0
Thursday 20 Jun 2013 22:36

امریکہ طالبان مذاکرات، پاکستان کو کیا ملے گا؟

امریکہ طالبان مذاکرات، پاکستان کو کیا ملے گا؟
تحریر: تصور حسین شہزاد

جس طرح ہمیشہ دریا ایک کنارے نہیں بہتے، جس طرح سیاست میں کوئی بھی بات حرف آخر نہیں ہوتی اور جس طرح موسم سدا ایک سا نہیں رہتا اسی طرح خود کو فرعون وقت سمجھنے والے امریکا کو بھی آخرکار احساس ہو گیا کہ قوموں کے درمیان معاملات میدان جنگ میں نہیں مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوا کرتے ہیں۔  12 برس بعد اس نے طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے طالبان کے دفتر کے قیام کو مفاہمت کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی اس راستے میں بہت سی رکاوٹیں عبور کرنا ہیں تاہم امریکی صدر نے افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات امن مشن وفد روانہ کئے جانے کے اقدام کی تعریف کی۔ امریکی وزیر خارجہ نے بھی اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہونے جا رہا ہے ہمیں اس پر دلی خوشی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے بھی اس اقدام کو درست فیصلہ قرار دیا ہے۔ افغانستان میں اعلٰی امریکی فوجی کمانڈر جنرل جوزف ڈنفورڈ نے بھی کہا ہے کہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ سیاسی سمجھوتے کے سوا کوئی اور نہیں۔ ادھر قطر کی وزارت داخلہ کے ترجمان علی بن فہد الہجیری نے بتایا ہے کہ امیر قطر نے دوحہ میں طالبان کے دفتر کے قیام کی اجازت دے دی ہے کیونکہ ان کے نزدیک بھی افغان مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں۔ طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے کہا ہے کہ ’’اسلامی جمہوریہ افغانستان‘‘ افغانستان کو غیرملکی تسلط سے نکالنے کے لئے ہر ممکن قانونی راستہ اپنائے گی۔ تاہم ’’آزاد اسلامی جمہوریہ افغانستان‘‘ کا قیام یقینی بننے تک جہاد جاری رہے گا۔ ہماری ریاست کبھی کسی کو کسی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

2014ء میں افغانستان سے امریکی و نیٹو افواج کے انخلاء کو آسان بنانے کیلئے امریکا نے اب براہ راست طالبان سے مذاکرات میں ہی عافیت جانی ہے۔ ان مذاکرات کے لئے بات چیت کی داغ بیل گذشتہ سال قطر میں ڈالی گئی جس میں ابتدائی طور پر طالبان نے امریکا سے مذاکرات پر آمادگی کیلئے تین شرائط رکھی تھیں، (1) گوانتا نا موبے میں قید 5 اہم طالبان کمانڈروں کی رہائی۔ (2) امریکا میں بنائی گئی بلیک لسٹ کا خاتمہ۔ (3) قطر میں قائم طالبان کے دفتر کو باضابطہ طور پر طالبان کا نمائندہ دفتر تسلیم کیا جائے۔ امریکا نے ان تینوں مطالبات پر غور کرنے کا وعدہ کیا مگر اس کی طرف سے کوئی واضح پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ مزید برآں طالبان بھی امریکی حکام سے یہ وعدہ نہ کر پائے کہ وہ افغانستان کی کرزئی حکومت کو باقاعدہ ایک فریق کے طور پر تسلیم کر کے اس سے مذاکرات کرنے کو تیار ہوں گے۔

فریقین کے درمیان باہمی عدم اعتماد کی فضا پیدا ہونے پر یہ بات چیت تعطل کا شکار ہوئی لیکن پھر بھی کچھ اعتدال پسند طالبان لیڈروں نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈی نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان کے نمائندے گذشتہ کئی مہینوں سے امریکیوں کے ساتھ خفیہ بات چیت میں مصروف تھے اور قطر میں طالبان دفتر کا قیام اور اسے باضابطہ طور پر نمائندہ دفتر تسلیم کیا جانا انہی خفیہ مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ افغانستان کے مسئلے کے حل کی سنجیدہ کوششوں میں ہونیوالی یہ سب سے اہم اور بڑی پیشرفت ہے۔ پوری دنیا میں جس کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے قطر میں طالبان کے نمائندہ دفتر کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے افغان امن کے قیام کی کوششوں میں ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے افغان مسئلے کو حل کرنے کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتا آیا ہے۔ خطے میں قیام امن کی دیرینہ خواہش کے بر آنے کی امید پاکستان کیلئے خوش کن نوید ہے جس کیلئے وہ اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ دفتر خارجہ کے اس خیرمقدمی بیان کی اہمیت اور افغان امن کے قیام کیلئے اس کی کوششوں کو امریکا کس نظر سے دیکھتا ہے اس کے لئے ہمیں کسی غلط فہمی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان پر دہشت گردی کی جنگ مسلط کرنے والے امریکا نے 2001ء میں اپنے مقصد کیلئے جنرل مشرف کو ڈرا دھمکا کر جس طرح ہم سے اسٹریٹجک سپورٹ حاصل کر کے ہمیں اس جنگ کی آگ میں جھونکا۔ ہمیں ہراول ریاست کے زعم میں مبتلا کر کے افغانستان تک رسائی کیلئے ہمارے انفراسٹرکچر کو تباہ و برباد کر دیا، ہماری معیشت کا بیڑہ غرق کروایا، ہماری اقتصادی حالت کا ستیاناس کروایا، ہمارے ملک میں بدامنی، نفاق اور شورش کے بیج بو کر پچاس ہزار سے زیادہ انسانی جانوں کو موت کی وادی میں اتارا، ہمارے ریاستی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا مگر آج وہ اپنی روایت کے مطابق پاکستان کو ان امن مذاکرات میں برابر کا شریک کرنے کی بجائے اس کی نظر التفات بھارت پر جا ٹھہری ہے جس نے ان گذشتہ بارہ برسوں میں ایک دھیلے کی اعانت امریکا کو فراہم نہیں کی۔

ہندو بنیا ایک دمڑی لگائے بغیر امریکا کا شریک کار بن کر سارے ثمرات سمیٹنے کو تیار ہے۔ جب پاکستان ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی سراپا تصویر بنا ’’حیراں ہوں روؤں دل کو کہ پیٹوں جگر کو میں‘‘ آلاپ رہا ہے۔ دریں حالات پاکستان کیلئے سوچنے کا مقام ہے کہ ہم نے 2001ء سے لے کر اب تک امریکا کا افغان جنگ میں ساتھ دے کر سوائے ذلت و تباہی کے کیا حاصل کیا۔ آج پاکستان معاشی تباہی کے گڑھے میں گرا اپنی بدترین حالت پر گریہ کناں دوسروں کی طرف رحم طلبی کی نظروں سے دیکھ رہا ہے، ہمارے ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔ انہیں تباہ کرنے والے ہماری اعلٰی بیورو کریسی میں موجود وہ امریکی گماشتے ہیں جو ہمیں آج بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے دریوزہ گر بنانے پر تلے ہیں۔ دریں حالات ہماری نئی جمہوری حکومت کو اب طے کرنا ہے کہ خطے میں تغیر پذیر حالات میں امریکا کے سابقہ رویے کا دوسرا دور نہیں چلنے والا جو اس نے روس کے ساتھ افغان جہاد میں پاکستان سے کام لینے کے بعد اختیار کیا تھا۔

ہم پھر امریکی طوطا چشمی کا شکار ہونے جا رہے ہیں۔ امریکا نے اپنا مطلب نکل جانے کے بعد پاکستان کو افغان امن مشن سے مکھن میں سے بال کی طرح نکال پھینکا ہے اس کے برعکس وہ بھارت کو خطے میں تھانیداری کا کردار سونپنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ ہمارے پالیسی سازوں کو سوچنا چاہیئے کہ ان کے امریکا کے ساتھ فدویانہ رویے کا پاکستان کو کیا فائدہ ہوا۔ آج ہم ان گذشتہ بارہ برسوں کا گوشوارہ تیار کرنے بیٹھیں تو امریکی دوستی میں سوائے خسارے کے ہماری بیلنس شیٹ میں کچھ نہیں اب بھی اگر ہم ہوش کے ناخن نہیں لیتے اور امریکا پر یقین کر کے اپنی ساری پالیسیوں کا محور اسی کی زلف گرہ گیر کو سمجھتے ہیں تو اس سے بڑی نادانی کوئی نہیں، ہماری وزارت خارجہ کے کار پردازان اور خود وزیراعظم نواز شریف کو اس تناظر میں بہت کچھ سوچنا پڑے گا۔
خبر کا کوڈ : 275334
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب