0
Wednesday 12 Oct 2011 09:31

امریکا میں سعودی سفیر کے قتل کی سازش ناکام بنانے کا دعویٰ، ایران کی جانب سے امریکی الزامات کی سختی سے تردید

امریکا میں سعودی سفیر کے قتل کی سازش ناکام بنانے کا دعویٰ، ایران کی جانب سے امریکی الزامات کی سختی سے تردید
واشنگٹن:اسلام ٹائمز۔ امریکا نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں سعودی سفیر کو بم دھماکے کے ذریعے قتل کرنے کا مبینہ ایرانی منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے دو ملزموں سمیت 5 ایرانی شہریوں پر پابندیاں عائد کرنے کے اقدامات کا اعلان کر دیا۔ صدر اوباما نے سعودی سفیر کو فون کرکے ان سے یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔ واشنگٹن میں امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکام نے ایک ایرانی امریکی شہری منصور ارباب سیار کو نیویارک میں ایئر پورٹ سے حراست میں لیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ سعودی سفیر عادل الجبیر کے قتل کے لیے کرائے کے قاتل بھرتی کرنے کے منصوبے میں ملوث ہے۔ اس نے ایران میں موجود القدس فورس کے ایک رکن غلام شکوری کے ساتھ مل کر سفیر کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔ محکمہ انصاف نے دونوں افراد کے خلاف الزامات نیو یارک کی ایک عدالت میں دائر کر دیئے ہیں۔ ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے ایک ایجنٹ نے خود کو منشیات اسمگلنگ کے عالمی گروہ کا ایجنٹ ظاہر کیا۔ ان کی میٹنگ مئی میں میکسیکو میں ہوئی، جو ان واقعات کا تسلسل تھی جن کا نتیجہ ایرانی حکومت میں موجود عناصر کی جانب سے ایک بین الاقوامی سازش کی صورت میں سامنے آیا۔ ہم نے آج عدالت میں دستاویزات جمع کرائی ہیں جس کے مطابق امریکی سرزمین پر سفیر کے قتل کے عوض 15 لاکھ ڈالرز ادا کئے جانے تھے۔
 دوسری جانب امریکی صدر بارک اوباما نے سعودی سفیر کو فون کیا۔ وائٹ ہاوٴس کے ایک عہدے دار کے مطابق صدر اوباما نے کہا کہ قتل کا یہ منصوبہ امریکی اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اوباما کے قومی سلامتی کے مشیر ٹام ڈونی لون نے یکم اکتوبر کو سعودی عرب کے دورے میں شاہ عبداللہ کو اس منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی تھی۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی سفیر کے قتل کی سازش ایران کو دنیا میں مزید تنہا کرے گی۔ ہم پوری دنیا میں اپنے دوستوں اور پارٹنرز کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کی اس کارروائی پر کس طرح سخت پیغام بھیج سکتے ہیں اور دوست ممالک کے قریبی تعاون کے ذریعے ایران کو سخت پیغام بھیجنے کے لئے کون کون سے راستے اختیار کئے جاسکتے ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے بھی اس سازش سے مبینہ طور پر منسلک پانچ افراد کے خلاف پابندیاں لگانے کے اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ ان میں دونوں ملزمان منصور ارباب سیار اور غلام شکوری کے علاوہ عبدالرضا شہلائی، قاسم سلیمانی اور حامد عبداللہی Abdollahi شامل ہیں۔ ان تینوں کا تعلق القدس فورس سے بتایا جاتا ہے۔ ان میں سے عبدالرضا شہلائی اور قاسم سلیمانی کے اثاثے پہلے ہی منجمد ہیں اور سفر پر پابندیاں عائد ہیں۔ 
ادھر ایران نے امریکا میں سعودی سفیر کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے امریکی الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ دوسری جانب سعودی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ مبینہ سازش بین الاقوامی اصولوں کی قابلِ مذمت خلاف ورزی ہے۔ تہران میں ایرانی صدر کے پریس مشیر علی اکبر جواں فکر نے ایک بیان میں امریکی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوچی سمجھی کہانی امریکا کے داخلی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ امریکی حکومت اور سی آئی اے کو داخلی مسائل سے امریکی عوام کی توجہ ہٹانے کا کافی تجربہ ہے۔ اب ایران کو اس سوچی سمجھی کہانی کی تفصیلات کا انتظار ہے، تاکہ امریکی حکومت کے مقاصد سامنے آسکیں۔ 
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی امریکا میں سعودی سفیر کو قتل کرنے کے منصوبے کے جھوٹے الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات قائم ہیں۔ اِس طرح کے جھوٹے الزامات سے کچھ حاصل نہیں ہو گا اور نہ ہی عوامی رائے پر اس کا کوئی اثر پڑے گا۔
خبر کا کوڈ : 105604
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے