0
Tuesday 10 Apr 2012 11:18
پاکستان میں افراتفری بین الاقوامی سازش

امریکہ کیلئے ایران کیخلاف نیا محاذ جنگ کھولنا خطرناک اور خوفناک ہو گا، حمید گل

امریکہ کیلئے ایران کیخلاف نیا محاذ جنگ کھولنا خطرناک اور خوفناک ہو گا، حمید گل
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کا نام ملک کے ممتاز محققین اور سیاسی نشیب و فراز پر گہری نظر رکھنے والے بلند پایہ دفاعی و سیاسی تجزیہ نگاروں میں ہوتا ہے، قومی اور بین الاقوامی امور پر اُن کے بے لاگ اور جاندار تبصرے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، جنرل حمید گل اس وقت دفاع پاکستان کونسل کے چیف کوآرڈینیٹر ہیں، اسلام ٹائمز نے ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر اُن سے ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ ادارہ 


اسلام ٹائمز: افغانستان کی حکومت کے ساتھ طالبان کے مذاکرات معطل ہو گئے ہیں، صورتحال کس طرف جا رہی ہے۔؟

ریٹائرڈ جنرل حمید گل: طالبان کو تو  پہچان مل گئی، اس میں فائدہ کس کو ہوا۔؟ جو اب تک دہشتگرد تھے ان کیلئے اب امریکہ مر رہا ہے، (بہت زیادہ کوششیں کر رہا ہے) کہ ان سے بات ہو جائے۔ اب تو ان کا دفتر بھی کھل گیا ہے، طالبان کو شناخت ملنی چاہئے تھی جو انہیں مل گئی ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ طالبان اُن کے مخالف نہیں ہیں۔  اس کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ حریت پسند ہیں اور وہ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ قابض فوجوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اس کا فائدہ کس کو ہوا ہے۔؟ امریکہ افغانستان میں اب زیادہ دیر رک نہیں سکتا۔ چونکہ 70 فیصد امریکن اب کہتے ہیں کہ جتنا جلدی ہو سکے افغانستان سے واپس آیا جائے۔ کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ یہ ایک بے سود جنگ ہے، جس میں نقصان اُن کا ہو رہا ہے۔ اس جنگ کے اوپر 126 ملین ڈالر سالانہ خرچہ آ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی معیشت دگرگوں ہوتی جا رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: امریکہ طالبان مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بھی ہیں، کیا کچھ معاملات طے پاگئے ہیں یا صرف ملاقاتیں ہی ہو رہی ہیں۔؟
ریٹائرڈ جنرل حمید گل: ابھی تک کوئی نئی ڈیویلپمنٹ نہیں ہوئی، کیونکہ طالبان نے مذاکرات میں کہا تھا کہ ہمارے قیدی چھوڑو، چونکہ جو لوگ قید میں ہیں وہ ان کی شوریٰ کے اہم ممبر ہیں۔ جن میں اہم نام ملا برادر بھی ہیں۔ طالبان کہتے ہیں کہ اُن کا فیصلہ تو شوریٰ کرے گی اور جب تک اُن کی شوریٰ مکمل نہیں ہو گی تو فیصلہ کیسے ممکن ہے۔ یہاں پر آ کر مسئلہ پھنس جاتا ہے کیونکہ نہ امریکہ انہیں آزاد کر رہا ہے اور نہ ہی وہ کوئی فیصلہ کر رہے ہیں، طالبان کا موقف ہے کہ جب تک اُن کی شوریٰ پوری نہیں ہوتی وہ کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔
تضاد دیکھیں کہ امریکہ کہتا ہے کہ افغانستان کے اندرونی معاملات کو چھوڑ دیا جائے، اور طالبان حکومت میں شامل ہو جائیں، یعنی طالبان حامد کرزئی کی حکومت میں شمولیت اختیار کریں، تو ایسا ہرگز نہیں ہو گا، کیونکہ حامد کرزئی غدار شخص ہے۔ امریکہ ہی اس کو لے کر آیا تھا اور امریکہ ہی اسے واپس لیکر جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ طالبان کہتے ہیں کہ جو نظام تم دیتے ہو وہ مغرب کا ہے جس میں جمہوری نظام شامل ہے، وہ ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔ اگر قوم نے فیصلہ کرنا ہے تو وہ ہم کر لیں گے۔ اس میں امریکہ کی مداخلت نہیں ہونی چاہئے کہ کونسا قانون اور آئین افغانستان میں رائج ہو۔

اسلام ٹائمز: امریکہ ایران کشیدگی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور گذشتہ دنوں امریکی صدر نے بیان میں کہا کہ اگر سفارتی سطح پر ناکامی ہوتی ہے تو وہ آخری حربہ جنگ کا اختیار کریگا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے کیا اثرات دیکھتے ہیں۔؟
ریٹائرڈ جنرل حمید گل: دیکھیں، بات یہ ہے کہ ایران کے بارے میں امریکہ کا اپنا تو کوئی موقف نہیں، سارا اسرائیل کا موقف ہے اور امریکہ اسرائیل کا موقف قبول کر کے اپنے ساتھ بہت بڑا ظلم کرے گا، کیونکہ تیل کی قیمتیں پہلے ہی امریکہ کی پہنچ سے بھی باہر جا رہی ہیں۔ حالانکہ خود امریکی بہت نرم مزاج لوگ ہیں اور نرمی ہی پسند کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جب ان کی زندگی میں ہارڈشپ (مشکلات/ سختی) آجائے تو وہ چلنے کے لیے تیار نہیں۔ پہلے بھی یہی ہوا تھا کہ ان کی معیشت بہت خراب ہو گئی تھی۔ امریکہ فوجوں کو بتا کر آیا تھا کہ اب جب وہ جائیں گے تو اُن کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالیں جائیں گے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کو عراق میں بھی مشکل پسپائی کا سامنے کرنا پڑا کیونکہ وہاں پر کنٹرول نہیں ہو سکا۔ جہاں جہاں بھی امریکہ نے حملے کیے ہیں، لیبیاء میں انہوں نے حکومت مخالف لوگوں کی معاونت کی تو وہاں القاعدہ کا رول نظر آتا ہے اور القاعدہ کے ہی لوگ تھے، جو اسے وہاں لے کر آئے تھے۔ 

اسلام ٹائمز: شام کی صورتحال پر کیا کہیں گے، کیا یہاں امریکہ مداخلت کر رہا ہے۔؟
ریٹائرڈ جنرل حمید گل: کئی عرب ممالک میں امریکہ نے فوجوں کو بٹھا دیا ہے، تاہم وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ سیریا کے اندر بھی جاری جنگ میں امریکہ اپنی مرضی کے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ نتیجتاً سارے معاملات امریکہ کے کنٹرول سے باہر جا رہے ہیں، اب امریکہ کا نہ تو دبدبہ رہا ہے اور نہ ہی ان کی اخلاقی برتری باقی رہ گئی اور نہ ہی ان کی جمہوریت دینے کے وعدے بروئے کار آ سکے۔

اسلام ٹائمز: کہا جا رہا ہے کہ سیریا میں جاری قتل و غارت میں امریکہ کا ہاتھ ہے، آپ کیا کہیں گے۔؟
ریٹائرڈ جنرل حمید گل: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اب تو انہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ہم باغیوں کو ہتھیار دیں گے، تو اس کا کیا مطلب ہے۔؟ لیبیا میں بھی یہی ہوا کہ انہوں نے القاعدہ کے لوگوں کو اسلحہ دیا اور انہوں نے کہا حکومت مخالف سرگرمیاں شروع کر دیں اور بعد میں وہ امریکہ مخالف بن گئے۔ گرتی ہوئی پاور کے ساتھ جو بھی آتا ہے، وہ بس وقتی طور پر اپنے فائدے اٹھاتے ہیں، اس کے بعد چل نکلتے ہیں۔
 
اب میرے خیال میں امریکہ کے لیے ایران کے خلاف ایک نیا جنگ کا محاذ کھولنا ایک خطرناک اور خوفناک ہو گا اور یہ ان کے لیے آخری کیل ثابت ہو گا۔ ہاں یہ میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر ان کو پاکستان سے راہ داری نہ ملی تو ایران کے اوپر حملہ کرنا ان کے لیے بہت ہی مشکل ہو گا۔ ایک دفعہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے نیٹو سپلائی کیلئے راہ داری کھول دی تو ایک مثال قائم قائم ہو جائے گی کہ آپکی منتخب پارلیمنٹ سے یہ کام کروا لیا ہے۔ اب یہ دباؤ بڑھائیں گے، اگر حکمران دباؤ آ گئے تو پھر بہت مشکل ہے کہ یہ لوگ ایران کے معاملے میں بھی ثابت قدم رہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ کی نواز شریف سے ملاقات ہوئی، کیا وہ نیٹو سپلائی کھولنے کے حق میں ہیں۔؟
ریٹائرڈ جنرل حمید گل: نواز شریف تو سیاستدان ہیں جبکہ ہم تو سرِبازار بات کرتے ہیں۔ ہم تو گلیوں، سڑکوں اور بازاروں میں بات کر رہے ہیں اور کریں گے، لیکن نواز شریف تو سیاستدان ہیں اور انہیں سیاست کرنی ہے۔ البتہ انہوں نے مشروط کر دیا ہے کہ پہلے ڈرون حملے بند ہوں، جاسوسی کے نیٹ ورک بند ہوں، تب بات آگے بڑھے گی۔ میرے خیال میں ایسی شرائط رکھنی چاہیں کہ امریکہ کے لیے قابل قبول نہ ہوں۔ نواز شریف قوم کے مزاج کو تو جانتے ہیں کیونکہ انہوں نے آخر الیکشن لڑنا ہے، اگر زرداری حکومت کی شرائط سے ہی آگے چلنا ہے تو لوگوں کو بالکل یقین نہیں رہے گا۔ جس کسی نے بھی آگے الیکشن میں عوامی امنگ کو ابھارنا ہے اور اس کی قوت مزاحمت کو بیدار کرنا ہے تو اسے امریکہ مخالف پوزیشن اختیار کرنا ہو گی۔

اسلام ٹائمز: گلوبل مارچ ٹو یروشلم ہوا، جس میں بتایا گیا کہ پچاس ہزار لوگ جا رہے تھے لیکن وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکا۔ کہا جا رہا ہے کئی ممالک نے مشکلات کھڑی کیں؟ کیا ان حربوں سے فلسطینیوں کے کاز پر کوئی فرق پڑے گا۔؟
ریٹائرڈ جنرل حمید گل: فی الحال تو یہ سب کچھ علامتی ہے، بہرحال تحریک تو پیدا کی جا رہی ہے۔ اس میں ترکی کا بہت بڑا ہاتھ اور اچھا کردار ہے۔ جس میں ان کے بدلے ہوئے رویے ہیں اور اسرائیل کو انہوں نے دھمکی بھی دی ہے۔ یہاں تک کہ ترک وزیراعظم نے کہا ہے کہ اب بحری بیڑا میں خود لے کر جاؤں گا۔

اسلام ٹائمز: حافظ سعید کے حوالے سے امریکی بیان کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، جس میں اُن کے سر کی قیمت کا اعلان کیا گیا ہے۔؟
ریٹائرڈ جنرل حمید گل: امریکہ دباؤ بڑھا رہا ہے اور وہ انڈیا کو خوش کرنا چاہتا ہے۔ انڈیا کو قریب لایا جا رہا ہے۔ افغانستان میں رول سونپنے کے لیے ایک موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ دباؤ ڈالنے کا نتیجہ الٹا ہی نکلا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس کا مطالبہ ہی غلط ہے۔ امریکہ نے خود ہی کہہ دیا ہے کہ ہم نے تو اس لیے کہا تھا کہ کوئی اس کے لیے ثبوت مہیا کرے، لیکن آپ اس آدمی کے لیے دس ملین ڈالر کہہ رہے ہیں جس کے بارے میں کوئی ثبوت ہی نہیں۔ اس سے یوں لگتا ہے کہ امریکہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ کہ دفاع پاکستان کونسل کے جو کامیاب جلسے ہوئے ہیں اور لگتا بھی یوں تھا کہ جیسے پاکستانی قوم کی اصل نمائندگی ہی یہ جلسے کر رہے ہیں اور ظاہر سی بات ہے کہ جماعت الدعوة کے حافظ سعید دفاع پاکستان کونسل کے اہم جز ہیں۔

الحمدللہ قوم کے اندر اب اتنا شعور پیدا ہو گیا ہے کہ پہلے جو لوگ اجتناب کر رہے تھے، وہ بھی دفاع پاکستان کونسل کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔ جیسا کہ کل آپ نے مولانا فضل الرحمن صاحب کے بیانات دیکھے اور سنے ہوں گے۔ اگر آپ چوہدری نثار کا بیان پڑھیں تو دفاع پاکستان کونسل کے ایجنڈے کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔ نیوکلیئر، انٹیلی جنس کا وسیع پیمانے پر بچھا ہوا جال اور اس بوکھلاہٹ میں امریکیوں نے بہت ہی عجیب و غریب باتیں شروع کر دی ہیں اور میرے خیال میں یہ لوگ شاید آزمانا بھی چاہتے تھے کہ لوگوں کا اس بارے میں کیا ردعمل ہو گا، پھر سب نے دیکھ بھی لیا کہ اس کا ردعمل بہت شدید ہوا۔

اسلام ٹائمز: پارلیمانی سفارشات سامنے آ چکی ہیں، اگر سپلائی لائن مشروط طور پر کھول دی گئی تو دفاع پاکستان کونسل کا اگلا لائحہ عمل کیا گا؟ کیا پارلیمنٹ میں یہ قرارداد منظور ہو جائے گی۔؟
ریٹائرڈ جنرل حمید گل: نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کا اثر تو الٹا ہو گیا ہے۔ اگر وہ پارلیمنٹ میں لانا بھی چاہتے تھے تو اب پارلیمنٹ کے لیے اس کی تائید کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ چونکہ پہلے وہ گو مگو کی صورتحال میں تھی لیکن اب تو وہ بالکل واضح ہو چکی ہے۔ اب حکومت کو بھی پتا ہے کہ سپلائی بحال نہیں کر سکیں گے، کیونکہ اگر ایسا ہوا تو انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ عوام سڑکوں پر نکلے گی۔ جیسا کہ ہمارا تہیہ ہے کہ ہم تشدد کا راستہ اختیار کریں گے تو کچھ بھی ممکن نہ ہو گا۔

اسلام ٹائمز: سید منور حسن نے تو یہ کہا تھا کہ اگر پارلیمنٹ نیٹو سپلائی مشروط طور پر بھی بحال کی گئی تو اسے سڑکوں پر روکیں گے، کیا اگر پارلیمنٹ کی منظوری بھی مل جاتی ہے تو بھی دفاع پاکستان کونسل سڑکوں پر سپلائی کو روکے گی۔؟
ریٹائرڈ جنرل حمید گل: پارلیمنٹ کے لیے اب نیٹو سپلائی بحال کرنا بہت ہی مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ وہ قوم کے مزاج کو بخوبی جانتی ہے۔ ویسے بھی قوم اب مہنگائی، بے روزگاری، لوڈشیڈنگ و دیگر مسائل کی وجہ سے پہلے ہی ناراض ہے۔ کراچی میں جو خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور حکومت کی سرپرستی میں بلکہ حکومت خود یہ کام کروا رہی ہے۔ جنگ کرنے کے کئی طریقے ہیں جن میں ایک یہ طریقہ بھی انتہائی موثر ہے کہ آپ ان کی سپلائی کو روک رکھیں۔ لیکن اگر کسی قوم کے اوپر حملہ ہو جائے، پھر تو ظاہر ہے کہ اپنے دفاع کے لیے لڑنا ہی پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال میں انڈیا کے لیے بہت بڑے خطرات ہوں گے۔ ہم بھارت کو اچھی طرح جانتے ہیں، یہ سب کچھ بھارت کا ہی کیا دھرا ہے اور وہ ہی ان کو اکساتا ہے۔ بھارت کے مظالم اب بھی کشمیر کے اندر جاری ہیں، لیکن امریکہ کو وہ تو بالکل نظر نہیں آتے۔ ہم نے تو اپنے آپ کو اس سارے معاملے میں بری طرح ذلیل کر لیا ہے۔ 

اسلام ٹائمز: کراچی، بلوچستان اور گلگت میں حالیہ فسادات کے پیچھے کن عناصر کو دیکھتے ہیں۔ ایک دم فرقہ وارنہ کشیدگی کیوں پیدا ہو گئی ہے۔؟
ریٹائرڈ جنرل حمید گل: یہ بین الاقوامی سازش ہے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس میں امریکہ ملوث ہے، جو ان ایریاز میں اپنے زرخرید لوگوں کے ذریعہ حالات کشیدہ کر رہا ہے۔ ان معاملات کو سمجھنا ہو گا۔ حکومت کو اپنی رٹ دکھانی چاہئے۔ جو لوگ ملوث ہیں انہیں میرٹ پر کٹہرے میں لایا جائے۔ گلگت کے ایکدم حالات خراب کرنے میں یقینی طور پر امریکہ ملوث ہے۔

اسلام ٹائمز: جنرل صاحب ہم کس پالیسی پر گامزن ہیں، کوئی ہمسایہ ملک ہم پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں، انڈیا ہو یا ایران، اب تو چین بھی ہم پر بھروسہ کرنے کیلئے تیار نہیں، جبکہ دوسری طرف دفاع پاکستان اور خود آ پ کے بھارت سے متعلق سخت بیانات، کیا آپ نہیں سمجھتے کہ تمام مسائل کو ٹیبل ٹاک سے حل کیا جائے۔؟
ریٹائرڈ جنرل حمید گل: جب پاکستان امریکہ کی غلامی میں جھکتا ہی چلا جائے گا تو چائنہ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ آگے آئے اور آپ کا ساتھ دے۔ آپ اگر اپنی پوزیشن ہی اختیار نہیں کریں گے تو ممکن نہیں ہو سکتا، لیکن اگر آپ اپنی پوزیشن اختیار کریں تو چائنہ آپ کے ساتھ ہو گا۔ یہاں پر ساتھ سے مراد یہ ہے کہ کیش تو وہ نہیں دیتے ہیں کیونکہ انہیں پتا ہے کہ کیش لوگوں کے بینک اکاؤنٹ میں چلا جاتا ہے۔ چائنہ موجودہ حکومت پر اعتماد بھی نہیں کر پا رہا۔ اگر کوئی کمپنیاں کسی بھی ملک میں اپنا سرمایہ لگاتی ہیں تو انہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ اگر کوئی نقصان ہو جائے یا کوئی مسئلہ درپیش ہو تو ان کا مسئلہ کورٹ میں جائے گا اور وہاں سے انہیں انصاف مل جائے گا۔ پاکستان کو یہ لوگ خونریزی میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ جہاں مجرموں کو بچانے کے لیے عدالتوں کا حکم نہیں مانا جائے گا اور حکومت اس مسئلے کے لیے خود کھڑی ہو جائے گی تو کوئی بھی ملک ساتھ نہیں دے گا۔

اسلام ٹائمز: سپلائی لائن کے حوالے پارلیمانی سفارشات پر کیا کہیں گے، کیا یہ سفارشات قوم کی ترجمان کرتی ہیں، دوسرا یہ کہ خارجہ پالیسی پر کیا کہیں گے۔؟
ریٹائرڈ جنرل حمید گل: بالکل یہ قوم کی ترجمانی نہیں کرتی ہیں، جیسا کہ کشمیر کے بارے میں خارجہ پالیسی بہت ہی کمزور ہے جو کہ بہت ہی غلط ہے۔ ہمارا پانی کا مسئلہ ہے، ہمارا بہت دیرینہ موقف ہے، ہمارا دو قومی نظریہ اس کی جانب ہے۔ اس کے اندر مسلم میجورٹی والے علاقے ہیں، بے شک ایک الگ حیثیت رکھتے ہیں۔ ہمارا وزیر خارجہ کا دفتر تو امریکہ کا آؤٹ پوسٹ ہے، ہمارے وزیر خارجہ کبھی کبھار تو بیان ضرور دے دیتے ہیں لیکن اب تک عملاً امریکہ کے خلاف انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ اس مظلوم دفتر خارجہ کی مجبوری ہے کہ ان کو حافظ سعید کے معاملے میں بیان دینا پڑا۔ کل جب ہم نے پریس کانفرنس کی اور مطالبہ کیا تو اس کے بعد انہوں نے بیان دیا۔

اسلام ٹائمز: صدر زرداری کے دورہ بھارت کو کس طرح دیکھتے ہیں۔؟
ریٹائرڈ جنرل حمید گل: صدر قوم کا باپ ہوتا ہے۔ اندرونی سیاست کو چھوڑیں، لیکن بہرحال وہ قوم کا ایک باپ ہوتا ہے۔ قوم کا سربراہ ہوتا ہے اور ایک نمائندہ کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتا ہے۔ بھارت نے اس وقت قوم کو بہت تنگ کیا ہوا ہے اور کچھ لوگ امریکہ کی طرف بہت مائل ہیں اور ان کو ہمیشہ خوش کرنے کے لیے لگے رہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا بھارت سے ہمارے تعلقات مذاکرات کے ذریعہ حل نہیں ہو سکتے۔؟ 
ریٹائرڈ جنرل حمید گل: میز پر ہی کشمیر کا مسئلہ حل کر رہے تھے اور اب تو 50 سال گزر چکے ہیں۔ میز پر گفتگو کرتے ہوئے، اتنا عرصہ بیت گیا لیکن ابھی تک مسئلے کا کوئی حل نہیں نکلا۔ واجپائی صاحب اور دیگر بھی آئے۔ اس کے بعد جب پاکستان نیوکلیئر پاور بن گیا تو بھارت کو امریکہ کی سپورٹ مل گئی۔ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ اس قوم کا کوئی بھی ہوش مند یہ سمجھتا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے سے بھارت سے کشمیر لے سکیں گے۔ آپ کے پاس ایک موقع آیا تھا کہ بھارت کی ضرورت تھی کہ افغانستان میں اپنے قدم جمائے اور امریکہ کی ضرورت تھی کہ وہ بھارت کو اپنے نمائندہ کے طور پر پبلک میں چھوڑ جائے۔ اہم ترین یہ تھا کہ اس کے لیے راہ داری ملتی۔ جب آپ نے ان کو پسندیدہ ملک قرار دیا ہے، کشمیر کو فراموش کرو اور باقی چیزوں کو زیادہ اہمیت دو۔ اب حل یہ ہے کہ بھارت کے سامنے سخت پوزیشن اختیار کرنا ہو گی۔ 

انہوں نے ہمارے لیے اندرونی طور پر راستے دشوار کر دیئے ہیں، لیکن بیرونی طور پر حالات جس رخ پر جا رہے ہیں وہ حالات بھارت کے خلاف اور ہمارے حق میں ہیں۔ بھارت کا سرپرست تو افغانستان سے شکست کھا چکا ہے۔ وہ اب کوشش کر رہا ہے کہ بھارت کیساتھ مل کر وہاں اپنے اڈے قائم رکھ سکے۔ اگر آپ انہیں یہ سپلائی لائن دے دیتے ہیں اور آپ ان کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھاتے ہیں، نہ صرف اپنی مارکیٹ کو ان کے حوالے کرتے ہیں۔ یہ بات تو غلط ہے کہ ہم ان سے مقابلہ کرتے ہیں۔ اسی لیے ری سٹاٹر نے کہا تھا کہ تاجر لوگوں (تاجر ذہنیت کے لوگوں) کو کبھی بھی حکومت کے فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
خبر کا کوڈ : 151922
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب