0
Wednesday 13 Jul 2011 10:49

حریری قتل کیس،عالمی عدالت انصاف کی بے انصافی

حریری قتل کیس،عالمی عدالت انصاف کی بے انصافی
تحریر:ثاقب اکبر
جمعرات 7 جولائی کو لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل کیس کی تفتیش کے حوالے سے قائم عالمی عدالت انصاف کے خصوصی ٹریبونل نے حزب اللہ کے چار ارکان پر الزام عائد کرتے ہوئے اُن کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یاد رہے کہ 2005ء میں رفیق الحریری کو دیگر بائیس افراد کے ہمراہ مبینہ طور پر بیروت میں ایک کار بم دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔
خصوصی ٹریبونل کے اس فیصلے پر بیروت میں ملے جلے ردّعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ سابق وزیراعظم کے بیٹے سعد الحریری نے وارنٹ جاری کیے جانے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور اسے ایک تاریخی واقعہ قرار دیا ہے۔ اُن کے سیاسی اتحاد نے بھی فیصلے پر اظہار مسرت کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس اتحاد کو 14مارچ کا اتحاد کہا جاتا ہے, جو لبنان پارلیمنٹ میں اپوزیشن میں ہے۔ لبنان کے موجودہ وزیراعظم نجیب میقاتی نے کہا ہے کہ یہ بات ذہن میں رکھی جائے کہ ٹریبونل نے صرف الزام عائد کیے ہیں فیصلہ نہیں سنایا۔ یاد رہے کہ نجیب میقاتی کی حکومت حزب اللہ کی حمایت کے سہارے قائم ہے، جس کے دو وزیر اُن کی کابینہ میں شامل ہیں۔
 لبنان کی طاقتور سیاسی و عسکری تنظیم حزب اللہ جس نے اسرائیل کو تاریخی شکست سے دوچار کیا تھا، نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کے جنرل سیکرٹری سید حسن نصراللہ نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں رفیق حریری کے قتل میں حزب اللہ کی شمولیت کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ جو بھی حزب اللہ کے کسی رکن کو گرفتار کرنے کی کوشش کرے گا، اس کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کوئی ایسی طاقت نہیں جو ہمارے قابل احترام بھائیوں کو گرفتار کر سکے۔ انھوں نے کہا کہ وہ چار افراد جن کے خلاف وارنٹ جاری کیے گئے ہیں، ہمارے معزز بھائی ہیں اور وہ لبنان پر اسرائیلی قبضے کی مزاحمت کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے مخالفین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ انھیں ڈھونڈ سکتے ہیں اور نہ گرفتار کر سکتے ہیں، اگلے تین سو سال میں بھی نہیں۔
جہاں تک رفیق الحریری کے قتل کیس کا معاملہ ہے، 2005ء میں جب یہ رونما ہوا اُسی وقت سے یہ امریکہ، اسرائیل اور اُن کے حواریوں کے لیے بہت اہم بنا ہوا ہے اور انھوں نے اس کے نام پر خطے میں بڑے بڑے عسکری اور سیاسی فیصلے کیے ہیں۔ قتل کے فوری بعد اس کا ملبہ شام پر ڈالا گیا۔ پورا مغرب چیخ اٹھا کر شام نے انھیں قتل کروایا ہے کیونکہ شام کے حریری مرحوم سے اچھے تعلقات نہ تھے۔ سلامتی کونسل کے ذریعے شام کے خلاف کارروائیوں کی دھمکیاں شروع ہوگئیں۔ شامی قیادت نے بہت کہا کہ اُس کا اس سے کوئی تعلق نہیں، لیکن مغربی و صہیونی ذرائع ابلاغ طرح طرح کی کہانیاں نشر کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ انھوں نے کئی ایک شامی اور لبنانی گواہ بھی پیش کر دیے، جنھوں نے مبینہ طور پر اس قتل میں شام کے ملوث ہونے کا اقرار کر لیا۔ لبنان میں ایسی فضا پیدا کر دی گئی جس کے نتیجے میں شامی فوج کو لبنان سے نکلنا پڑا۔ 
یاد رہے کہ بیروت میں اسرائیلی فوج کے داخلے کے بعد لبنانی حکومت کی درخواست پر شامی فوج اس کے دفاع کے لیے لبنان میں داخل ہوئی تھی۔ شامی فوج کی لبنان میں موجودگی اسرائیل کے لیے ایک تھریٹ کی حیثیت رکھتی تھی۔ علاوہ ازیں اسرائیل اور امریکہ اُسے حزب اللہ کا مددگار اور اس کی تقویت کا باعث سمجھتا تھا۔ اسی کی وجہ سے اسرائیل حزب اللہ کے خلاف کھل کر فوجی کارروائی نہیں کر پاتا تھا۔ ان حالات میں بالآخر شامی فوج کو لبنان سے نکلنا پڑا۔ جبکہ بعدازاں یہ ثابت ہو گیا کہ یہ سب ایک سازش کا حصہ تھا۔ اس کا اعتراف خود سعد الحریری نے کر لیا۔ سعد الحریری جو کچھ عرصہ لبنان کے وزیراعظم رہے، نے اس حیثیت سے شام کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انھوں نے شامی صدر بشار الاسد سے معافی بھی مانگی اور واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا کہ شام کو غلط طور پر سیاسی مقاصد کے تحت اس قتل میں ملوث کیا گیا تھا۔ نام نہاد گواہ بھی بالآخر پھر گئے اور انھوں نے اعتراف کر لیے کہ انھوں نے شام پر غلط الزامات لگائے تھے۔
 البتہ ایسے میں اسرائیل نے سمجھا کہ شامی فوج کے لبنان سے نکل جانے کے بعد وہ آسانی سے حزب اللہ کی طاقت کو ختم کر سکتا ہے۔ اسی زعم میں 2006ء میں اُس نے لبنان پر وحشیانہ حملہ کر دیا۔ اُس نے لبنان میں بے پناہ تباہی پھیلائی۔ اس موقع پر اسے امریکہ کی کھلے بندوں حمایت حاصل تھی، لیکن 33روزہ جنگ میں آخر کار اسرائیل نامراد اور ناکام ہوا۔ حزب اللہ اس جنگ میں ایک کامیاب اور سرخرو حریت پسند گروہ کی حیثیت سے ابھری۔ اسرائیل کی سیاسی اور فوجی قیادت نے اسرائیلی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی شکست کا اعتراف کیا۔
رفیق الحریری کے قتل کیس کا رُخ اس کے بعد حزب اللہ کی طرف موڑ دیا گیا۔ اس کیس کی تفتیش کے نام پر ایک خصوصی ٹریبونل قائم کر دیا گیا۔ حزب اللہ کی قیادت نے ہی نہیں، لبنان کے دیگر کئی ایک گروہوں نے اس ٹریبونل کے قیام کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ہونے والے ایسے واقعات کا کیس متعلقہ ملکوں کی عدالتوں میں چلتا ہے، لہٰذا اس قتل کی تحقیقات بھی لبنانی عدالت کو کرنا چاہیے، لیکن امریکہ نے اقوام متحدہ کو استعمال کر کے اور سعد الحریری کو شریک کر کے زبردستی ایک ٹریبونل لبنان پر مسلط کر دیا۔
ہمارے قارئین جانتے ہیں کہ بھارت میں سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کا مقدمہ بھارتی عدالتوں میں چلا، اُن کے بیٹے راجیو گاندھی کا قتل کیس بھی بھارتی عدالتوں میں چلا، پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ پاکستانی عدالتوں میں چلا اور اُس پر نظر ثانی کی درخواست بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے۔ سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے کیس کا مطالعہ کرنے کے لیے اگرچہ اقوام متحدہ سے بھی استفادہ کیا گیا، لیکن کیس پاکستان کی عدالت ہی میں ابھی تک زیر سماعت ہے۔ اس پس منظر میں دنیا بھر کے غیر جانبدار مبصرین حیران تھے کہ امریکہ کو کیا دلچسپی ہے کہ رفیق الحریری کے قتل کیس کی سماعت اقوام متحدہ کے زیر اہتمام خصوصی ٹریبونل کرے۔
ویسے تو علاقے کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کے لیے اس کے محرکات بالکل واضح ہیں، لیکن حزب اللہ کی قیادت نے رفیق الحریری کے افسوسناک قتل میں اسرائیلی مداخلت کے جو ثبوت فراہم کیے ہیں اُس نے تمام لوگوں کے لیے حقائق بے نقاب کر دیئے ہیں۔ انھوں نے ثابت کر دیا کہ رفیق الحریری کے قتل میں اسرائیل ملوث ہے اور اس نے امریکی ایما پر ایک بہت بڑے منصوبے کے تحت انھیں ٹھکانے لگایا ہے۔
حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری سید حسن نصر اللہ اور کئی ایک دیگر لبنانی راہنماﺅں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ حزب اللہ کے پیش کیے گئے شواہد کا خصوصی ٹریبونل نے کیوں مطالعہ نہیں کیا اور اُن کی بنیاد پر کیوں تحقیقات کا دائرہ اسرائیل تک نہیں بڑھایا۔ فرانس کی ایک صحافی نے بھی اپنی رپورٹ میں بیان کیا ہے کہ رفیق الحریری کو ایک اسرائیلی ڈرون کے میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ڈرون طیارہ بغیر پائلٹ کے تھا اور داغا جانے والا میزائل جرمنی کا ساختہ تھا۔ حزب اللہ نے سوال اٹھایا کہ اسرائیل نے رفیق الحریری کے سانحے کی جو فلم تیار کی ہے وہ اُس نے کس طرح سے تیار کی جبکہ وہ اپنے بقول اس قتل میں شریک نہیں تھا۔ حزب اللہ نے ٹریبونل کے سربراہ ڈینیل بلیئر کے ساتھ اسرائیلی وزیر جنگ کی تصاویر بھی جاری کی ہیں جن سے ٹریبونل پر اسرائیلی اثر و رسوخ ظاہر ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں حزب اللہ نے ٹریبونل کو مالی اور مادی وسائل کی فراہمی کی تفصیلات جاری کی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل نے بیشتر وسائل ٹریبونل کو مہیا کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ریکارڈ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خصوصی ٹریبونل کیس سے وابستہ تحقیق کار، ماہرین قانون اور بنیادی مشیروں کا رابطہ سی آئی اے اور اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد سے ہے۔
انہی حقائق کی بنیاد پر لبنان کی مرادہ تحریک کے ترجمان اور ماہر قانون سلیمان فرنجیہ نے ٹریبونل پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹریبونل کو مقدس بنا کر پیش کرنے والے غلطی پر ہیں۔ انھوں نے حزب اللہ کی قیادت کو اس امر پر خراج تحسین پیش کیا ہے کہ اُس نے رفیق حریری کے قتل کے حوالے سے ایسے ناقابل تردید شواہد پیش کیے ہیں، جن سے اس قتل میں اسرائیل کا ملوث ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جارج ہوائی یوتھ آرگنائزیشن کے جنرل سیکرٹری رفیق مدایان نے 14مارچ گروپ پر تنقید کرتے ہوئے اسے عالمی اور غیرملکی طاقتوں کا آلہ کار قرار دیا ہے۔ لبنان کی سیاسی قیادت کی اکثریت کی یہی رائے ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کی رائے میں موجودہ لبنانی حکومت حزب اللہ پر ان چار افراد کی حوالگی کے لیے ہرگز دباﺅ نہیں ڈالے گی، جن کی گرفتاری کے ٹریبونل نے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ یہ قیادت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ یہ سب کچھ حزب اللہ کی اسرائیل کے خلاف قوت مزاحمت ختم کرنے کی عالمی سازشوں کا حصہ ہے۔ مبصرین کو اس امر پر حیرت ہے کہ مغربی آقاﺅں کی خوشنودی کے حصول کے لیے سعد الحریری اپنے والد کے اصل قاتلوں کے منظر عام پر آنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے اور انھوں نے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ حزب اللہ کے فراہم کیے گئے شواہد کو ٹریبونل ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے اور ان کی روشنی میں تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے۔ اقتدار اور دنیا کی ہوس انسان کو گاہے یہاں تک پہنچا دیتی ہے کہ وہ اپنے باپ کے خون کا سودا کرنے کو بھی تیار ہو جاتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 84685
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب