0
Thursday 1 Oct 2009 09:59

دہشت گردوں کے اڈوں کی امریکی فہرست میں کوئٹہ سب سے اوپر ہے،امریکا

دہشت گردوں کے اڈوں کی امریکی فہرست میں کوئٹہ سب سے اوپر ہے،امریکا
واشنگٹن:پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے اڈوں سے متعلق امریکا کی فہرست میں کوئٹہ سب سے اوپر ہے ۔امریکی سفیر نے یہ بات واشنگٹن پوسٹ کو ایک انٹرویو میں کہی ۔ اخبار کی رپورٹ میں دعوی ٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی حکام نے طالبان تحریک کو کوئٹہ میں دوبارہ منظم ہونے کی اجازت دی کیونکہ وہ طالبان کو داخلی خطرہ سمجھنے کے بجائے اسٹریٹجک اثاثہ سمجھتے ہیں ۔ امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ ماضی میں طالبان کی کوئٹہ شوری ٰ پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی کیونکہ اس علاقے میں امریکی فوج نہیں ہے اور فاٹا کی نسبت کوئٹہ کے بارے میں امریکا کو زیادہ معلومات بھی نہیں ہیں ۔لیکن اب سرحد کے دوسری طرف امریکی فوجی موجود ہیں اور کوئٹہ شوری ٰ امریکی فہرست میں سب سے اوپر ہے ۔امریکی سفیر کے مطابق پاکستانی حکام میں اس بات پر پریشانی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ واشنگٹن میں افغان پالیسی کے متعلق حالیہ بحث افغانستان سے امریکی فوج کی قبل از وقت انخلا کی سبب بنے گی ۔اگر پاکستانی حکام یہ سوچ لیں کہ امریکی فوج کے جانے سے افغانستان پر دوبارہ طالبان کا راج ہو جائے گا تو وہ طالبان سے رابطے ختم کرنے میں جلد بازی نہیں کریں گے ۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام یہ بات بالکل واضح کر چکے ہیں کہ ان کی ترجیحات امریکا سے مختلف ہیں اور انہیں سرحد پار ہونے والے حملوں کے بجائے پاکستان میں طالبان کے حملوں پر زیادہ تشویش ہے ۔
 دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں طالبان نہیں ہیں ۔ان سے پوچھا گیا کہ افغان اور امریکی حکام کی جانب سے فراہم کئے گئے کوئٹہ شوریٰ کے رہنماؤں کے نام کیا ہیں تو میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ ان میں چھ سے دس رہنما ہلاک ہو چکے ہیں ، دو افغانستان میں ہیں اور دو غیر اہم ہیں ۔ میجر جنرل اطہر عباس نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ کوئٹہ کے طالبان پاکستان میں حملے نہیں کر رہے اس لئے پاکستان ان کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہتا۔میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ اگر امریکا کے پاس بلوچستان میں طالبان رہنماؤں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات ہیں تو وہ پاکستان کو فراہم کرے۔ پاکستانی حدود میں امریکی فوج کو کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔

خبر کا کوڈ : 12445
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب