0
Tuesday 6 Mar 2012 00:15

پاکستان اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں کرنے دے گا، حنا ربانی کھر

پاکستان اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں کرنے دے گا، حنا ربانی کھر
اسلام ٹائمز۔ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں کرنے دے گا کیونکہ اس سے خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ملتان ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ صدر کرزئی نے پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے تاہم طالبان سے تعلقات کے حوالے سے ہم نے ان کے پیچھے چلنے کا اعلان کیا ہے۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ افغانستان میں 48 ممالک کے لیے مشکلات پیدا نہیں کر سکتے لیکن نیٹو سپلائی کا فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی ،جبکہ پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے حنا ربانی کھر نے کہا کہ امریکہ سپر پاور ہے جس سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں۔ تاہم سلالہ کے افسوسناک واقعہ کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے اور اب یو ایس اور نیٹو کے ساتھ تعلقات کا فیصلہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے بھی تعلقات میں ٹھہراؤ کے بعد اب دوبارہ پیشرفت ہوئی ہے جس کی وجہ پاکستان ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات چاہتا ہے تاکہ شہریوں کی خوشحالی تحفظ اور ملکی ترقی ان کا مقدر بن سکے۔

تفصیلات کے مطابق وزير خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے سلسلے ميں پاکستان افغان حکومت کی معاونت کر سکتا ہے، خطے ميں امن و امان پاکستان کے مفاد ميں ہے۔ نيٹو سپلائی کے حوالے سے وزير خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہميشہ کہا کہ خطے ميں فوجی مداخلت برداشت نہيں کر سکتے، سلالہ چيک پوسٹ پرحملہ ايک سانحہ تھا۔ پارليمنٹ کے فيصلے تک نيٹو سپلائی روٹ نہيں کھولا جا سکتا، نيٹو کو فضائی راستے سے سپلائی کبھی بند نہيں ہوئی۔ پاکستان کی ريڈ لائنز کراس کی گئيں جس کے بعد نيٹو سپلائی بند کی گئی جبکہ پارليمنٹ ميں بھی زمينی راستے بند کرنيکی قرارداد پاس کی گئی تھی۔ ہليری کلنٹن کو آگاہ کر ديا تھا کہ نيٹو سپلائی کا معاملہ پارليمنٹ ميں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امريکا سپرپاور ہے، پاکستان کے امريکا سے اچھے تعلقات ضروری ہيں۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک يہ بات اچھی طرح جانتے ہيں کہ مسائل کا حل بات چيت ميں ہی ہے۔ پاکستان اور بھارت نے ہر راستہ اختيار کر کے ديکھ ليا تاہم اب مذاکرات کا راستہ اختيار کر کے بھی ديکھ لينا چاہيئے۔

خبر کا کوڈ : 143250
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش