1
0
Sunday 30 Jun 2019 12:02

یمن، ماضی اور حال کے تناظر میں(1)

یمن، ماضی اور حال کے تناظر میں(1)
تحریر: سید اسد عباس
 
یمن جزیرہ عرب کے جنوب میں قائم دوسری بڑی ریاست ہے، جس کا رقبہ 5,27970 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ اس ریاست کی صحرائی پٹی تقریباً 2000 کلومیڑ پر پھیلی ہوئی ہے، جس کے جنوب میں بحیرہ عرب، شمال میں سعودی عرب، مغرب میں بحیرہ احمر، خلیج عدن جبکہ مشرق میں عمان ہے۔ اس ریاست کے تقریباً 200 کے قریب چھوٹے جزائر ہیں۔ یمن او ائی سی، اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا رکن ہے۔ قرآن کریم میں مذکور ملکہ صبا کا تعلق اسی سرزمین سے تھا، جو ایک قدیم تہذیب ہے۔ ابرہہ کا لشکر بھی یمن کی جانب سے سرزمین حجاز پر حملہ آور ہوا۔
 
یمن میں اسلام
اس خطے میں اسلام رسالت ماب ؐ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے ہی پھیلنا شروع ہوگیا تھا۔ یمنی تاجر اور بیت اللہ کے زائرین رسالت ماب کی بعثت سے آگاہ ہوئے تو انہوں نے اس نئے دین کے بارے میں جاننا شروع کیا، یمن میں دین اسلام کی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے رسالت ماب ؐ نے بہت سے صحابہ کو یمن میں تعینات کیا، جن میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام، معاذ بن جبل ؓ، مہاجر بن ابی امیہ، عکاشہ بن ثور، ابو موسیٰ اشعری، خالد بن ولید، عمرو بن حزم انصاری، طاہر بن ابی ھالہ، عامر بن شہر شامل ہیں۔ تیسری صدی ہجری میں یمن میں شافعی اور زیدی فقہ کے پیروکار ظاہر ہوئے۔ زیدی یمن کا ایک اکثریتی مذہب ہے، جو کہ سادات بنی حسن کے یمن میں آنے اور یہاں برسراقتدار رہنے کے سبب ظاہر ہوا۔
 
مسلک زیدیہ 
مفتی امجد عباس اپنے تحقیقی مقالے ’’زیدیہ۔۔۔: ایک تعارف‘‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ معاصر محقق سامی الغدیری کے مطابق زیدیہ بہت سے امور میں اہل سنت سے ہم آہنگی رکھتے ہیں، خاص طور پر سلیمانیہ، صالحیہ اور بتریہ فرقے، ان کا خیال ہے کہ امامت شورائی ہے۔ ان کے نزدیک امام کا چنائو لوگ خود کریں گے، انہوں نے مفضول کو افضل پر مقدم کرنا جائز سمجھا ہے، ہاں بعض شرائط امامت میں ان کا اہل سنت سے اختلاف ہے، جیسے زیدیہ کے مطابق امام کا فاطمی ہونا اور تلوار کے ذریعے دعویٰ امامت کرنا لازم ہے۔ جمہور اہل سنت کے نزدیک امام کا فاطمی یا قریشی ہونا لازم نہیں ہے، نہ ہی تلوار اٹھانا لازم ہے بلکہ امام کا عادل ہونا بھی شرط نہیں، زیدیہ عقائد میں کسی قدر معتزلہ سے بھی ملتے ہیں، جیسے منزلت بین المنزلتین اور انسانی ارادے کی آزادی کا مسئلہ۔
 
مفتی امجد اپنے مقالے میں زیدیہ اور اثناء عشریہ کے فرق کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: شیعہ اثناء عشریہ کے نزدیک امام کے پاس دینی اور دنیوی رہبری ہوتی ہے۔ زیدیہ نے فرق کیا ہے، وہ امام کو دینی راہنماء جانتے ہیں۔ زیدیہ کے نزدیک جو بندہ امام کی امامت پر ایمان نہیں لاتا، وہ گمراہ ہے۔ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے۔ امامیہ کے نزدیک امامت صرف امام حسینؑ کی اولاد کے ساتھ خاص ہے، جبکہ زیدیہ امام حسنؑ کی اولاد میں بھی اسے درست جانتے ہیں۔ زیدیہ امام کے لیے تلوار اٹھانا لازم جانتے ہیں اور تقیہ کو نادرست سمجھتے ہیں۔ شیعہ امامیہ اثناء عشریہ نبی کریمؑ اور آئمہ اہل بیتؑ کی شفاعت کے قائل ہیں جبکہ زیدیہ شفاعت صرف نبیؐ کا حق جانتے ہیں، نیز ان کے نزدیک شفاعت کا مطلب درجات کی بلندی ہے۔
 
زیدیہ امام کی عصمت کے قائل نہیں ہیں
شیعہ اثناء عشریہ کے نزدیک، انبیائؑ، صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں، جب کہ زیدیہ سمجھتے ہیں کہ انبیاء محض کبیرہ گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں، ان سے صغیرہ گناہ سرزد ہونے کا امکان ہوتا ہے (نہ یہ کہ وہ ایسا کرتے ہیں)۔ ملاحظہ ہو: الزیدیۃ بین الامامیۃ و اھل السنۃ، صفحہ 587 تا 593، ناشر دار الکتب الاسلامی۔
 
زیدیہ میں فرقے یا مکاتب
خود زیدیہ کے مابین بھی کئی ایک فرقے ہیں، جن میں ’’جارودیہ‘‘ جو  ابوالجارود زیاد بن ابی زیاد کے پیروکار ہیں۔ ’’صالحیہ یا بتریہ‘‘ جو  حسن بن صالح بن حی ہمدانی اور ابو اسماعیل کثیر بن اسمٰعیل بن نافع نواء الملقب بہ "کثیر النواء و الابتر" کے پیروکار ہیں۔ ’’سلیمانیہ یا جریریہ‘‘ جو سلیمان بن جریر رقی زیدی کے پیروکار ہیں، ان کے علاوہ "قاسمیہ" جو قاسم رسی کے پیروکار ہیں، "ہادویہ"جو یحییٰ بن حسین بن قاسم الھادی الی الحق کے پیروکار ہیں، "ناصریہ" جو ناصر اطروش کے پیروکار ہیں، "صباحیہ" جو صباح بن قاسم مری یا مزنی کے پیروکار ہیں، "عقبیہ" جو عبداللہ بن محمد عقبی کے پیروکار ہیں، "نعیمیہ" جو نعیم بن یمان کے پیروکار ہیں اور ’’یعقوبیہ‘‘ جو یعقوب بن علی (یا عدی) کوفی کے پیروکارہیں قابل ذکر ہیں۔
 
زعمائے زیدیہ
مفتی امجد عباس اپنے مقالے میں زیدیہ کی معروف شخصیات کے بارے میں لکھتے ہیں: محمد بن محمد بن یحییٰ زبارۃ الحسنی نے اپنی کتاب "تاریخ الائمۃ الزیدیۃ فی الیمن حتی العصر الحدیث" میں مختلف صدیوں کے دوران زیدی مجددین کی ایک فہرست درج کی ہے، جو حسب ذیل ہے:
پہلی صدی ہجری کے مجدد (پہلے زیدی امام) امام زیدؑ بن علیؑ (دعوت 122 ہجری)۔
دوسری صدی ہجری، قاسم رسی (دعوت 246 ہجری)۔
تیسری صدی ہجری، ناصر الدین حسن بن علی الملقب بہ "اطروش" (دعوت 304 ہجری)۔
چوتھی صدی ہجری، سرزمیں دیلمان اور طبرستان، احمد بن یحییٰ بن حسین (دعوت 325 ہجری)۔
پانچویں صدی ہجری، سرزمین یمن، یوسف بن یحییٰ بن احمد (دعوت 403 ہجری)۔
پانچویں صدی ہجری، سرزمین یمن احمد بن حسین بن ہارون (دعوت 411 ہجری)۔
پانچویں صدی، سرزمین دیلمان، یحییٰ بن حسین بن ہارون الملقب بہ "ابو طالب کبیر" (دعوت 424 ہجری)۔
پانچویں صدی، سرزمین دیلمان، یحیی بن حسین بن اسحٰق جرجانی (دعوت 499 ہجری)۔
 
چھٹی صدی ہجری، سرزمین گرگان و رے، یحییٰ بن احمد بن ابی القاسم الملقب بہ "ابو طالب صغیر" (دعوت 520 ہجری)۔
چھٹی صدی ہجری، سرزمین دیلمان، احمد بن سلیمان بن محمد المعروف بہ "متوکل" (دعوت 566 ہجری)۔
ساتویں صدی ہجری، سرزمین یمن، عبداللہ بن حمزہ بن سلیمان المعروف بہ المنصور باللہ (دعوت 614 ہجری)۔
آٹھویں صدی ہجری، محمد بن مطہر بن یحییٰ الملقب بہ المہدی لدین اللہ (دعوت 729 ہجری)۔
نویں صدی ہجری، احمد بن یحییٰ بن مرتضیٰ (دعوت 840 ہجری)۔
نویں صدی ہجری، علی بن صلاح الدین (دعوت 840 ہجری)۔
دسویں صدی ہجری، یحیی شرف الدین بن شمس الدین (دعوت 965 ہجری)۔
گیارہویں صدی ہجری، المنصورباللہ قاسم بن محمد بن علی (دعوت 1029 ہجری)۔
 
بارہویں صدی ہجری، محمد بن احمد بن حسن (دعوت 1130 ہجری)۔
بارہویں صدی ہجری، یوسف بن متوکل (دعوت 1140 ہجری)۔
بارہویں صدی ہجری، علی بن عباس بن حسین (دعوت 1189 ہجری)۔
تیرہویں صدی ہجری اسماعیل بن احمد بن عبد اللہ الکبس (دعوت 1250 ہجری)۔
چودہویں صدی ہجری، محمد بن یحییٰ بن محمد (دعوت 1322 ہجری)۔[27]۔[28]
ان مجددین کے علاوہ اس مسلک سے تعلق رکھنے والے علماء نے علم و حکمت کے میدان میں گرانبہا آثار چھوڑے ہیں، جن کی تفصیل کو بیان کرنا ان سطور کے ظرف سے باہر ہے۔
 
یمن میں فوجی اقتدار
یمن میں ایک طویل عرصے تک مجتہدین بنی فاطمہ کی حکومت رہی ہے۔ 1962ء میں بھی یمن کے شمالی علاقوں میں ایک ایسے ہی عالم کی حکومت تھی، جبکہ جنوبی یمن پر کیمونسٹ برسر اقتدار تھے۔ یمنی فوج کے ایک افسر علی عبد اللہ صالح نے مصری فوج کی مدد سے شمالی علاقوں میں بغاوت کا آغاز کیا اور خونریز جنگ کے بعد یمن کے اقتدار پر قابض ہونے میں کامیاب ہوا۔ علی عبداللہ صالح کے زمانے میں شمالی اور جنوبی یمن ایک ریاست کے طور پر ابھرے اور اس نے ملک میں وہ صدارتی نظام قائم کیا، جہاں صدر کو ہمیشہ 90 فیصد ووٹ ملتے ہیں۔ علی عبداللہ صالح کی حکومت کا خاتمہ یمن میں ایک عوامی تحریک سے ہوا، جس کا احوال سطور ذیل میں آئے گا۔
 
سید حسین بدر الدین الحوثی 
 سید حسین بدر الدین الحوثی، یمن کے زیدی عالم دین سید بدرالدین الحوثی بن سید امیر الحوثی کے بڑے فرزند اور اس وقت یمن کی زیدی تحریک انصار اللہ کے سربراہ سید عبد الملک حوثی کے بڑے بھائی تھے۔ سید حسین نے سوڈان سے شریعہ میں ماسٹرز کیا، آپ کا خاندان یمن کے علمی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کا تعلق امام حسن بن امام علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی نسل سے ہے۔ آپ کے جد سید یحییٰ بن حسین بن قاسم رسی جو کہ حسن مثنٰی کے فرزندوں میں سے ہیں، اہل یمن کی دعوت پر 284ھ میں یمن آئے، سید یحییٰ نے یمن میں زیدی مسلک کی بنیاد رکھی اور حکومت قائم کی۔ سید یحییٰ یمن میں الھادی الی الحق کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔
 
حسین بدر الدین کی فعالیت
یمن میں سلفی افکار کی ترویج اور سرایت نیز ہمسایہ ملک سعودیہ کی جانب سے مالی اور فکری معاونت کو دیکھتے ہوئے سید بدر الدین الحوثی اور ان کے ایک ساتھی عالم دین نے زیدی افکار کے تحفظ کی تحریک شروع کی۔ اس تحریک میں انہوں نے یمن کے مختلف علاقوں میں مدارس، ثمر کیمپس اور ثقافتی اداروں کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک کا سیاسی ونگ حزب حق کے نام سے جانا جاتا تھا۔ سید بدر الدین الحوثی نہایت سادہ طبیعت اور زہد کے حامل عالم دین تھے، ان کی آواز نے زیدی نوجوانوں کو اپنی جانب کھینچا، یوں لاکھوں زیدی نوجوان اس تحریک کا حصہ بن گئے۔ اس تحریک میں نوجوانوں کو زیدی مکتب کے عقائد، اخلاق اسلامی، علمی سرمایہ سے آگاہی دی جاتی تھی، ساتھ ساتھ انہیں عملی جدوجہد کی جانب بھی راغب کیا جاتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 802301
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ثاقب اکبر
Pakistan
جس طرح کی پیش رفت یمن کے حوالے سے جاری ہے، اس پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ یمنی تحریک کا پس منظر جاننا بھی اہم ہے۔ عزیزم اسد عباس نے وسیع مطالعے کے بعد یہ ایک مفید مقالہ شروع کیا ہے، امید ہے آئندہ مطالب بھی قابل استفادہ ہوں گے۔ آفرین
منتخب