0
Saturday 10 Mar 2012 07:17

امریکہ ایران پر حملے کے لیے بلوچستان میں اڈے قائم کرنا چاہتا ہے، سید منور حسن

امریکہ ایران پر حملے کے لیے بلوچستان میں اڈے قائم کرنا چاہتا ہے، سید منور حسن
اسلام ٹائمز۔ دفاع پاکستان کونسل کے زیر اہتمام ملک بھر میں ’’یوم بلوچستان‘‘ منایا گیا۔ نماز جمعہ کے بعد لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، کراچی، پشاور کے علاوہ تمام اضلاع میں مظاہرے کیے گئے جن سے جماعت اسلامی اور دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں کے مقامی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کا مسئلہ ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ بلوچستان کے عوام کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ وہاں جاری فوجی آپریشن اور بوری بند لاشوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔ پوری قوم بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ حکومت زبانی دعوئوں کی بجائے حقوق بلوچستان کے لیے عملی اقدامات کرے۔ 

امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے جامع مسجد منصورہ میں نماز جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے فوجی آپریشن کو امرت دھارا سمجھ لیا ہے اور مسائل کے حل کے لیے اس نسخے کو بار بار آزمایا گیا ہے جس کے ہمیشہ بھیانک نتائج رونما ہوئے ہیں۔ مشرقی پاکستان فوجی آپریشن کے نتیجے میں بنگلہ دیش بنا، بلوچستان میں پانچواں فوجی آپریشن ہو رہا ہے اس کے باوجود حالات دن بدن بگڑتے چلے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات ابھی ہاتھ سے نہیں نکلے۔ جو حکومت سینیٹ کی ایک سیٹ پر ۳۵کروڑ روپے خرچ کر سکتی ہے اس کی طرف سے بلوچستان کے حالات پر اے پی سی بلانے کی رٹ مضحکہ خیز ہے ۔
 
سید منور حسن نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے مسائل حل اور وہاں کے عوام کی محرومیاں دور کرنے کی بجائے امریکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ حکومت امریکہ کی جیب کی گھڑی بن کر ملکی سلامتی سے کھیل رہی ہے۔ امریکہ ایران پر حملے کے لیے بلوچستان میں اڈے قائم کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان سے نکلنے کے بعد پاکستان اور ایران پر دباؤ قائم رکھنے کے لیے وہ نزدیک ترین علاقے بلوچستان کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وزراء، سینیٹرز اور صوبائی حکومت کو بھی صوبے کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں بلکہ پوری صوبائی اسمبلی کابینہ بنی ہوئی ہے۔ وزراء اپنی گاڑیوں کے سکواڈ میں اضافے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ 

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے بگٹی کے قاتل مشرف کو پورے پروٹوکول سے باہر بھیجا اب اس کے دروازوں پر طلبی کے نوٹس چپکائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بگٹی کو فوجی آپریشن میں قتل کرنے کے بجائے عدالتی کٹہرے میں لا کر اپنے خلاف الزامات کا جواب دینے کا موقع ملنا چاہیے تھا۔ حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان کے مسئلے کا جلد حل نکالا جائے اور وہاں کے عوام کے گلے شکوے دور کر کے ان کے اعتماد کو بحال کیا جائے۔ بلوچستان پر حکومت اپنے ایجنڈے کو قوم کے سامنے لے کر آئے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ کی لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی کوششیں قابل تحسین ہیں جن کی بدولت اب تک آٹھ دس افراد بازیاب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے غائب ۲۳۵ افراد کا سراغ لگایا جائے اور بوری بند لاشوں کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ 

سید منو رحسن نے کہا کہ بلوچستان کے حالات اچانک خراب نہیں ہوئے بلکہ امریکہ عرصے سے اس مکروہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور بلوچستان کو تین حصوں، افغانی، پاکستانی اور ایرانی بلوچستان میں تقسیم کر کے قدرتی وسائل سے مالا اس خطے پر قبضے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت حالات پر قابو پانے کے بجائے امریکی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انٹرنیشنل میڈیا اس سازش کو عرصہ سے بے نقاب کر چکا تھا لیکن حکمران سوئے رہے اور بلوچستان کے اندر نفرت کی آگ پھیلتی رہی جس کا آج خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ سید منور حسن نے کہاکہ ٹنڈو محمد خان کے لوگوں سے گلہ ہے کہ وہ مظلوم کے بجائے ظالم کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ ان کا رویہ ظلم کی سرکوبی کے بجائے اس کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے۔ اگر یہ خطرناک رجحان چل نکلا تو ظلم پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا اور کچھ نہیں بچے گا۔
خبر کا کوڈ : 144336
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے