0
Thursday 9 Feb 2012 11:49

طاغوتی طاقتیں ایران میں ہونیوالی ترقی سے خوفزدہ ہیں، مقررین کا ہفتہ وحدت کی تقریب سے خطاب

طاغوتی طاقتیں ایران میں ہونیوالی ترقی سے خوفزدہ ہیں، مقررین کا ہفتہ وحدت کی تقریب سے خطاب

 اسلام ٹائمز۔ انقلاب اسلامی ایران کے بانی حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے فرمان کے مطابق ہفتہ وحدت کی مناسبت سے تقریب خانہ فرہنگ ایران لاہور میں بعنوان "ہفتہ وحدت: مظہر اتحاد بین المسلمین" منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت معروف شاعر امجد اسلام امجد نے کی۔ نعت رسول مقبول (ص) پیش کرنے کی سعادت پیر سید مقدس کاظمی اور تحریک منہاج القرآن کی مرکزی نعت کونسل کے رہنما ظہیر بلالی نے حاصل کی جبکہ منقبت محسن شوکت نے پیش کی۔

کانفرنس سے اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ افتخار حسین نقوی، جامعہ منہاج الحسین کے پرنسپل اور تحریک حسینیہ کے سربراہ علامہ محمد حسین اکبر، مرکز اہل سنت کے سربراہ علامہ احمد علی قصوری، معروف خطیب علامہ عمران عباس مظاہری اور جماعت اسلامی کی وویمن اینڈ فیملی کمیشن کی سربراہ اور سابق رکن قومی اسمبلی سمیعہ راحیل قاضی نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں نبی آخرالزمان (ص) کی بارگاہ میں ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان اتحاد و وحدت پر زور دیا۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ افتخار حسین نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرور کائنات حضور نبی کریم (ص) نے اپنی 63 سالہ زندگی میں انسانیت کو متحد کرنے کا پیغام دیا اور ان کے پیغام وحدت و اتحاد کو حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے ان کے یوم ولادت کی تاریخ پر اختلافی روایات ہونے کی بنا پر ہفتہ وحدت قرار دے کر جاری رکھا۔ انہوں نے کہا کہ عالم غرب باوجود شرک پر یقین رکھنے کے متحد ہو سکتے ہیں تو مسلمان کیوں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان متحدہ ہو کر پاکستان میں نظام مصطفٰی نافذ کر سکتے ہیں۔
 
رکن اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ امام آخر الزمان حضرت امام مہدی (ع) کے ظہور کا انتظار ہے کہ وہ آئیں اور مسلمانوں کو اتحاد کی لڑی میں پرو دیں۔ انہوں نے انقلاب اسلامی ایران کو نعمت خداوندی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام خمینی رضوان اللہ علیہ جیسے مرد قلندر نے سینما گھروں سے لوگوں کو نکال کر مسجدوں کو آباد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی کے بعد ایران میں ہونے والی ترقی سے طاغوت خوفزدہ ہے۔ جبکہ عالم اسلام میں ایران کو آئیڈیل سمجھتے ہوئے اسلامی بیداری کی لہر اٹھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب ممالک میں جو حالیہ سیاسی تبدیلیاں ہوئی ہیں، یہ انقلاب اسلامی کے اثرات میں سے ہے۔ 

مرکز اہل سنت کے سربراہ علامہ احمد علی قصوری نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان رسول کریم (ص) کی ذات اقدس وحدت اور اتحاد کا منبع ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی خرافات کے باوجود حضرت محمد مصطفٰی (ص) کا ذکر بلند ہو رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مسلمان حضور (ص) کی تعلیمات بھلا رہے ہیں تو عالم مغرب میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں میں اختلافات کی وجہ اسلام کی نہیں، مسلمانوں کی سوچ کی کمزوری ہو سکتی ہے۔ 

جامعہ منہاج الحسین کے پرنسپل علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ دشمن نے سازش کے تحت حضو ر نبی کریم (ص) کی ذات اعلٰی صفات کو ان کے یوم ولادت کی روایات کے اختلاف کو متنازع بنانے کی سازش کی تو امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے اہل سنت کے ہاں 12 ربیع الاول اور اہل تشیع کے ہاں 17 ربیع الاول کو حضرت محمد مصطفٰی (ص) اور امام جعفر صادق (ع) کے یوم ولادت کے درمیانی دنوں کو ہفتہ وحدت قرار دے کر اختلاف کو اتحاد میں بدل دیا۔ 

جماعت اسلامی کی رہنما سمیعہ راحیل قاضی نے اتحاد امت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو پاکستان میں بھی ایسی ہی شکست دی جا سکتی ہے جیسے کہ ایران میں 33 سال پہلے امام خمینی رضوان اللہ علیہ کی قیادت میں دی گئی تھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سجادہ نشین دربار حضرت میاں میر اور علامہ عمران عباس مظاہری نے حضرت محمد مصطفٰی کی حیات طیبہ پر روشنی ڈالی۔

خبر کا کوڈ : 136502
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب