1
1
Sunday 11 Nov 2018 00:41

اسلامی مزاحمتی سوچ اور عالمی استکباری نظام کا خاتمہ

اسلامی مزاحمتی سوچ اور عالمی استکباری نظام کا خاتمہ
تحریر: سید عبداللہ متولیان

ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے 3 نومبر (یوم مردہ باد امریکہ) کے دن ملک بھر سے آئے طلبہ کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے "اسلامی مزاحمتی نظریے" کی ترویج پر زور دیا اور عالمی استکباری قوتوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے پر مبنی طرز فکر کو درست قرار دیتے ہوئے کہا: "جوانوں کو چاہئے کہ وہ مختلف حلقوں میں عالمی استکباری قوتوں کے اصلی ہدف یعنی تسلط پسندی کو واضح کریں تاکہ ان کے مقابلے میں اسلامی مزاحمتی نظریے کی ضرورت اور درستی بخوبی اجاگر ہو سکے۔ ہم عمل کے میدان میں مزاحمت کو عراقی، شامی، لبنانی، شمالی افریقہ کے ممالک، برصغیر اور دیگر خطوں کے جوانوں کا حق سمجھتے ہیں اور ان تحریکوں کو مضبوط کرنا درحقیقت اسلامی مزاحمتی نظریے کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔"
 
مغرب کے استعماری اور استکباری نظام نے 18 ویں صدی عیسوی میں صنعتی انقلاب کے بعد آج تک دنیا پر تسلط قائم کرنے کیلئے تین مراحل طے کئے ہیں:
1)۔ دنیا کے مختلف ممالک پر براہ راست قبضہ اور تسلط جس کا مقصد وہاں موجود تین اہم سرمائے یعنی مارکیٹ، خام مال اور افرادی قوت کو لوٹنا تھا۔ بیداری کی پہلی لہر ان کے اس تسلط اور قبضے کے خاتمے کا باعث بنی۔
2)۔ جدید استعمار یعنی دنیا کے مختلف ممالک پر اپنے پٹھو حکمرانوں کے ذریعے قبضہ اور تسلط قائم رکھنا۔ یہ مرحلہ بھی بیداری کی دوسری لہر کے نتیجے میں اختتام پذیر ہونے لگا۔
3)۔ بیداری کی دوسری لہر کے بعد عالمی استعماری قوتوں نے قانونی انداز میں دیگر ممالک کو لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے پہلے دوسری عالمی جنگ شروع کی جس کے نتیجے میں تقریباً 13 کروڑ انسان لقمہ اجل بن گئے اور اس کے بعد اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ تشکیل دیا اور اس کے ذیل میں بے شمار ادارے قائم کئے گئے جن کے ذریعے استعماری قوتیں پوری دنیا پر اپنا کنٹرول قائم کئے ہوئے ہیں۔ اس طرح پوری دنیا کے ممالک استعماری طاقتوں کے تسلط پسندانی قانونی نظام کو قبول کرنے پر مجبور ہو گئے۔
 
بین الاقوامی تسلط پسندانہ نظام نے گذشتہ 73 برس کے دوران دنیا بھر کے ممالک پر تمام سماجی، اقتصادی، سیاسی، ثقافتی، سکیورٹی، علمی، کمیونیکیشن، اسپورٹس وغیرہ شعبوں میں اپنا تسلط قائم کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے استعماری قوتیں قانون سازی کا سہارا لیتی ہیں اور عالمی اداروں کے ذریعے اپنی مرضی کے قوانین دیگر ممالک پر ٹھونستی ہیں۔ آج دنیا کے تمام ممالک استعماری قوتوں کے بنائے ہوئے قوانین کی اطاعت کرنے پر مجبور ہیں۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے قوانین کی آڑ میں اسرائیل کی بے رحم اور سفاک صہیونی رژیم مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام کرنے میں مصروف ہے جبکہ عرب ممالک اس سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ اس راستے کو قیام امن کیلئے ضروری گردانتے ہیں۔ دوسری طرف انہیں بین الاقوامی ظالمانہ قوانین کی آڑ میں غاصب صہیونی رژیم کے خلاف اپنے حقوق کی جدوجہد کرنے والے گروہوں جیسے حماس اور حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے بنائے جانے والے تمام قوانین امریکہ اور صہیونی رژیم کے مفادات کے تحفظ کیلئے بنائے اور لاگو کئے جاتے ہیں۔
 
آج سے چالیس سال پہلے ایران میں کامیاب ہونے والے اسلامی انقلاب نے اس عالمی استعماری نظام کو چیلنج کیا۔ اسلامی انقلاب نہ صرف خود بین الاقوامی ظالمانہ نظام اور قوانین کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا بلکہ تمام اسلامی ممالک اور دنیا کے دیگر ممالک کو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ترغیب دلائی۔ 1979ء میں کامیاب ہونے والے اس اسلامی انقلاب نے اسلامی دنیا میں ایک نظریے کو جنم دیا جو "اسلامی مزاحمتی نظریہ" کہلاتا ہے۔ اسی نظریے کے تحت خطے میں غاصب صہیونی رژیم کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف لبنان میں حزب اللہ اور مقبوضہ فلسطین میں حماس جیسے جہادی گروہ معرض وجود میں آئے۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم نے چند بڑے بڑے عرب ممالک کو فوجی میدان میں شکست دے کر پوری اسلامی دنیا پر اپنا رعب جما رکھا تھا اور سب اسے ناقابل شکست تصور کرنے لگے تھے۔ لیکن جب حزب اللہ لبنان نے جہاد اور شہادت کے جذبے سے سرشار ہو کر اسے لبنان سے نکال باہر کیا اور اس کے بعد ہونے والی دو جنگوں میں اسرائیل کو ذلت آمیز شکست سے روبرو کیا اور حماس نے بھی اسرائیل کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی تو اسرائیل کا یہ طلسم ٹوٹ گیا۔
 
اسلامی جمہوریہ ایران ولی امر مسلمین امام خامنہ ای جیسی عظیم شخصیت کی قیادت میں اسلامی مزاحمتی بلاک کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ ایران، عراق، شام، لبنان، یمن اور افغانستان میں سرگرم مجاہد گروہوں پر مشتمل یہ اسلامی مزاحمتی بلاک آج عالمی استعماری طاقتوں کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹک رہا ہے۔ اس بلاک نے خطے سے متعلق امریکہ کے شیطانی منصوبوں کو ناکامی کا منہ دکھایا ہے۔ شیطان بزرگ امریکہ اور اس کی اتحادی حکومتوں نے اسی اسلامی مزاحمتی بلاک کو کمزور کرنے کیلئے القاعدہ، طالبان، داعش، النصرہ فرنٹ، جیش العدل وغیرہ جیسے دہشت گرد گروہوں کو پروان چڑھایا اور انہیں ہر قسم کی مالی، فوجی اور تربیتی مدد فراہم کی۔ لیکن "اسلامی مزاحمتی نظریہ" اور اسلامی مزاحمتی طرز فکر نے استعمار کی تمام سازشوں کو ناکام بنایا ہے اور مستقبل میں بھی یہی نظریہ امریکہ کے شیطانی منصوبوں سے مقابلے کا واحد راہ حل ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 760427
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
دو ترجمے ہوچکے ہیں، اب مزید ترجمہ نہ لگائیں، تاکہ منافقین کو زبان درازی کا موقع نہ ملے۔
منتخب