورت ہے کہ کشمیر کاز اور برہانی وانی جیسے لاکھوں شہداء کی قربانیاں، جن عسکری گروپوں کی حمایت کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ کشمیر، فاٹا، بلوچستان اور کراچی میں منظم طریقوں سے دہشت گردی کروانے والے بھارت اور افغانستان کے وزرائے خارجہ نے ہارٹ آف ایشیاء کے چھٹی وزارتی کانفرنس کی مشترکہ طور پر صدارت کی۔ یہاں تک تو قابل قبول ہے کہ اعلامیوں میں بیان کردہ اصولوں، اہداف پر عمل کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا جائے اور ممالک ایک دوسرے کو علاقائی امن اور خوشحالی کے فروغ کیلئے کر دارادا کرنے کا کہیں۔ جب افغانستان اور پورے ہاٹ آف ایشیاء ریجن میں استحکام، امن، خوشحالی کے فروغ اور افغانستان کے پورے ہاٹ آف ایشیاء خطے کے ساتھ زمینی روابط بڑھانے کیلئے سیاسی مکالمے اور قریبی علاقائی تعاون کی غرض سے ہارٹ آف ایشیا کو ایک اہم علاقائی پلیٹ فارم سمجھا جا رہا ہے تو اعلامیہ میں سی پیک کا ذکر کیوں نہیں کیا جا رہا۔ کیا ہمیں سوچنا چاہیے کہ انڈیا افغانستان میں پنجے گاڑ چکا ہے، جسکی وجہ سے پاکستان کو مزید رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا رہے گا۔ ایک طرف اعلامیے میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کے خود مختاری، آزادی، علاقائی سالمیت، اقوام کی برابری اور دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، اپنے اختلافات کو پرامن طور پر حل کرنے اور کسی بھی ملک کی سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز، علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، تو دوسری طرف کشمیر میں غاصبانہ قبضے کی مذمت کیوں نہیں کی جاتی۔؟ یہ انڈیا کی کامیابی ہے یا ہماری خارجہ پالیسی کا نقص۔؟

اعلامیے میں افغان فورسز کی جانب سے سکیورٹی کی مکمل ذمہ داری لینے اور افغانستان میں انتہا پسندی کے خلاف جنگ کیلئے ان کے کردار کا خیر مقدم کیا گیا ہے، لیکن پاکستانی فوج کی دہشت گردوں کیخلاف کارروائیوں اور کامیابیوں کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ اس کے برعکس افغانستان میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے جس دہشت گردی کو روکنے کے بارے میں انکی تعریف کی گئی ہے، اس کا الزام پاکستان پر لگایا گیا ہے، اسی طرح یہ تو کہا گیا ہے کہ ہم دہشتگردی کی تمام صورتوں، اس کی حمایت اور فنانسنگ کا جلد از جلد خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، دہشتگردی کا خاتمہ کرنے، دہشتگردوں کو ان کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں سے نکالنے، دہشتگردوں کی مالی ٹیکٹیکل اور لاجسٹیکل حمایت ختم کرنے کیلئے علاقائی اور عالمی سطح پر مربوط تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، لیکن بلوچستان میں بھارتی مداخلت اور افغان جاسوسوں کا نام نہیں لیا گیا۔ پاکستانی مسلح افواج جن دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں، انکی پشت پہ بھارت ہے اور افغانستان بھارت کی مدد کر رہا ہے۔ پاکستان کو اپنی پالیسی اور حکمت عملی پر مکمل طور پہ نظرثانی کی ضرورت ہے کہ ہم ڈنکے کی چوٹ پر پوری دنیا کے سامنے بھارتی سازشوں کو بے نقاب کر سکیں، نہ کہ صرف اپنی ہی سڑکوں کو مدارس کے طلبہ اور شدت پسند گروہوں سے نعرے لگوا کر خوش رہیں کہ بھارت ہم سے ڈرا رہے گا۔

اعلامیئے میں ایک بار پھر تسلیم کیا گیا کہ دہشت گردی، تشدد، انتہا پسندی، شدت پسندی، علیحدگی پسندی، فرقہ واریت اور ان کے درمیان روابط سنگین چیلنجز ہیں، جن کا ناصرف ایشیائی خطے بلکہ بین الاقوامی برادری کو بھی سامنا ہے اور یہ مسائل خود مختاری، علاقائی سالمیت، اقتصادی ترقی اور دو طرفہ اور علاقائی تعاون کے خطرہ رہیں گے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم ایشیائی ممالک کے درمیان جامع تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے مضبوط عزم کی تجدید کرتے ہیں اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اپنی کوششوں کو مزید بڑھائیں گے، ہم گذشتہ سال اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس کے اعلامیے کی بھی توثیق کرتے ہیں کہ نوجوانوں کی انتہا پسند اور دہشتگرد نیٹ ورک میں بھرتی روکنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں۔ لیکن بھارت مسلمانوں کیخلاف ہندو تشدد پسندوں کے مظالم کا سرے کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ جب بھارتی وزیراعظم نے خود کہا کہ خطے کو سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی سے ہے، دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف افغانستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ ان سے پورے جنوبی ایشیا کو خطرہ لاحق ہے، پھر صرف اور صرف افغانستان کا ذکر کیوں کیا گیا، کشمیر میں مظالم اور بلوچستان میں غیر ملکی ایجنسیوں کی مداخلت کی مذمت کیوں نہیں کی گئی۔ ظاہر ہے یہ کام بھارت اور افغانستان کا تو نہیں اور نہ ان سے توقع رکھی جا سکتی ہے۔ یہ ہمارے پالیسی سازوں کی ہی کی غلط اور ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔

اعلامیہ میں افغانستان کی تعمیر و ترقی کیلئے خطے کے ترقیاتی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی گئی، جن میں چاہ بہار، تاپی، کاسا 1000 اور دیگر منصوبے شامل ہیں، افغانستان میں چھوٹی اور بڑی صنعتوں (ایس ایم ایز) کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا گیا، خطے کے ترقیاتی منصوبوں کی حوصلہ افزائی، سی پیک کا ذکر غائب۔ بھارت میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران خطے میں جاری ترقیاتی پراجیکٹس کی حوصلہ افزائی کی گئی، تاہم پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی، تاپی گیس پائپ لائن منصوبے اور ترکمانستان سے افغانستان تک ریلوے لائن منصوبے کا خیرمقدم کیا گیا، ایشین انٹرنیشنل ریلوے کوریڈور منصوبہ ترکمانستان، افغانستان اور تاجکستان کو آپس میں ملائے گا، توانائی کے منصوبے کاسا 1000، چاہ بہار، 5 ملکی ریلوے لائن، ترکمانستان، افغانستان اور تاجکستان کے درمیان ریلوے لائن کی تعمیر کی حوصلہ افزائی کی گئی، جس کے ذریعے سے وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان علاقائی تعاون مضبوط ہوگا اور خطے میں معاشی اور اقتصادی رابطوں میں مزید بہتری آئے گی، اسی طرح چین اور افغانستان کے درمیان سلک روڈ اکنامک بیلٹ اور 21 ویں صدی کے میری ٹائم سلک روڈ کی تعمیر کے لئے یاداشت پر دستخط کو بھی سراہا گیا ہے، لیکن کہیں سی پیک کا ذکر نہیں کیا گیا۔ لہٰذا ہمیں سی پیک کی وجہ سے گوادر کو دنیا کا محور قرار دینے کیساتھ مزید اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔

کانفرنس میں 14 رکن ممالک کے نمائندے شریک تھے، لیکن فقط روس نے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کی پاکستان پر الزام تراشی کو نامناسب قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے رہنماؤں کے بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیا، روس کے نمائندے ضمیر کابلوف نے کہا کہ ہم یہاں دوست اور حمایتی ہیں، ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں پاکستان پر تنقید کرنا غلط تھا۔ کانفرنس کے پلیٹ فارم سے الزامات کا کھیل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سرتاج عزیز کی تقریر بہت تعمیری اور دوستانہ تھی، ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا ایجنڈا ہائی جیک نہیں ہوا۔ بحیثیت پاکستانی ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم روس کے اس رویے سے سوچ سمجھ کر فائدہ اٹھائیں۔ پاک ایران گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں میں روس کی دلچسپی موجود ہے، امریکی اور سعودی مخالفت کی وجہ سے ان کی تکمیل سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ جیش محمد کی موجودگی میں اندرونی اور بیرونی طور پر ہم پاکستان کی مشکلات بڑھا رہے ہیں یا اس ایجنڈے کے پیچھے موجود چند مخصوص عناصر کی وجہ سے ملک کے وسیع تر مفاد کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ کیا پاکستانی مشیر خارجہ اس بات کا جواب دے سکتے ہیں کہ اشرف غنی نے بھارت کو خوش کرنے کے لئے ان کے ساتھ جو بد سلوکی کی، ایسی ہی بد سلوکی ان کے ساتھ پاکستان میں عسکری گروہوں کی سرپرستی کرنے والی قوتیں نہیں کرتی ہیں؟ کیا اپنے اندرونی معاملات کو درست کئے بغیر ہم اپنے دشمنوں سے ڈٹ کر مقابلہ کرسکتے ہیں۔ بے شک انڈیا ہمارا دشمن ہے، ان سے اچھے سلوک کی توقع نواز شریف کو بھی نہیں رکھنی چاہیے، کیا مشیر خارجہ اپنے وزیراعظم کو قائل کرسکتے ہیں کہ کشمیر کے قصاب مودی کو اپنا بھائی قرار نہ دیں؟ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا یکطرفہ اعلامیہ یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ ہمیں غیر ریاستی عناصر کے متعلق پالیسی بدلنے کی ضرروت ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 588788
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

عرفان علی
Pakistan
سلام
اس بروقت تجزیے پر شکریہ۔ پاکستان کی سویلین قیادت اب ’’قومی وقار‘‘ والے ادارے کی طرف رخ کرکے کہے کہ جب کسی سے کوئی گلہ رکھنا، سامنے اپنے آئینہ رکھنا۔ اور ان سے پوچھ لیں کہ کب تلک ان اسٹرٹیجک ڈیٹھ اور ڈیٹ بننے والے گروہوں کی سرپرستی کا عمل جاری رہے گا؟ بھارت کا یہ کردار پرویز مشرف کی جرنیلی سرکار کے دوران امریکی صدر بش نے طے کیا تھا اور تب وہ پاکستان بھی تشریف لائے تھے۔ امریکا اور سعودی عرب و دیگر خلیجی عرب ریاستوں کے بھارت کی جانب واضح جھکائو کے باوجود انہی کی ڈکٹیشن پر جب تک پاکستان کی داخلہ و خارجہ پالیسی قربان کی جاتی رہے گی، تب تک ردعمل میں ہور چوپو کی آواز تو آئے گی۔
عرفان
جمال رضوی
Iran, Islamic Republic of
بہت اچھا اور بروقت تجزیہ ہے۔ جو مشیر خارجہ کو وہاں عزت ملی، وہ بھی ہمارے لیے کافی حوصلہ افزا تھی۔ اے کاش کے بھٹی والے اللہ سے دولت کے علاوہ کچھ ملی غیرت بھی مانگ لیتے۔
منتخب