1
0
Thursday 8 Aug 2019 21:15

اُفکار شہید قائد (رہ) کے منابع

اُفکار شہید قائد (رہ) کے منابع
تحریر: حیدر علی

قرآن کریم نے شہید کی حیات کے تناظر میں جس ادراک کے نہ ہونے کا ذکر کیا ہے، اس سے مراد یہ نہیں کہ انسان شہید کی حیات کا ادراک حاصل کر ہی نہیں سکتا۔  راستہ بند نہیں بلکہ راستہ موجود ہے، ہمیں بس اس جانب سفر کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ کہ شہید کی حیات کو درک کرسکیں۔ اگر راستہ بند ہی ہوتا تو خدا کیوں اپنے بندے کو مخاطب کرکے یتدبرون، تعقلون اور یتفکرون کی دعوت دیتا۔ نباتات میں بیج پر ایک ایسا وقت ہوتا ہے، جب وہ بظاہر ایک بے جان، مردہ ساخت چھوٹے کنکر یا پتھر کی مانند ہوتا ہے، اس میں ظاہراً زندگی کے کوئی آثار نہیں ہوتے، لیکن اصل میں وہ بیج اپنے اندر ایک حیات رکھتا ہے، جب اسے مناسب ماحول اور اجزاء مہیا ہوتے ہیں تو وہی مُردہ بیج ایک پودے اور پھر درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے، پس جب قرآن میں ارشاد ہوتا ہے "بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَـٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ" ﴿١٥٤ کہ تمہیں ادراک نہیں کہ شہید زندہ ہے تو اس کا ایک معنی بالکل اس بیج کی مانند بھی لیا جاسکتا ہے، جو بظاہر ایک مردہ حالت میں پڑا ہو، ہم نہیں جانتے کہ یہ زندہ ہے یا نہیں۔ اعتقادی لحاظ سے تسلیم کر لینا کہ شہید زندہ ہے، کیونکہ خدا نے فرما دیا تو ٹھیک ہی ہے اور عقلانی طور تسلیم کرنا اس میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے۔ شہید کی حیات کو سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے، کیونکہ شہید کی حیات کو درک کرنا وہ پہلی سیڑھی ہے، جو وسیلہ بنے گی اس حیات ابدی کو سمجھنے کے لیے، جو اصل حقیقی حیات جس کی جانب سب نے پلٹنا ہے، یعنی بعد از موت اخروی حیات۔

دوسرا مرحلہ شہید کے افکار کی معرفت ہوتی ہے، یعنی وہ افکار جو شہید کو ذاتی زندگی سے نکال کر اجتماعی میدانِ مبارزہ و شہادت میں لاکھڑا کرتے ہیں، وہ افکار ہی اصل اس شہید کی میراث ہوتے ہیں۔ اسی لیے تو امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ نے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی شہادت پر فرمایا کہ "افکار این شهید را زنده نگهدارید۔" یعنی شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی رضوان اللہ تعالیٰ   کے افکار کو زندہ رکھیں۔ شہید قائد رضوان اللہ تعالیٰ کی راہ و روش، کردار و عمل ملت پاکستان کے لیے قریبی ترین اسوہ بن چکا ہے، جس پر سند شہادت کی مہر ثبت  ہوچکی ہے۔ فقط 4 برس کی فعالیت جو آج زمانوں پر محیط ہوچکی ہے۔ 31 برس گزرنے کے باوجود شہید قائد علامہ عارف حسین کی روش اور اصول قومی و ملی معاملات میں رہبری کرتے آرہے ہیں۔ وہ رزق شعور، رزق شہادت اور رزق سیاسی جو شہید قائد نے دیا تھا، آج تک ملت اسی دسترخواں سے فیضیاب ہوتی چلی آرہی ہے۔ آخر وہ  کیا بات تھی، جس نے فقط 4 سالہ فعالیت کو زمانوں پر محیط کر دیا۔ یقیناً وہ خالص افکار  ہی تھے، جن کو اپنا کر شہید حسینی (رہ) عین جوانی کے عالم میں اس عالی مقام کو پہنچے، جہاں بڑے بڑے سفید ریش نہیں پہنچ سکے تھے۔

شہید قائد کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے ایک اور چیز بھی عیاں ہوتی ہے کہ شہید قائد کی زندگی اپنے جد امیر المومنین علی ابن ابی طالب ؑ سے بعض موارد میں مماثل ہے، ایک غالب مماثلت دونوں اولیاء اللہ کی مظلومیت تھی۔ امیر المومنین علی ؑ کو اپنی حکومت کے 4 سالہ  اور کچھ ماہ کے عرصہ میں بیرونی مسائل سے زیادہ داخلی مسائل کا سامنا تھا، جب بھی امیرالمومنین علی ؑ کسی فتنہ کی سرکوبی کے لیے بڑھتے تو زیادہ توانائی  داخلی معاملات اور اپنی صفوں میں موجود خواص کو قائل کرنے پر صرف کرنا پڑتی تھی، جو الہیٰ ہدف کے حصول کے عمل کو سست کر دیتی، یہ وہ عمل تھا، جس کا شکوہ امیرالمومنین نے بہت زیادہ کیا۔ دوسری طرف بعین مشکل شہید قائد کو بھی اپنی رہبری کے دوران درپیش رہی، جب قومی سطح پر سیاسی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا تو لاہور میں ایک اجلاس کے دوران شہید قائد رضوان اللہ تعالیٰ کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا،
مگر شہید قائد ڈٹے رہے اور فرمایا کہ میں جو کہہ رہا ہوں، وہ امام خمینی کے کہنے پر کہہ رہا ہوں اور ان کے خط کے مطابق کہہ رہا ہوں۔

پسینے سے شرابور آخر میں جب اجلاس سے باہر نکلے، سب سے پہلے بزرگوار امجد کاظمی صاحب کے ذریعے شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کو  بلوایا اور پوچھا کہ ڈاکٹر بھائی آپ بتائیں، بڑے علماء تو میری بات نہیں مان رہے، تم مجھے بتاو تم میرے ساتھ ہو یا نہیں۔؟؟ ڈاکٹر شہید نے بے ساختہ کہا کہ آغا "آپ کو چھوڑنا اسلام کو چھوڑنا ہے، میں آپ کے ساتھ ہوں۔" الیکشن والی بحث نے بعد میں بہت شدت اختیار کی، 23 مارچ 1986ء کو لاہور میں وفاق المدارس کا اجلاس ہوا، جس میں اس موضوع کو بھی دانستہ طور پر ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا، اس اجلاس میں اس وقت کے تمام علماء کرام اور مدارس کے طلاب بھی جمع تھے، سب نے مل کر شہید حسینی کے سیاسی میدان میں اترنے کی شدید مخالفت کی اور بہت سخت تقاریر کی گئیں، لیکن شہید قائد اس مشکل کو بھی عبور کرگئے۔ اسی طرح امیرالمومنین نے جس طرح اندرونی اور بیرونی فتنہ کی آنکھ کو پھوڑا، جو بقول امیرالمومنینؑ یہ کام کوئی اور نہیں کرسکتا تھا۔

اسی طرح جب شہید حسینی رضوان اللہ تعالیٰ کی رہبری کے دور میں جب داخلی سطح پر غالی اور مقصر کے ذریعے قوم کی تقسیم کی سازش ہوئی تو شہید قائد نے اپنے عمل سے اس فتنہ کو ناکام بنایا، اس کا مظہر لاہور مینار پاکستان کانفرنس میں ملت کے تمام طبقات بشمول ذاکرین کی واضح شرکت تھی۔ شہید قائد کی شہادت کے بعد آج جس شد و مد سے یہ فتنہ دوبارہ اٹھا ہے اور بات اعلانیہ مرجعیت، رہبریت  سمیت دیگر مقدسات کی توہین تک آئی ہے، اس کا مطلب ہے کہ آج فعالیت تو ہے، مگر وہ کردار نہیں ہے، جو شہید قائد نے اس آگ کو بجھانے کے لیے ادا کیا تھا۔ شہید قائد خود چل کر ذاکرین کے گھر جاتے، انہیں خاص عزت سے نوازتے، اسی لیے تو آج بھی بہت سارے اختلاف کے باوجود پرانے نمایاں ذاکرین شہید قائد کی قدر کرتے ہیں۔ شہید قائد کی یہ روش بقول رہبر انقلاب اسلامی کے
"جذب حد اکثری" و "دفع حد اقلی" کے تحت تھی۔

چند سال قبل قائد انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای حفظ اللہ نے برسی امام خمینی کی مناسبت کے موقع پر امام خمینی کے افکار میں تحریف کے خطرہ سے آگاہ کیا تھا، کیونکہ جب دشمن راستہ روکنے میں ناکام ہوتا ہے تو پھر راستے کو موڑنے کی کوشش کرتا ہے، یعنی تحریف کرتا ہے۔ بالکل یہی خطرہ قائدِ شہید علامہ عارف حسینی کے افکار کے حوالے سے بھی موجود ہے اور آج پاکستان کے حالات میں شہید کے افکار میں ہونے والی آمیزیشن کو ہم محسوس کرسکتے ہیں۔ لہذا اس  خطرہ کے تدارک کے لیے اور قائدِ شہید کی سیرت و روش سے درست آشنائی کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ خط واضح رہے اور اس خط کی بنیاد پر فعال اداروں، جماعتوں کی روش کو پرکھا جاسکے۔ قائدِ شہید کی سیرت اور روش کو سمجھنے کے لیے کچھ بزرگان نے آثار شہید قائد کو جمع کرکے کتابی شکل میں ڈھالا ہے، جن کا مطالعہ کرکے شہید قائد کی خالص روش و افکار کسی حد تک سمجھنے میں مدد ملتی ہے، وہ دوستان جو شہید قائد رضوان اللہ تعالیٰ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو ذیل میں بتائی گئیں کتب کی طرف رجوع کریں، تاکہ غلط فہمیوں سے بچا جاسکے۔ ان کتب کے نام درج ذیل ہیں۔

"سفیر نور" یہ کتاب شہید قائد کے دور قیادت میں ہونے والی فعالیت پر مشتمل ہے۔
" پیام نور" یہ کتاب شہید قائد کے تربیتی و اخلاقی دروس پر مشتمل ہے۔
"گفتار صدق"  یہ کتاب شہید قائد کے قرآنی دروس پر مشتمل ہے۔
"سخن عشق" یہ کتاب شہید قائد کے عزاداری و مجالس میں کیے گئے خطابات پر مشتمل ہے۔
"آداب کارواں " یہ کتاب اجتماعی و تنظیمی امور پر شہید قائد کے کیے گئے خطبات پر مشتمل ہے۔
"میثاق خون" یہ کتاب شہید قائد کے اوائل قیادت میں مدارس سے متعلق کی گئیں گفتگووں کا مجموعہ ہے۔
"اسلوب سیاست " یہ کتاب  قائد ِشہید کی سیاسی جدوجہد اور روش پر مشتمل ہے۔
"وصال حق" یہ کتاب شہید قائد کی  مناجات اور بالخصوص دعائے کمیل میں ہونے والی تقاریر کا مجموعہ ہے۔
"نقیب وحدت" یہ کتاب قائد شہید کی پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے لیے کی گئی کوششوں اور خطابات کا مجموعہ ہے۔
" گوہر نایاب" اس کتاب میں شہید قائد سے متعلق وہ باتیں جمع کی گئیں ہیں، جو مذکورہ کتب میں نہیں سما سکیں۔
"سفیر انقلاب" یہ کتاب شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی حیات پر لکھی گئی ہے، لیکن اس میں بھی شہید قائد حوالے سے بہت سارے نقاط موجود ہیں۔
خبر کا کوڈ : 809603
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

حیدر صاحب شهید کے حوالے سے مصادر و ماخذ متعارف کرانے کا شکریه، لیکن با عرض معذرت یهودیت اور عیسائیت کی تحریف بارے خدا کا ارشاد هم پر بهی صادق آتا ہے، ہم بهی نومن ببعض اور نکفر ببعض پر عمل پیرا ہیں، جو بات ہماری فکر و مرضی کے خلاف هو اسکی فوراً توجیه یعنی تحریف معنوی کرتے ہیں اور اگر اس سے بهی کام نه چلے تو تحریف لفظی کرنے میں بهی ذرا شرم نہیں کرتے۔ بنده حقیر کے پاس سفیر انقلاب کا پہلا ایڈیشن اب بهی موجود ہے، جس میں شهید نقوی کے جنازه کی تصاویر اور موجوده قیادت کی شهید کے جنازه پر کی گئی تقریر کے علاوه شهید کا موجوده قیادت کے ساتھ اطاعت و پیروی کا رابطه اور اس قسم کے واقعات اس کتاب میں موجود ہیں، لیکن افسوس که جب بعض برادران کا موجوده قیادت سے اختلاف هوا تو انهوں اختلاف ہوتے ہی نه صرف تحریف معنوی کا ارتکاب کیا اور اب تک کر رہے ہیں، بلکه ان مصادر کو بهی اپنی انا پر قربان کیا اور ان میں تحریف کر ڈالی اور وه سب مطالب اور اسناد جو موجوده قیادت سے مربوط تهیں، کو بعد والے ایڈیشن سے حذف کر دیا گیا!!!! اور اسی طرح شهید قائد کے آثار بارے جو اداره بخاری صاحب نے موجوده قیادت کی هماهنگی اور حمایت سے بنایا تها، جب ان کا قیادت سے اختلاف هوا تو انھوں نے اس اداره اور آثار کا بهی ایسا ہی حشر کیا۔۔۔۔!!!!
منتخب