1
0
Thursday 20 Jun 2019 07:58

چینی طالبان

چینی طالبان
اداریہ
افغانستان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے چھ دور ہوچکے ہیں، اسی طرح افغان امور میں امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کے بھی لاتعداد پاکستان اور افغانستان کے دورے ابھی تک نتیجہ بخش ثابت نہیں ہوسکے ہیں۔ امریکہ طالبان سے اپنی مرضی کے تمام مطالبات منوانے میں کامیاب نہیں ہو رہا، لہذا مذاکرات کے پے در پے دور جاری ہیں۔ طالبان نے اس دوران ایک نیا پتہ کھیلا ہے اور چین سے اپنے تعلقات بہتر کر لیے ہیں۔ یوں تو جولائی 2016ء میں بھی طالبان نے اپنا ایک وفد چین بھیجا تھا، لیکن چونکہ اس وقت مذاکرات کا تنور گرم نہیں تھا، لہذا کسی نے اس پر توجہ نہیں دی، لیکن آج کل جب طالبان امریکہ مذاکرات پر سب کی نظریں ہیں، طالبان نے اپنا ایک اعلیٰ سطحی وفد ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں چین بھیجا ہے، جس نے چینی وزیر خارجہ سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔

امریکہ کے لیے یہ خبر کسی دھماکے سے کم نہیں، وہ چین کو اس معاملے سے الگ رکھنے کے لیے متعدد اقدامات کر چکا ہے، لیکن طالبان نے مذاکرات میں اپنا وزن بڑھانے کے لیے اس نئے کھیل کا آغاز کیا ہے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں مذاکرات کا ساتواں دور شروع ہونے کو ہے، ایسے میں چین کی اس مسئلے میں آمد نے امریکہ کی ممکنہ اسٹریٹجی کو عمل درآمد سے پہلے ہی ناکامی کے راستے پر لگا دیا ہے۔ امریکہ چین کا راستہ روکنے کے لیے افغانستان میں اپنا فوجی وجود ہر صورت میں برقرار رکھنا چاہتا ہے، بلکہ امریکہ نے تو چین کو تنگ کرنے کے لیے چینی صوبے سنگیانگ کے ہمسائے میں افغان صوبے درخشاں میں داعش کو بھی لانچ کر دیا ہے۔

امریکہ نے افغانستان میں داعش کو لانچ کر کے چومکھی جنگ کا آغاز کیا ہے۔ امریکہ داعش کو چین کے ساتھ ساتھ روس، پاکستان اور خود طالبان کے خلاف ایک پریشر گروپ کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ایسے میں طالبان نے جوابی حملہ کرتے ہوئے چین کے ساتھ اپنی پینگیں بڑھا لی ہیں۔ چین اس وقت خطے میں ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر افغان حکومت، پاکستان اور طالبان کو ملا کر امریکہ کے لیے نیا چیلنج تیار کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملا عبدالغنی برادر کے دورہ چین کو عالمی میڈیا بالخصوص افغان امور سے متعلق ذرائع ابلاغ میں خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے اور اسے امریکہ کے لیے نیا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 800461
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
اس نئی گیم میں ایران کہاں کھڑا ہے، اس پر اسلام ثائمز کو ضرور لکھنا چاہیے۔
منتخب