1
0
Thursday 15 Jun 2017 17:47

علی ابن ابی طالب علیہ السلام کون؟

علی ابن ابی طالب علیہ السلام کون؟
تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

کتاب فضل تو را آب بحر کافی نیست
که تر کنم سر انگشت و صفحه بشمارم
وہ علی، جو عین اسلام تھا۔
وہ علی، جو کل ایمان تھا۔
وہ علی، جو خانہ کعبہ میں پیدا ہوا اور مسجد کوفہ میں شہید کیا گیا۔
وہ علی، جس نے آنکھ کھولی تو سب سے پہلے مصحف روئے نبی کی زیارت کی اور جو نور میں، خلق میں، تبلیغ میں، راحت میں، کلفت میں، بزم میں، رزم میں غرض ہر منزل میں رسول خدا کا ہم رکاب تھا۔
وہ علی، جو خاتم الرسل کا بھائی اور وصی تھا۔
وہ علی، جو فاطمۃ الزہراء کا شوہر تھا۔
وہ علی، جو سرداران جنت حسنین علیہما السلام کا باپ تھا۔
وہ علی، جو نہ صرف مومن آل محمد تھا بلکہ خدا کے آخری نبی خاتم الرسل کا شاہد و گواہ بھی تھا۔
وہ علی، جو ایسا عبادت گزار تھا کہ حالت نماز میں پاوں سے تیر نکال لیا گیا اور اسے احساس تک نہیں ہوا۔
وہ علی، جس کی زندگی انتہائی سادہ اور پاکیزہ تھی۔
وہ علی، جس نے تمام عمر محنت و مزدوری کی اور جو کی خشک روٹی کھاتا رہا۔
وہ علی، جو علوم کائنات کا حامل تھا اور جسے زبان وحی سے مدینۃ العلم کا لقب عطا ہوا۔
وہ علی، جس نے مسجد کوفہ کے منبر سے سلونی سلونی قبل ان تفقدونی کا اعلان کیا۔

وہ علی، جس کے عدل کی یہ شان تھی کہ اپنے دور خلافت میں اپنی زرہ کے جھوٹے دعویٰ کے مقدمہ کے قاضی کی عدالت میں ایک معمولی یہودی کے برابر کھڑا ہوگیا اور اپنے خلاف قاضی کے فیصلہ کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کیا۔
وہ علی، جس کی قوت فیصلہ کی شان یہ ہے کہ رسول خدا نے اصحاب کو مخاطب کرکے فرمایا: اقضاکم علی
وہ علی، جس کی شجاعت ضرب المثل تھی اور ہاتف غیبی نے جنگ احد میں جسے یوں داد شجاعت دی: لا فتی الا علی لا سیف الا ذوالفقار۔
وہ علی، جس نے بدر و احد کی سخت جنگوں میں اسلام کو فتح مند کیا اور ہر معرکے میں پرچم اسلام کو سربلند کرکے نصرت و کامرانی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔
وہ علی، جس کی جنگ خندق کی ایک ضربت ثقلین کی عبادت پر بھاری تھی اور جس نے کل ایمان بن کر کل کفر پر فتح حاصل کی۔ "ضربۃ علی یوم الخندق افضل من عبادۃ الثقلین۔"
وہ علی، جس نے ایک ہاتھ سے در خیبر اکھاڑ کر جنگ کا نقشہ بدل دیا اور رسول خدا سے سند افتخار لی۔
وہ علی، جس نے مشرکین مکہ کے سامنے سورہ برائت کی تلاوت کی۔
وہ علی، جس نے فتح مکہ کے دن علم اسلام کو اٹھایا۔
وہ علی، جس نے رسول خدا کے دوش مبارک پر بلند ہو کر خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا اور (طہر بیتی لطائفین) کا حق ادا کیا۔
وہ علی، جو رزم و بزم دونوں میں یکساں تھا، اگر میدان جنگ میں بے مثال سپاہی و سپہ سالار تھا تو مجلس میں ایک بے نظیر حاکم اور شفیق استاد تھا۔

وہ علی، جس کی فصاحت و بلاغت کے سامنے دنیا عاجز تھی اور جس کے زور بیان کے آگے عرب و عجم کے خطبا زبان کھولنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔
وہ علی، جو شب ہجرت بستر رسول خدا پر بے خوف و خطر آرام کی نیند سویا اور نفس مطمئنہ کا لقب بارگاہ ایزدی سے حاصل کیا۔
وہ علی، جو نماز فجر کے سجدے میں ابن ملجم کی تلوار کے وار سے زخمی ہوا اور اکیس رمضان المبارک کے دن درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
وہ علی، جس نے محنت و مزدوری کرکے اور باغوں کو پانی دے کر روزی کمانے کو فخر سمجھا۔
وہ علی، جس کا طرز جہانبانی قیامت تک کے لئے مشعل راہ ہے۔
وہ علی، جس نے امیری اور غریبی کے فرق کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔
وہ علی، جس کی فضیلت کے بارے میں جب خلیل ابن احمد سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: "میں کیسے اس شخص کی توصیف و تعریف کروں، جس کے دشمنوں نے حسادت اور دوستوں نے دشمنوں کے خوف سے اس کے فضائل پر پردہ پوشی کی ہو، ان دو کرداروں کے درمیان مشرق سے مغرب تک فضائل کی دنیا آباد ہے۔"
وہ علی، جس کے بارے میں رسول خدا نے فرمایا: (یاعلی ما عرف اللّه حق معرفته غیری و غیرک و ما عرفک حق معرفتک غیر اللّه و غیری) اے علی! خدا کو میرے اور آپ کے علاوہ کما حقہ کسی نے نہیں پہچانا اور آپ کو میرے اور خدا کے علاوہ کما حقہ کسی نے نہیں پہچانا۔

وہ علی، جس کی فضائل حساب نہیں ہوسکتے، ابن عباس کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: "اگر تمام درخت قلم، تمام دریا سیاہی، تمام جن حساب کرنے اور تمام انسان لکھنے بیٹھ جائیں، تب بھی علی علیہ السلام کے فضائل کا شمار نہیں کرسکتے۔"
وہ علی، جس میں تمام انبیاء کی صفات بطور کامل موجود تھیں۔ جیسا کہ حدیث نبوی ہے: "جو شخص آدم (ع) کے علم کو، نوح (ع) کے تقویٰ کو، ابراہیم (ع) کے حلم کو اور موسٰی (ع) کی عبادت کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ علی بن ابی طالب پر نگاہ کرے۔"
وہ علی، جو نفس پیغمبر ’’انفسنا‘‘ کا مصداق بن کر میدان مباہلہ میں اترا۔
وہ علی، جس کے فضائل و کمالات بیان کرنے میں رسول خدا نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، یہاں تک کہ غدیر کے میدان میں سوا لاکھ حاجیوں کے مجمع میں آپ کا ہاتھ اٹھا کر فرمایا کہ "جس جس کا میں مولا ہوں، اس اس کے یہ علی مولی ہیں۔"
وہ علی، جو حق کا محور اور مرکز تھا۔ "علیّ مع الحقّ و الحقّ مع علیّ و لن یفترقا حتی یردا علیّ الحوض یوم القیامة" علی حق کے ساتھ اور حق علی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ روز قیامت حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوں۔
وہ علی، جس کے بارے میں رسول خدا نے عمار سے فرمایا: "اے عمار! اگر تم دیکھو کہ علی ایک طرف جا رہے ہیں اور دیگر تمام لوگ دوسری طرف جا رہے ہیں تو تم علی کے ساتھ جانا اور باقی لوگوں کو چھوڑ دینا، اس لئے کہ علی گمراہی کی طرف رہنمائی نہیں کریں گے اور راہ ہدایت سے الگ نہیں کریں گے۔"

وہ علی، جو قسیم النار والجنہ ہے۔
وہ علی، جسے کھو کر دنیا ایک فقیہ، ایک حکیم، ایک فلسفی، ایک منطقی، ایک انشاپرداز، ایک خطیب، ایک عالم، ایک مومن، ایک مفتی، ایک قاضی، ایک عادل، ایک صف شکن، ایک زاہد، ایک عابد، ایک مجاہد، ایک انسان مجسم اور ایک انسانیت کے عدیم المثال قائد سے محروم ہوگئی۔ آخر میں امام علی علیہ السلام کے بارے میں چند اشعار ذکر کرکے اس تحریر کو ختم کرتا ہوں۔
جس نے اصنام کو کعبے سے نکالا وہ علی
 ہر اندھیرے کو کیا جس نے اجالا وہ علی
جس کا رتبہ ہے رسولوں سے بھی بالا وہ علی
جس نے اس دین کی کشتی کو سنبھالا وہ علی
جو ملائک سے بھی ہے رتبے میں برتر وہ علی
جس کے خدام ہیں سلمان و ابوذر وہ علی
جو ہر جنگ میں ہے سب سے مقدم وہ علی
جس نے مجمع کئے کفار کے برہم وہ علی
علی امام من است و منم غلام علی
ہزار جان گرامی فدای نام علی
خبر کا کوڈ : 646355
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
یہ تقریر ہے یا کالم ہے
ہماری پیشکش