0
Tuesday 31 Jan 2012 01:18

دفاع پاکستان کے نام پر انتہاپسند طبقے کا متحد ہونا تشویشناک بات ہے، علامہ عباس کمیلی

دفاع پاکستان کے نام پر انتہاپسند طبقے کا متحد ہونا تشویشناک بات ہے، علامہ عباس کمیلی

جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ، معروف عالم دین اور سابق سینیٹر علامہ عباس کمیلی کا شمار پاکستان کے نامور علماء کرام میں ہوتا ہے۔ آپ متحدہ قومی موومنٹ کے ٹکٹ سے سینیٹ کے ممبر بنے اور تشیع پاکستان کی آواز کو ایوان بالا میں انتہائی موثر انداز میں بلند کیا۔ شیعہ حج کوٹے کے لئے سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے علامہ  عباس کمیلی کا انٹرویو لیا ہے، جس کا احوال قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔ 


اسلام ٹائمز: آئے روز تشیع کی شہادتیں ہو رہی ہیں، کبھی وکلاء کبھی ڈاکٹرز، کیا شیعہ مذہبی تنظیموں نے کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا ہے تاکہ اس صورتحال کا سدباب کیا جا سکے۔؟
علامہ عباس کمیلی: یہ ایک انتہائی افسوسناک بات ہے کہ گذشتہ 25 برسوں سے تشیع کا قتل عام ہو رہا ہے۔ کبھی ڈاکٹرز، کبھی انجبیئرز، کبھی علماء چن چن کے قتل کئے جا رہے ہیں۔ کبھی معاملات سنبھل جاتے ہیں جب حکومت توجہ دیتی ہے، دہشتگردی روکنا چاہتی ہے اور سخت اقدامات کرتی ہے۔ لیکن جب حکومت کی توجہ ہٹتی ہے تو پھر وہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ حکومت دراصل دوسرے معاملات میں الجھی ہوئی ہے۔ جہاں تک تشیع کی دیگر تنظیموں کا تعلق ہے تو وہ یقیناً مل بیٹھتے ہیں، لیکن ٹارگٹ کلنگ کے معاملے میں کیا کیا جا سکتا ہے ناجانے کونسا قاتل کس گلی سے نکلے گا اور کس کو قتل کر دے اور فرار اختیار کر جائے۔ یہ چوری چھپے آتے ہیں بغیر کسی پیشگی اطلاع آتے ہیں اور لاتعلق افراد کو بھی مار دیتے ہیں، وکیل کسی فرقے کا نہیں ہوتا، وہ شیعوں کا کیس بھی لیتا ہے سنیوں کا بھی، لیکن وکیلوں کا ٹارگٹ کرنا۔ 

اسلام ٹائمز: اتحاد بین المسلمین کی بات تو کی جاتی ہے، لیکن اتحاد بین المومنین کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جاتے، اسکی کیا وجہ ہے۔؟
علامہ عباس کمیلی: اتحاد بین المسلمین کا نعرہ آج تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اتحاد بین المسلمین کا نعرہ تو بلند کیا گیا لیکن عملی اقدامات نہیں کئے گئے۔ لیکن اس اتحاد کے دشمن نفرتیں پیدا کر رہے ہیں اور کھلے عام نفرتیں تقسیم کر رہے ہیں اور وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں، ان کو لگام نہیں دی گئی۔ شیعہ قوم بہت بڑی قوم ہے اور اس میں اتحاد ہے۔ چند لوگوں کا مل بیٹھنا اتحاد یا عدم اتحاد نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ مختلف کلچر ہیں مختلف زبانیں ہیں، مختلف صوبے ہیں، لیکن عزاداری مشترک چیز ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ تشیع کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔

اسلام ٹائمز: آئندہ انتخابات میں شیعہ ووٹ بینک کا موثر استعمال کیسے کیا جا سکتا ہے، بہت بڑا شیعہ ووٹ بینک ہے، لیکن اسکی کوئی شنوائی و پذیرائی نہیں ہے۔؟
علامہ عباس کمیلی: بالکل شیعہ ووٹ بینک بہت بڑا ہے اور اب تک شیعہ کچھ جماعتوں کی طرف مائل ہوئے ہیں۔ لیکن ان حماعتوں نے شیعوں کے لئے خاطر خواہ کچھ نہیں کیا۔ بلکہ ایک سازش معلوم ہوتی ہے کہ ایک دہشتگرد طبقہ لبرل جماعتوں میں سرایت کر گیا ہے۔ ایک باقاعدہ اسٹریٹیجی کے تحت اس دہشتگرد طبقے کو لبرل قوتوں کے ساتھ نتھی کیا جا رہا ہے جو کلنگ میں ملوث رہا ہے۔ یہ بڑی خطرناک علامت ہے، اس معاملے کے پیش نظر شیعوں کو سوچنا ہو گا کہ کس جماعت کی طرف رجوع کریں چونکہ تمام جماعتوں کا یہی حال ہو گیا ہے۔

 کچھ نئی جماعتیں ابھر رہی ہیں، جو شیعوں میں آکر شیعوں والی باتیں کر رہی اور ادھر جا کر ان کی باتیں کر رہی ہیں۔ کوئی ایک صحیح معنوں میں موزوں اور لبرل جماعت نہیں پائی جا رہی، جو فرقہ واریت کے خلاف ہو، بظاہر فرقہ واریت کے خلاف اور بات ہے لیکن صحیح معنوں میں فرقہ واریت کو کچلنا اور بات ہے۔ آج کی نئی ابھرنے والی جماعتوں کی کوشش ہے کہ تمام فرقوں کو خوش رکھا جائے، اس لئے وہ شیعوں میں آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ ہیں، اسی طرح ہر فرقے کا ساتھ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

اسلام ٹائمز: دفاع پاکستان کونسل جو پہلے افغان ڈیفینس کونسل کے نام سے کام کر چکی ہے، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔؟
علامہ عباس کمیلی: کسی کے اکٹھے ہونے پر پابندی تو نہیں لگائی جا سکتی، لیکن کل میں نے ٹیلی ویژن پر جو چہرے دیکھے ہیں تو اس سے مجھے تشویش ہوئی کہ جو لوگ فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں، فساد برپا کرتے ہیں وہ دفاع پاکستان کونسل کے پروگرام میں پیش پیش تھے، ہم نے تو سنا تھا کہ یہ حضرات اسلامی اتحاد کی طرف جانا چاہتے ہیں اور ایک مذہبی محاذ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن یہ جو چہرے نمودار ہوئے ہیں اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ انتہاپسند طبقہ متحد ہو رہا ہے۔ بلکہ یہ بھی سنا ہے کہ وہاں قابل اعتراض نعرے لگائے گئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا دفاع پاکستان کونسل کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل ہے۔؟
علامہ عباس کمیلی: صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے، کچھ ملٹری کے ریٹائرڈ لوگ پیش پیش نظر آ رہے ہیں۔ تعجب نہیں کہ حکومت کے اشارے ہوں لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ کسی ایک فرقے کے خلاف نعرے لگائے جائیں اور فرقہ واریت کو ہوا دی جائے۔

اسلام ٹائمز: ہماری بکھری ہوئی قیادت کے لئے کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
علامہ عباس کمیلی: یہی کہوں گا کہ متحد ہو کر مل بیٹھیں اور متفقہ کوششیں کی جائیں، متفقہ سوچ Develop کی جائے اور اس حوالے سے میں ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہوں، پیچھے ہٹنے کو بھی تیار ہوں اور ساتھ بیٹھنے کو بھی تیار ہوں۔

خبر کا کوڈ : 134198
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب