0
Tuesday 28 May 2019 12:14

امتوں کے زوال کے اسباب، اول مظلوم کائنات امیرالمومنین حضرت علی (ع) کی نگاہ میں(2)

امتوں کے زوال کے اسباب، اول مظلوم کائنات امیرالمومنین حضرت علی (ع) کی نگاہ میں(2)
تحریر: ملک محمد اشرف
malikashraf110@gmail.com

3) دنیا کی محبت اور  گناہ میں غرق ہونا
عجیب بات ہے کہ جو دنیا انسان کو اس لئے دی گئی کہ اس سے کمالات کی منزلیں طے کرے، اسی دنیا کے دھوکے میں آکر انسان لمبی امید رکھ کر حق کا انکار کر دیتا ہے اور گناہ پر گناہ کرتا جاتا ہے۔ اللہ بھی اسے مہلت دیتا ہے، لیکن یہ انسان جب اتنا مغرور ہو جاتا ہے کہ اللہ کے مقابلہ میں اس کے دین کی مخالفت کرنے پر اترتا ہے اور جب یہ حالت کسی قوم یا امت کی بن جاتی ہے تو تباہی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ محبت انسان کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے، جب انسان دنیا کا فریفتہ ہو جاتا ہے تو دنیا کے سارے عیوب و نقائص اس کی نگاہوں میں محاسن و محامد دکھائی دینے لگتے ہیں اور یہ وسیع النظر اور افضل مخلوق انسان دنیا کی چند روزہ لذتوں اور نعمتوں کا ایسا گرویدہ ہو جاتا ہے کہ آخرت اس کی نظر میں نسیاّ ً منسیاً  ہو جاتی ہے، یعنی آخرت سے بالکل غافل ہو جاتا ہے اور یہ غفلت اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ اسیر دنیا، آخرت کو دنیا طلبی کا ذریعہ بنا لینا بھی معیوب نہیں سمجھتا۔

خطبہ شقشقیہ کے آخر میں خلافت کے سلسلے میں آپ پر ظلم کرنے والے ظالموں کے ظلم کا سبب دنیا کی چمک دمک بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "جب میں نے ذمہ داری سنبھالی اور اٹھ کھڑا ہوا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ دی اور دوسرا دین سے باہر نکل گیا اور تیسرے نے فسق اختیار کر لیا، جیسے کہ ان لوگوں نے یہ ارشاد الٰہی سنا ہی نہیں ہے کہ ''یہ دار آخرت ہم صرف ان لوگوں کے لئے قرار دیتے ہیں، جو دنیا میں بلندی اور فساد نہیں چاہتے ہیں اور عاقبت صرف اہل تقویٰ کے لئے ہے، ہاں ہاں خدا کی قسم ان لوگوں نے یہ ارشاد سنا بھی ہے اور سمجھے بھی ہیں، لیکن دنیا ان کی نگاہوں میں آراستہ ہوگئی اور اس کی چمک دمک نے انہیں نبھا لیا۔"[1] "لوگو! یاد رکھو یہ دنیا اپنے سے لو لگانے والے اور اپنی طرف کھینچ جانے والے کو ہمیشہ دھوکہ دیا کرتی ہے۔ جو اس کا خواہش مند ہوتا ہے، اس سے بخل نہیں کرتی ہے اور جو اس پر غالب آجاتا ہے، اس پر قابو پا لیتی ہے۔ خدا کی قسم کوئی بھی قوم جو نعمتوں کی ترو تازہ اور شاداب زندگی میں تھی اور پھر اس کی وہ زندگی زائل ہوگئی ہے تو اس کا کوئی سبب سوائے ان گناہوں کے نہیں ہے، جن کا ارتکاب اس قوم نے کیا ہے۔"[2]

4) تکبر و تعصب
کسی امت یا گروہ کے زوال کے اسباب میں سے ایک بنیادی سبب تکبر اور تعصب بھی ہے۔ تکبر اور تعصب کرنے والی ملت، قوم، امت یا ہر گروہ و شخص اپنی ذات کی بڑائی کے نشے میں چور، اپنی رائے، اپنے عمل، اپنی اولاد حتیٰ کہ اپنی ہر چیز کو سب سے برتر جانتا ہے۔ ہر بات، ہر کام اپنی ذات کو سامنے رکھ کر کرتا ہے، جہاں اسے حق بات کو تسلیم کرنے میں اپنی ذات گرتی ہوئی محسوس ہو، وہیں تکبر آپہنچتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے پاس مکہ کے سرداروں نے آکر کہا تها کہ ہم اسلام تو قبول کر لیں، مگر اسلام قبول کرنے کے بعد ہمیں آپ کے ان خاک نشینوں کے ساتھ بیٹهنا پڑے گا، جو ابهی کچھ عرصہ پہلے ہمارے غلاموں میں شمار ہوتے تهے، آپ ان کو دور کریں تو ہم اسلام قبول کرنے کو تیار ہیں۔ ان لوگوں کا یہ رویہ ان کے تکبر اور تعصب کی بنیاد پر تھا۔

امیر المومنین حضرت علی اس بات کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ "گذشتہ امتیں جو تباہ و برباد ہوئی ہیں، وہ متکبر تھیں، ان کے سقوط کا ایک سبب تکبر تھا، اسی بنیاد پر لوگوں کو تکبر سے بچنے کے لئے فرماتے ہیں: تمہیں لازم ہے کہ تم سے قبل متکبر امتوں پر جو قہر و عذاب اور عتاب و عقاب نازل ہوا، اس سے عبرت لو اور ان کے رخساروں کے بل لیٹنے اور پہلوؤں کے بل گرنے کے مقامات سے نصیحت حاصل کرو اور جس طرح زمانہ کی مصیبتوں سے پناہ مانگتے ہو، اسی طرح معزور و سرکش بنانے والی چیزوں سے اللہ کے دامن میں پناہ مانگو۔ اگر خدا عالم اپنے بندوں میں سے کسی ایک کو بھی کبر و رعونت کی اجازت دے سکتا ہوتا تو وہ اپنے مخصوص انبیاء و اولیاء کو اس کی اجازت دیتا، لیکن اس نے ان کو کبر و غرور سے بیزار ہی رکھا۔"[3]

امام علی (ع) اپنے زمانے میں کوفہ کے لوگوں کو بالخصوص اور قیامت تک کے لئے امت مسلمہ کو زوال اور سقوط سے بچنے کے لئے کئی مقامات پر گذشتہ امتوں کے  متکبرین کے مظالم اور پھر ان پر ہونے والے عذاب سے عبرت حاصل کرنے کے لئے فرماتے ہیں: "تمہارے لئے گذشتہ دوروں (کے ہر دور) میں عبرتیں (ہی عبرتیں) ہیں، (ذرا سوچو کہ) کہاں ہیں عمالقہ اور ان کے بیٹے اور کہاں ہیں فرعون اور ان کی اولادیں، کہاں ہیں اصحاب الرّس کے شہروں کے باشندے، جنہوں نے نبیوں کو قتل کیا اور پیغمبروں کے روشن طریقوں کو مٹایا اور ظالموں کے طور طریقوں کو زندہ کیا، کہاں ہیں وہ لوگ جو لشکروں کو لے کر بڑھے ہزاروں کو شکست دی اور فوجوں کو فراہم کرے شہروں کو آباد کیا۔"[4]

یہ وہ اپنے زمانے کے مضبوط اور طاقتور لوگ تھے، جنہوں نے الہیٰ نمائندوں کی آواز پر لبیک نہ کہی اور ان کے مقابلہ میں آئے، لیکن آج تباہ شدہ اقوام میں تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ امام علی (ع) نہ صرف یہ کے امت مسلمہ کو  تکبر سے بچنے کی نصیحت فرماتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو افراد، سردار اور حکمران متکبر ہیں، تم کو ان کے قریب تک نہیں جانا چاہیئے اور ان کی اتباع و پیروی سے بھی بچنا چاہیئے، یہ سب چیزیں امام (ع) کے اس کلام کے بعض حصوں کی دلالت مطابقی اور بعض کی دلالت التزامی سے سمجھی جا سکتی ہیں۔

مولا فرماتے ہیں: "دیکھو! اپنے ان سرداروں اور بڑوں کا اتباع کرنے سے ڈرو کہ جو اپنی جاہ وحشمت پر اکڑتے اور اپنے نسب کی بلندیوں پر غرور کرتے ہوں اور بدنما چیزوں کو اللہ کے سر ڈال دیتے ہوں اور اس کی قضا و قدر سے ٹکر لینے اور اس کی نعمتوں پر غلبہ پانے کے لے اس کے احسانات سے یکسر انکار کر دیتے ہوں۔ یہی لوگ تو عصبیّت کی عمارت کی گہری بنیاد، فتنہ کے کاخ دایوان کے ستون اور جاہلیت کے نسبی تفاخر کی تلواریں ہیں، لہٰذا اللہ سے ڈرو، اس کی دی ہوئی نعمتوں کے دشمن نہ بنو اور نہ اس کے فضل و کرم کے جو تم پر ہے۔ حاسد بنو اور جھوٹے مدعیان اسلام کی پیروی نہ کرو کہ جن کا گندلا پانی تم اپنے صاف پانی میں سمو کر پیتے ہو اور اپنی درستگی کے ساتھ ان کی خرابیوں کو غلط ملط کر لیتے ہو اور اپنے حق میں ان کے باطل کے لئے بھی راہ پیدا کر دیتے ہو،وہ فسق و فجور کی بنیا د ہیں۔"[5]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع
[1] نہج البلاغہ خطبہ۳
[2] نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۸
[3] نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۰
[4] نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۰
[5] نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۰
خبر کا کوڈ : 796875
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے