0
Saturday 10 Mar 2012 21:21

طمانچے پر طمانچہ

طمانچے پر طمانچہ
تحریر: محمد علی نقوی
  
انتیس فروری کو رہبر انقلاب اسلامی نے بارہ اسفند مطابق دو مارچ کو منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا تھا پروردگار کے لطف وکرم سے ایرانی عوام دو مارچ جمعے کو ہونے والے انتخابات میں استکبار کے چہرے پر گیارہ فروری (جشن انقلاب) کے دن پڑنے والے طمانچے سے بھی زیادہ زوردار طمانچہ رسید کریں گے اور اپنے محکم عزم و ارادے کا دشمن کے سامنے بھرپور مظاہرہ کریں گے، تاکہ استکباری محاذ کو معلوم ہو جائے کہ وہ اس قوم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
 
ان انتخابات سے پہلے امریکہ اور اس کے حواری ذرائع ابلاغ دعوے پر دعوا کر رہے تھے کہ ایران کے پارلیمانی انتخابات میں لوگوں کی شرکت زیادہ سے زیادہ 27 فیصد رہے گی اور برطانیہ کے سرکاری ٹی وی چینل بی بی سی کا تو یہ دعوی تھا کہ ایرانی عوام کی واضح اکثریت گھروں میں بیٹھی رہے گی، لیکن دو مارچ کو منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ایرانی عوام نے بھرپور شرکت کر کے ایک بار پھر دشمنوں کو مایوس کر دیا۔

 اسی لئے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰي سید علی خامنہ ای نے مجلس خبرگان کے سربراہ اور اراکین سے حالیہ خطاب میں ہوشیاری، دانشمندی اور بصیرت پر مبنی بروقت سامنے آنے والے عوام کے اس عظیم کارنامے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ آپ نے دو مارچ کو ہونے والے نویں پارلیمانی انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت کے اثرات اور پیغاموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان انتخابات میں رائے دہندگان کی اکثریت کی شرکت ایک ایسا طمانچہ ہے جس نے اسلامی نظام، اسکے مستقبل اور عوام کے بارے میں باطل خیالات کے شکار افراد اور دشمنوں کوب یدار کر کے ان پر حقیقت آشکار کر دی ہے۔
 
رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ عوام نے نویں پارلیمانی انتخابات کو کامیاب بنانے میں کوئي دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا کہ دو مارچ کے انتخابات میں عوام نے مخالفین کے مقابل اپنے ایمان اور بصیرت سے کام لیا اور بھرپور طرح سے شرکت کر کے انتخابات کو بے رونق بنانے کی دشمنوں کی کئي مہینوں کی سازشوں کو نقش برآب کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ دو ہزار نو میں دسویں صدارتی انتخابات کے بعد پیش آنے والے بلوؤں کے پیش نظر بعض لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ اب ایرانی عوام اسلامی نظام پر اعتماد نہیں کرتے، لیکن دو مارچ کے کامیاب انتخابات اس غلط فکر اور قیاس آرائيوں کا واضح اور فیصلہ کن جواب تھے۔ 

اسلامی جمہوریہ ایران کے حوالے سے یہ ایک ایسی نمایاں اور روشن حقیقت ہے کہ ایران میں پڑنے والا ہر ووٹ سامراجی ذہنیت رکھنے والوں کی آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھتا ہے اور جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا، نویں پارلیمانی انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت حقیقت میں اسلامی نظام کے حق میں ووٹ تھا اور اس سے اسلامی نظام پر عوام کے اعتماد کا پتہ چلتا ہے۔ ان انتخابات میں ملت ایران نے وسیع پیمانے پر شرکت کر کے دشمنوں کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ ان کو یہ بات جان لیني چاہیے کہ وہ ملت ایران کے ارادے کے خلاف کچھ بھی کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ 

حقیقت یہ ہے کہ عوام نے جب بھی انتخابات میں وسیع پیمانے پر شرکت کی، اسی قدر جمہوریت اور اسلامی جمہوری نظام کی ترقی و پیشرفت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں ہر مرتبہ انتخابات کا انعقاد نظام کی مضبوطی کا باعث بنا ہے۔ اس لئے انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت ملت ایران کے خلاف مسلسل پابندیاں لگانے اور دھمکیاں دینے والے اغیار کے لئے واضح پیغام کی حامل ہے۔ انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت دشمنوں کو ان کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے سے روکنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اغیار نے ان انتخابات کے موقع پر بہت زیادہ پروپیگنڈہ کر کے لوگوں کو انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دی تھی۔ 

یہ حربہ انتخابات کے ماحول سے فائدہ اٹھانے کے لۓ بارہا استعمال کیا جا چکا تھا۔ لہذا اس مرتبہ یورپ نے جنگ کے آپشن پر تاکید اور پابندیوں میں شدت کے مسائل اٹھا کر بزعم خویش ملت ایران کو انتخابات کے نتائج کے بارے میں ناامید کرنے کی کوشش کی، لیکن ملت ایران نے دو مارچ کے انتخابات میں بھرپور شرکت کر کے اغیار کے گمان کو غلط ثابت کر دیا اور گزشتہ تینتیس برسوں میں ہونے والے انتخابات کی طرح اس مرتبہ بھی یورپی ذرائع ابلاغ کے تصورات اور کوششوں پر خط بطلان کھینچ دیا۔ غیر جانبدار مبصرین اور تجزیہ نگار ان انتخابات کو ایرانی عوام بمقابلہ امریکہ قرار دار دے رہے تھے، جس میں بلاشبہ جیت ملت ایران اور اسلامی نظام کی ہوئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 144520
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب