1
0
Thursday 22 Oct 2020 16:30

لاہور میں لکھنوی طرز کی مجلسِ سوز خوانی

لاہور میں لکھنوی طرز کی مجلسِ سوز خوانی
تحریر: توقیر کھرل

ایامِ عزا کا آخری عشرہ آلِ محمد کے غم کے ساتھ رخصت ہو رہا ہے اور نبی اکرم ۖکی ولادت مبارک کی نوید چہار سو سُنائی جا رہی ہے. ایام عزا میں عزا اور مجلس کی اذان "سوز خوانی" ایک بار پھر لاہور میں سنائی دی ہے۔ چار سو سال قدیمی رائج سوز خوانی کی مجالس برصغیر میں انحاط کا شکار ہیں لیکن کراچی، اسلام آباد اور اب لاہور میں دوبارہ سے یہ مجالس آراستہ کی جا رہی ہیں، تاکہ سوز خوانی کا یہ ورثہ اگلی نسل کو منتقل کیا جاسکے۔ شہید استاد سبط جعفری زیدی کی کاوشوں سے کراچی بھر میں ایک سو سے زائد سوز خواں اپنی خدمات بغیر معاوضہ کے انجام دے رہے ہیں اور اُن کے ہی شاگرد پاکستان سمیت دنیا بھر میں جہاں بھی ذکرِ شاہ زماں جاری ہے، سوز خوانی کی مجالس میں مصائب اہل بیت کا ذکر کرتے ہیں، کیونکہ یہ حق کا فیصلہ ہے۔۔۔

سوز خوانی کے بارے یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ "سوز" فارسی کا لفظ ہے، جس کے معنی درد، رنج و غم اور تکلیف کے ہیں. برصغیر پاک و ہند میں فضائل و مصائب اہل بیت علیہ السلام اور بالخصوص واقعات کرب و بلا اور کوفہ و شام سے لے کر اس قافلے کی مدینے واپسی تک جو منظوم واقعات ہیں، ان کو لحن یا طرز میں اور وضع کردہ طریقوں میں ادائیگی کو "سوز خوانی" کہا جاتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ سوز خوانی ایک گلدستہ ہے، جسے سوز خوان سجاتا ہے۔ برصغیر میں قدیمی مجلس سوز خوانی انحاط کا شکار ہے، البتہ گذشتہ کئی سالوں سے دوبارہ سے ترویج کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے ایک مصنف عقیل عباس جعفری نے سوز خوانی کا فن کے عنوان سے ایک کتاب بھی منظم کی ہے، جس کو قلیل وقت میں متعدد قارئین نے پڑھا ہے۔

 سوز خوانی کے اسی ترویجی سلسلہ میں گذشتہ شب لاہور کے علاقے ماڈل ٹائون میں "مجلس گلدستہ سوز خوانی لاہور" کے زیر اہتمام مجلس سوز خوانی ہوئی، جس میں 10 سے زیادہ سوز خوانان نے شرکت کی۔ فرش عزاء سے ادب، سلیقہ اور تہذیب کے گرتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے چند نوجوانان نے گل دستہ سوز خوانی لاہور کا آغاز محترم سید محمد رضا زیدی صاحب کی سرپرستی میں کیا ہے۔ سید محمد رضا زیدی 44 سال سے لاہور کے مختلف امام بارگاہوں بالخصوص ابیٹ روڈ والے امام بارگاہ میں سوز خوانی کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب یہ سلسلہ نئی نسل میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ مجلس دراصل سوز خوانی کی لاہور میں دوبارہ سے منظم طریقے سے تبلیغ و ترویج کی ایک کوشش تھی۔ حاضرین و سامعین کی بروقت کثیر تعداد میں شرکت نے قدیمی مجلس کی روایت کو جاری و ساری رکھنے کا عزم ہے۔

مجلس سوز خوانی میں حدیثِ کساء سید احسن رضا زیدی نے تلاوت کی۔ نقیبِ منبر کے فرائض سید اخلاق علی جعفری نے منفرد انداز میں سرانجام دیئے، جبکہ سوز خوانان میں، سید حسن منہال زیدی، سید محسن عابدی، سید ندیم قاسم رضوی، ساجد بختیاری، پسران فیروز کربلائی، سید حمزہ رضا زیدی، سید شکیل حیدر زیدی، پسران سید کوثر زیدی، سید اظہر زیدی برادران سید محمد رضا زیدی اور سید غضنفر عباس جعفری نے "فن کا مظاہرہ" کیا۔ سوز خواں سید محسن عابدی کہتے ہیں کہ ہم ایسی مجالس سے خطابت سے قبل سوز، سلام اور مرثیہ خوانی کی قدیمی تہذیب کو نوجوانوں میں اجاگر کرنا چاہتے ہیں اور سوز خوانی کا شوق رکھنے والے نوجوانوں کو بزرگان کی سرپرستی میں تربیت بھی فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

مجلس سوز خوانی کے آخر میں لاہور سے سوز خوانی کی ترجمان آواز سید محمد رضا زیدی نے شرکاء مجلس کو سوز خوانی کی تاریخ اور آداب سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ برصغیر میں سوز خوانی کو مجلس کی اذان و اقامت کا درجہ حاصل ہے۔ بارہویں صدی کے آخر میں برصغیر میں دکن، یوپی کے اضلاع میں سوز خوانی کا آغاز ہوا تھا، البتہ سوز خوانی کی موجودہ شکل اڑھائی یا چار سو سال قدیم ہے۔ انہوں نے سوز خوانی کی مجلس کے لئے لوازمات کو اپنانے پر بھی زور دیا، تاکہ یہ قدیمی روایت اپنی درست حالت میں نئی نسل تک منتقل ہوسکے۔ اگر سوز خوانی منظم انداز میں پیش نہیں کی جائے گی تو یہ سوز خوانی تصور نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے سوز خوانوں کو تاکید کی کہ داد حاصل کرنے کے لئے ایسے جملوں کا انتخاب نہ کریں، جو سامعین کے دل پہ گراں گزریں۔ برصغیر میں کربلا والوں کی یاد میں آراستہ کی جانے والی مجالس و محافل میں سوز خوانی کی مجالس کو خصوصی امتیاز حاصل ہے اور سرزمین تہذیبِ عزاء لکھنو کو نظم کی اس صنف سوز خوانی کیلئے بہت ہموار زمین ملی، ہم جب بھی سوز خوانی کی جدید اور رائج شکل کا ذکر کرتے ہیں، گویا لکھنوی طرزِ معاشرت کے ایک باب کا ذکر کرتے ہیں۔ لاہور میں مجلسِ سوز خوانی لکھنوی مجالس کی یاد آوری ہے، شہداء کی قربانیوں اور بزرگوں کی قربانیوں سے اب اس میں نئی نسل کی کاوشیں بھی شامل ہوں گی۔
خبر کا کوڈ : 893455
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Hassan rata subhani
Pakistan
Ya eke acha ekdam ha jo guldasta soz khani Ka ahtama kiya gaya ha jis min Lahore k kadimi marsiya khano nei sharkit ki or apne fan ka
muzahera kiya is sy ane wali nasal ko himat or honsala afzai milly gai is tara ki majlisy aza ka inakad hona chaiya taky ane wali nasal mai ya chaz muntakel ki ja sakay
ہماری پیشکش