0
Sunday 27 Sep 2009 11:06
ایران نئے جوہری پلانٹ کے معائنے کے لیے تیار ہے،احمدی نژاد

امریکا کا ایران کے نئے ایٹمی پلانٹ کے معائنے کی پیشکش کا خیر مقدم

امریکا کا ایران کے نئے ایٹمی پلانٹ کے معائنے کی پیشکش کا خیر مقدم
نیو یارک:امریکا نے ایران کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو اپنے نئے ایٹمی پلانٹ کے معائنے کی پیشکش کا محتاط خیر مقدم کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے نیو یارک میں خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران جب بھی عالمی قوانین کی پاسداری کا فیصلہ کرے گا اس کا ہمیشہ خیر مقدم کیا جائے گا۔ ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ ایران یکم اکتوبر کو عالمی طاقتوں سے اپنے جوہری تنازع پر مذاکرات میں شرکت کرے گا اور جوہری تنصیبات اور ان میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرے گا۔ ایران نے گذشتہ دنوں آئی اے ای اے کو ایک خط لکھا تھا جس میں انکشاف کیا تھا کہ نطنز کے علاوہ قم میں بھی اس کا ایک جوہری پلانٹ ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی بجلی کی پیداوار کے لیے کر رہا ہے اور اس کا ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ایران نئے جوہری پلانٹ کے معائنے کے لیے تیار ہے،احمدی نژاد
نیو یارک:ایران کے صدر محمود احمدی نژاد
نے کہا ہے کہ ایران اپنے دوسرے جوہری پلانٹ کو اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کی نگرانی کے لیے کھول سکتا ہے۔ایرانی صدر نے کہا کہ قم کے قریب یہ جوہری مرکز اقوام متحدہ کے ضوابط کے تحت بنایا جا رہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ جوہری پلانٹ ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔ایران نے دوسرے جوہری پلانٹ کا انکشاف جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے نام ایک خط میں ہفتہ رواں کے آغاز پر کیا گیا ہے۔امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کو افزودہ کرنے کا خفیہ پلانٹ لگا رہا ہے۔ایران صدر احمدی نژاد جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیو یارک میں تھے،کہا کہ جو رہنما ایران کے دوسرے جوہری پلانٹ پر شور مچا رہے ہیں وہ غلطی پر ہیں اور ان کو مایوسی ہو گی۔"اوباما جوہری ماہر نہیں ہیں اور ہمیں کچھ معاملات آئی اے ای اے پر چھوڑنے ہوں گے۔"ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ عالمی ضوابط کے تحت لازم ہے کہ کوئی ملک اپنے جوہری
پلانٹ میں نیوکلیائی مواد کے شامل کرنے سے چھ ماہ پہلے اس کو ڈیکلیئر کرے۔جبکہ ہمارے اس نئے جوہری پلانٹ میں نیوکلیائی مواد داخل کرنے میں ابھی اٹھارہ ماہ رہتے ہیں۔ 
نئے ایٹمی پلانٹ کا معائنہ کرانے پر اعتراض نہیں،ایران
تہران: ایران نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو اپنے نئے ایٹمی پلانٹ کا معائنہ کرنے کی اجازت دے دیگا۔ جبکہ روسی صدر دمتری میدویدیف نے ایران کے خلاف ممکنہ طور پر نئی پابندیوں کی حمایت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے تہران میں میڈیا کو بتایا کہ ایران کو قم کے قریب نئے ایٹمی پلانٹ کا معائنہ کرانے میں کوئی اعتراض نہیں، آئی اے ای اے کےساتھ معاہدے کے بعد معائنہ کاروں کو دورے کی اجازت ہو گی۔ ادھر امریکی شہر پٹسبرگ میں میڈیا سے بات چیت میں روسی صدر نے کہا کہ عالمی برادری ایران سے درکار تعاون کیلئے سازگار ماحول تیار کرے اگر پھر بھی ایران تعاون پر آمادہ نہ ہوا تو کسی اور میکنزم پر عمل کرنا پڑے گا۔

خبر کا کوڈ : 12211
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب