0
Friday 14 Oct 2011 02:20

امریکہ کا ایران پر سعودی سفیر کے قتل کے الزامات کا مقصد وال اسٹریٹ میں جاری مظاہروں سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے، تجزیہ کار

امریکہ کا ایران پر سعودی سفیر کے قتل کے الزامات کا مقصد وال اسٹریٹ میں جاری مظاہروں سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے، تجزیہ کار
اسلام آباد:اسلام ٹائمز۔ سرکاری ٹی وی پر سعودی سفیر کے قتل کے حوالے سے ایران پر امریکی الزامات سے متعلق مباحثہ کرتے ہوئے نامور تجزیہ کار اور جنگ آخبار میں کالم نگار عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ان امریکی الزامات کا مقصد ایران کو دنیا میں تنہا کرنا اور نیوکلئیر پروگرام بند کرانا ہے، امریکی ایجنسیاں ایران کیخلاف عالمی سطح پر رائے عامہ ہموار کرنے کی سر توڑ کوشش میں ہیں، امریکی صدر کے سعودی سفیر کے قتل کا الزام عائد کرنا اور سعودی عرب کا فوری طور پر ردعمل ظاہر کرنا اور ایرانی نیوکلئیر کا نام لینا حیران کن ہے، حالانکہ سعودی عرب کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیئے تھا اور حقائق کا مزید انتظار کرتے لیکن انہوں نے فوری ہی ردعمل ظاہر کرکے ایران کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری کا تاثر دیا ہے۔ امریکہ کی ایران کے بارے میں رائے شروع دن سے لیکر آج تک ایک ہی ہے، امریکیوں نے انقلاب اسلامی کے اول روز سے لیکر اب تک ہر موقع پر ایران کو زچ کرنے کی ٹھانی ہوی ہے، حالانکہ ثبوت فراہم کرنے کے ابھی کافی مراحل باقی تھے، ابھی معاملہ عدالت میں ہے مگر امریکی صدر کا فوراً بیان داغنہ ایک پہلے سے لکھا گیا سکرپٹ ہے۔ اوباما انتظامیہ نے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جرم ثابت ہوچکا ہے۔ امریکہ ایران سے اپنی اس خفت کا بھی حساب چکانا چاہتا ہے جو اُسے عرب دنیا میں موجودہ تبدیلی سے کافی پریشانی کا سامنا ہے، حسنی مبارک کے اقتدار کا خاتمہ اور نئی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ اس سطح کا تعاون اور تعلقات کا نہ ہونا امریکہ کیلئے پریشان کن ہے۔ امریکہ کے اندر سے لوگ اوباما انتظامیہ کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں، معاشی ابتری میں مذید خرابی نے اوباما انتظامیہ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ امریکہ میں بنکنگ کا سسٹم تباہ ہوگیا ہے۔
پاکستان کے دفائی تجزیہ کار جنرل (ر) طلعت مسعود نے اپنے تجزیہ میں کہا کہ ایران کو سعودی سفیر کے قتل سے قطعً کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا، لہٰذا یہ کہنا کہ ایران اس قتل میں ملوث ہے غلط ہے، موجودہ رجیم کی ترجیح رہی ہے کہ ایران امریکہ کو ایسا کوئی موقع نہ دے جس سے اس کی پوزیشن کمزور ہو اور امریکی موقف مضبوط ہو اور وہ فائدہ اٹھا لے۔ اس حکومت کی کوشش رہی ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں، پابندیوں سے نجات ملے، سعودی عرب سے تصفیہ ہو اور تعلقات میں بہتری آئے، اُن کا کہنا تھا کہ امریکی الزامات کا مقصد مشرق وسطیٰ سے دنیا کی توجہ ہٹانا اور ایران کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرانا ہے اور معاشی لحاظ کمزور کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ کبھی بھی جنگ نہیں کرسکتا، اگر ایسا ہوا تو دنیا اس جنگ کو برداشت نہیں کر سکے گی، تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی اور ایک ایسا معاشی بحران آئے گا جسے کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر سوزن رائس کا باقاعدہ مہم چلانا اور دنیا کو باور کرانا کہ ایران اس قتل میں ملوث ہے سمجھ سے بالا تر ہے اور امریکی ذہنیت کا عکاس ہے، یہ لوگ صرف اپنے مفاد کو دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی، شام اور عراق کے ایران سے اچھے تعلقات ہیں، عرقی صدر نورالمالکی ایران کے لیئے قابل قبول ہے جو امریکہ کیلئے پریشانی کا باعث ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایران سعودی تعلقات دوبارہ زیرو پر پہنچ گئے ہیں، اس وقت پاکستان کے پاس نادر موقع ہے کہ وہ اس کو غنیمت جانتے ہوئے انتہائی اہم کردار ادا کرے، پاکستان دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری ختم کرانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، امریکی اس وقت پاکستان پر دباؤ ڈالیں گے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ ختم ہوجائے، یاد رہے کہ بھارت کے ساتھ ایران کے اچھے تعلقات تھے لیکن وہ بھی خراب ہوگئے، جس کی وجہ امریکہ ہے۔
جورڈن میں پاکستان کے سابق سفیر سرور نقوی کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنا مضبوط کیس بنا کر اقوام متحدہ میں جائے گا اور چین اور روس کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا مگر ایک بات واضح ہے کہ روس، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کسی صورت خراب نہیں ہونے دے گا۔ البتہ چین کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ امریکی کوشش ہے کہ ایران کے افغانستان، پاکستان، سعودی عرب سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے تعلقات خراب ہوجائیں۔ پاکستان کو نہایت ہوشیاری سے آگے بڑھنا ہوگا، کیوں ہمارے ہمسائے میں بھارت، افغانستان، ایران اور چین ہیں۔ بھارت اور افغان بارڈر پہلے ہی غیر محفوط ہیں، اس لیئے ایران کیستاتھ تعلقات کی بہتری پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔
خبر کا کوڈ : 106143
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے