0
Saturday 4 Aug 2012 15:32

جنرل کیانی سے ایساف کمانڈر کی ملاقات نتیجہ خیز ثابت ہوگی؟

جنرل کیانی سے ایساف کمانڈر کی ملاقات نتیجہ خیز ثابت ہوگی؟
تحریر: تصور حسین شہزاد

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ پاک امریکا تعلقات باہمی اعتماد اور شفافیت پر مبنی ہونے چاہئیں۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں ایساف کمانڈر جنرل ایلن سے ملاقات کے بعد پاک آرمی سربراہ نے کہا کہ اس ملاقات سے پاک فوج اور نیٹو فورسز کے درمیان اسٹریٹجک اور آپریشنل آگاہی میں مدد ملی ہے۔ ایساف کمانڈر جنرل ایلن نے کہا کہ ہم پائیدار امن اور اسٹریٹجک شراکت داری کے فروغ کی جانب نمایاں پیشرفت کر رہے ہیں، جس سے خطے میں سلامتی اور خوشحالی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ دونوں عسکری رہنماؤں کے خیال میں پاک امریکا تعلقات میں حالیہ پیشرفت خطے کیلئے مفید رہے گی۔ بقول جنرل ایلن خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔

نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد پاک امریکا تعلقات کی تجدید نو کے سلسلے میں ہونے والی عسکری قیادت کی سطح کی ملاقاتیں اپنی نوعیت کے اعتبار سے اہم ہیں، مگر ان ملاقاتوں کے کیا دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں، اس کے بارے میں کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ اب تک کے حالات تو اسی بات کی چغلی کھاتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے نیک نیتی سے کئے گئے ہر قسم کے اقدامات کا جواب امریکا کی طرف سے منفی انداز میں ہی موصول ہوتا رہا ہے۔ امریکا پاکستان پر آئے دن الزامات عائد کرتا ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں سے درانداز افغانستان میں گھس کر ایساف/ نیٹو فورسز پر حملے کرتے ہیں، جس میں حقانی نیٹ ورک کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جاتا ہے، پاکستان نیٹو اور افغانستان کے ان الزامات کی بارہا تردید کرچکا ہے، مگر اس کی پروا نہیں کی جاتی، اس کے ساتھ ساتھ افغان صوبہ کنٹر سے پاکستانی علاقوں میں مداخلت کے لئے کھودی گئی سرنگوں کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کئے جانے کے باوجود افغانستان اور نیٹو اتحادی افواج کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

افغانستان سے شدت پسندوں کے مسلح گروہ پاکستانی حدود میں داخل ہو کر پاک فوج کی چھاؤنیوں پر نہ صرف حملہ آور ہوتے ہیں بلکہ یہ جنگجو عناصر دیر، سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے علاقوں میں گھس کر پاکستانی سکیورٹی فورسز کے لوگوں کو اغواء کرکے ان کے ساتھ جو بہیمانہ سلوک کرتے ہیں، اس پر پاکستان کے احتجاج کو بھی پرکاہ اہمیت نہیں دی جاتی اور امریکی سینٹ میں اس کی بازگشت سنائی دیتی ہے تو اکثر امریکی کانگرس مین اس پر بھی الٹا پاکستان کو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ یہ حادثات آن دی ریکارڈ ہیں کہ افغان شدت پسندوں کے مسلح جتھے پاکستان کی سرحدی چوکیوں اور آبادیوں میں دندناتے  ہوئے داخل ہو کر انسانیت سوز مظالم ڈھا کر واپس افغانستان میں جا کر چھپ جاتے ہیں اور ان کی پناہ گاہوں کا افغانستان حکومت کو نہ صرف پتہ ہے بلکہ وہ دامے، درمے، سخنے ان کی کھلم کھلا مدد بھی کرتی ہے۔

گزشتہ ایک برس کے دوران افغان دراندازوں کی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے پاکستانی سول و سکیورٹی کے افراد کی تعداد سینکڑوں میں ہے، مگر نیٹو اور ایساف فورسز پاکستان کی جانب سے بارہا توجہ دلائے جانے کے باوجود اس بارے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اتحادی افواج کے کمانڈرز کی جانب سے اختیار کیا جانے والا سرد مہری کا رویہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امریکا، نیٹو اور ایساف فورسز کو پاکستان کے جانی و مالی نقصان پر نہ کبھی کوئی دکھ ہوا نہ انہیں اس سے کچھ غرض ہے کہ پاکستان اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے اس سلوک پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ البتہ ان کی طرف سے آئے دن پاکستان سے تواتر کے ساتھ یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے اندر اپنے ہی لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرکے امریکا کے مبینہ مخالفین کے خاتمے کے لئے اقدام کرے اور خود افغانستان جو آئے دن اپنے مغربی استعماری آقاؤں کے بل بوتے پر شراب کے ڈرم میں گرے چوہے کی طرح نکل کر پاکستان کے خلاف بڑھکیں لگاتا رہتا ہے۔ خود اپنی سرحدوں کے قریب دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہیں ختم کرنے کے لئے تیار نہیں۔

افغانستان، نیٹو اور ایساف فورسز کا یہ طرز عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا، ایساف اور نیٹو فورسز کو دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار کی اہمیت کا چنداں اندازہ نہیں اور وہ اعلٰی سطحی ملاقاتوں کے موقع پر پاکستان کے کردار کی جو تعریف کرتے ہیں وہ محض رسمی کاررورائی ہے، جو سفارتی آداب کے تحت بیانات جاری کرنے کی حد تک ہی ہے، اس کا ان کے قلب و جگر سے کوئی تعلق نہیں۔ دریں حالات آرمی چیف کا یہ کہنا کہ پاکستان امریکا تعلقات شفاف اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر استوار ہونا چاہئیں گو کہ اپنی جگہ نیک نیتی پر مبنی ایک خواہش کا اظہار ہے، مگر ایساف کمانڈر اور امریکا کیا خود بھی اسی طرزعمل کا مظاہرہ کرنے کے حقیقی خواہش مند ہیں، اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں امریکا کا روز اول سے اتحادی ہے، مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان اربوں ڈالر کا نقصان اور ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان برداشت کرنے کے باوجود ابھی تک امریکا کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ بعض اوقات امریکا کی پاکستان پر بداعتمادی کا حد سے گزر جانا اس شبے کو تقویت دیتا ہے کہ افغانستان کی جنگ کی آڑ میں پاکستان کے ساتھ روا رکھا جانے والا امریکی رویہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ امریکا پاکستان کے ایٹمی اثاثے ہتھیانے کے چکر میں ہے اور ایسا کھیل رچانے کی کوششوں میں مصروف ہے جس سے وہ پاکستان کی سکیورٹی کو مشکوک بنا کر اقوام متحدہ سے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے قرارداد پاس کروا کے پاکستان کو جوہری توانائی سے محروم کر دے۔

امریکا کی یہ نیت پاکستان کے لئے باعث تشویش ہے، امریکا نے نیٹو سپلائی کی بحالی کے لئے پاکستان سے من پسند رعایتیں حاصل کرنے کے باوجود ابھی تک پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ڈرونز حملے بند نہیں کئے، اس کا مسلسل اصرار ہے کہ پاکستان اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہوں کے خلاف جنگ کو تیز تر کرے اور وہ خود بھی ان علاقوں میں ڈرونز حملوں کی رفتار میں کمی نہیں لا رہا، اس تناظر میں ایساف کمانڈر سے ملاقات میں جنرل کیانی کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کہ پاک امریکا تعلقات باہمی اعتماد اور شفافیت پر مبنی ہونے چاہئیں، ایک خوش کن خواب کے سوا کچھ بھی نہیں کیونکہ امریکا اپنی تمام تر توانائیاں پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لئے استعمال کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہا۔

بے شک پاک امریکا نیٹو سپلائی کے حوالے سے تین سال کے لئے باہمی سمجھوتے پر رضامند ہو کر ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدے زبانی ہوں یا تحریری، وہ ان کی چنداں پروا نہیں کرتا اور جہاں کہیں اسے اپنے مفادات کے لئے ان معاہدوں کی خلاف ورزی میں سہولت محسوس ہوتی ہے وہ سپرپاور ہونے کے زعم میں معاہدوں کی دھجیاں اڑانے میں پل بھر کی دیر نہیں لگاتے، ایسے خودغرض اور حرص و ہوس کے مارے بے اصول ملک کے ساتھ دوستی کے دعوے غلط فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اگر امریکا پاکستان کی قربانیوں کا دل سے معترف ہے تو پھر اسے پاکستان کی خدمات کے اعتراف میں پاکستان کی اس درخواست کو فوری شرف قبولیت بخشنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں فوری طور پر ڈرونز حملے بند کر دے، اگر امریکا پاکستان کی اس خواہش کی تکمیل نہیں کرتا تو جان لینا چاہیے کہ امریکا کے دل میں کھوٹ ہے اور ایسے ملک کے ساتھ باہمی اعتماد اور شفافیت پر مبنی تعلقات کی امید عبث ہے۔
خبر کا کوڈ : 184806
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب