0
Tuesday 19 Aug 2014 00:26

صیہونی اسرائیلی ریاست خوفزدہ

صیہونی اسرائیلی ریاست خوفزدہ
تحریر: صابر کربلائی

غزہ پر تیس روز تک جاری رہنے والی غاصب اسرائیلی ریاست کی جارحیت بالآخر ایک جنگ بندی کے عارضی معاہدے پر اختتام پذیر ہو گئی، جنگ بندی کا اعلان اگر چہ72گھنٹوں کی لئے کیا گیا تھا لیکن صیہونی اسرائیلی افواج کی حرکات کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ جیسے صیہونی فوجی شاید اس اعلان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کب یہ اعلان ہو اور کب وہ اپنا بوریا بستر سمیٹ کر واپسی کا راستہ اختیار کریں۔ دوسری جانب دنیا کی مظلوم ترین قوم فلسطینی قوم تھی کہ جس نے نہ صرف حالت جنگ میں بلکہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی صیہونی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تدفین کا عمل جاری رکھا، اور مسمار کی جانے والی عمارتوں اور فلسطینیوں کے گھروں کا ملبہ ہٹانے میں مصروف عمل رہے، یہ غزہ کے مظلوم فلسطینی ہیں کہ جنہیں واضح طور پر دیکھا گیا کہ اپنے مسمار شدہ گھروں کے ملبے کے ڈھیر پر بیٹھے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف عمل تھے، اور اپنے روز مرہ کے کاموں کو اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے میں مصروف عمل تھے۔

اب بات کرتے ہیں غاصب اسرائیل کی کہ جس نے پہلے روز سے ہی رٹ لگا رکھی تھی کہ غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا جائے گا اور اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے ٹھکانوں کی تباہی اور حماس سمیت جہاد اسلامی اور دیگر مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کئے جانے تک غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور آپریشن جاری رہے گا، یہ صیہونی غاصب ریاست اسرائیل کا سفاک وزیراعظم نیتن یاہو تھا کہ جس نے غزہ پر یک طرفہ جنگ مسلط کرنے کے بعد متعدد مرتبہ اس جنگ میں شدت اور اضافے کا عندیہ دیا، غزہ پر زمین، فضاء اور سمندر سے حملے کئے گئے، ہزاروں گھروں کو مسمار کر دیا، اسکولوں، مساجد، سڑکوں، دکانوں، کھیل کے میدانوں ،کھیتوں کھلیانوں کو اور اس سے بھی بڑھ کر 1900معصوم اور بےگناہ نہتے فلسطینیوں کو موت کی نیند سلا دیا، دس ہزار لوگ زخمی ہوئے، دو لاکھ سے زائد بےگھر ہوئے لیکن ان باہمت اور بہادر فلسطینیوں نے غاصب اسرائیل کے سامنے سر جھکانا قبول نہ کیا۔

غزہ پر جاری صیہونی اسرائیلی جارحیت کے جواب میں اسلامی مزاحمت کے فرزندوں نے اسرائیلی افواج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افسوس کہ دنیا میں چلنے والے ذرائع ابلاغ کے ذرائع جو امریکی اور اسرائیلی ایماء پر حماس اور جہاد اسلامی کے خلاف منفی خبریں نشر کرتے رہے لیکن حماس کی وہ کامیابی نہ دکھا سکے کہ جس میں اسلامی مزاحمت کے فرزندوں نے غاصب اسرائیلی افواج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اور مزاحمت کاروں کے مطابق 150سے زائد صیہونی فوجیوں کو واصل جہنم کر دیا، تاہم شروع میں اسرائیلی انتظامیہ نے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کیا لیکن بعد میں مجبوراً  65 فوجیوں کے قتل ہونے کی تصدیق کر دی گئی، جبکہ اسلامی مزاحمت کے فرزندوں نے ایک کامیاب آپریشن میں ایک صیہونی اسرائیلی فوجی کو بھی گرفتار کر لیا جو غاصب اسرائیل کے لئے ایک اور شکست ثابت ہوا۔

تجزیہ نگاروں اور مایہ ناز سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ اگر غاصب اسرائیل اب بھی جنگ بندی نہ کرتا اور اپنی فوج کو غزہ سے باہر نہ نکالتا تو یقیناً صیہونی فوج کو بڑا جانی نقصان ہونے کا اندیشہ تھا کیونکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں میں بھی تیزی آ رہی تھی اور اب وہ غاصب اسرائیل کے ہر حملے کا منہ توڑ جواب دے رہے تھے، تاہم فلسطینی مزاحمت کاروں کے مطابق ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 150بتائی گئی ہے یہ مزید بڑھنے کا امکان موجود تھا تاہم دنیا میں موجود عالمی طاقتیں جو تین ہفتوں تک غزہ پر ہونے والی اسرائیلی بربریت پر خاموش تماشائی بنی رہیں بالآخر زبان کے تالے توڑنے پرے اور انہیں غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت اس لئے نظر آنے لگی کیونکہ اب اسرائیل کو بڑے پیمانے پر اپنے فوجیوں کی جانی نقصان ہونا شروع ہو چکا تھا اور اسی جانی نقصان سے بچنے کے لئے اسرائیل حکومت یہ چاہتی تھی کہ کسی طرح اپنے فوجیوں کو با حفاظت غزہ سے نکال لے کیونکہ اسرائیلی حکومت کو اس بات کا واضح طور پر اندزاہ ہو چکا تھا کہ 30روز سے جاری اس یکطرفہ جنگ میں اب تک فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل کو سخت سے سخت وقت میں ڈالا ہے تاہم اسرائیل یہ چاہتا تھا کہ فی الفور غزہ سے اپنے فوجیوں کو نکال لے۔

ماہرین سیاسیات اور تجزیہ نگاروں کی رائے کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم گذشتہ دنوں انتہائی جارح انداز میں غزہ پر مسلسل جنگ جاری رکھنے اور جنگ کو بڑھانے کے اعلانات کرتے رہے تاہم اچانک انہیں ایسی کیا ضرورت پیش آن پڑی کہ انہوں نے امریکی صدر اوبامہ کو یقین دہانی کروائی کہ اسرائیل غیر مشروط جنگ بندی پر تیار ہے، یقیناً یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت کے مقابلے میں فلسطینی مزاحمت کاروں کی کاروائیوں نے صیہونی جارح ریاست کو شدید نقصان پہنچایا ہے ورنہ دوسری کوئی صورت ہی نہیں ہے کہ اسرائیل جنگ بندی اور غیر مشروط جنگ بندی کا اعلان کرتا۔ دوسری جانب یورپین ذرائع نے اسرائیل سے آنے والی بعض اطلاعات کی بنیاد پر کہا ہے کہ اسرائیل کی قیادت کو فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیلی فوج اور فوجیوں کے خاندانوں پر کئے جانے والے حملوں کی وجہ سے فلسطینی مزاحمت کاروں کو حاصل اسٹریٹیجک کامیابی کے مقابل غزہ پر جارحیت جاری رکھنا اور اسے چھپانے کی مسلسل کوشش کرنا اب ممکن نہیں رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض مغربی طاقتوں نے اسرائیل کو بچانے اور اس کے تمام جنگی اخراجات ادا کرنے سمیت ذرائع ابلاغ میں اس کے حق میں آواز اٹھانے اور مجوزہ مقاصد کے حصول کے لئے اسرائیل کی بھرپور مدد کرنے کے وعدے کئے تھے، اب وہ فلسطینی مزاحمت کاروں کو حاصل ہونے والی فتح و کامیابی کو چھیننے اور اسرائیلی جارحیت اور جنگی جرائم پر مسلسل پردہ پوشی کرتے رہیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے آنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج خوفزدہ ہے کہ کہیں دوبارہ غزہ میں داخل ہونے کی غلطی نہ کریں اور اگر ایسا کیا تو اسرائیلی فوج غزہ میں اپنے داخلے کو دلد ل میں پھنسنے سے تشبیہ دے رہی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل پر خوف اور لرزہ طاری ہے اور بری طرح خوفزدہ ہیں۔
خبر کا کوڈ : 404614
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب