0
Tuesday 10 Apr 2012 22:32

لاہور میں آئی ایس او، مجلس وحدت کا دھرنا، چلاس، کوہستان میں فوجی آپریشن کا مطالبہ

لاہور میں آئی ایس او، مجلس وحدت کا دھرنا، چلاس، کوہستان میں فوجی آپریشن کا مطالبہ
رپورٹ: نذیر علی ناظر
اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور مجلس وحدت مسلمین نے سانحہ چلاس کے خلاف لاہور میں احتجاجی دھرنا دیا اور وزیر اعلٰی گلگت بلتستان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی دھرنا لاہور پریس کلب کے باہر دیا گیا جس کی قیادت علامہ حیدر علی موسوی، علامہ مبارک موسوی، علامہ ابوذر مہدوی، علامہ اقبال کامرانی، اور آئی ایس او لاہور ڈویژن کے صدر ناصر عباس نے کی۔ 

دھرنے کے باعث پریس کلب سے ملحقہ سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام دیکھنے میں آیا۔ کچھ مشتعل نوجوانوں نے میڈیا کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ دھرنے میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ جنہوں نے حکومت اور دہشت گردوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے بینرز، پلے کارڈز اور پارٹی پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔

چار گھنٹے تک جاری رہنے والے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے قائدین نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک اور وزیر اعلٰی گلگت بلتستان مہدی شاہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوہستان اور چلاس میں فوجی آپریشن کر کے دہشت گردوں کے کیمپوں کو ختم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے بچاو کے لئے مظفر آباد استور کا محفوظ راستہ کھولا جائے۔ قائدین نے گلگت میں گرفتار علامہ راحت حسین الحسین، شیخ مرزا علی اور دیگر شیعہ رہنماوں کی رہائی اور کرفیو کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

علامہ حیدر علی موسوی نے کہا کہ وزیر اعلٰی گلگت بلتستان مہدی شاہ خود کو شیعہ کہتا ہے لیکن اس کے وزیر اعلٰی بننے سے وہاں کے عوام زیادہ غیر محفوظ ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت امن و امان قائم رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے شیعہ غیور ہیں اپنا بدلہ لینا جانتے ہیں لیکن ملکی سلامتی کی خاطر پر امن رہیں گے۔ انتہائی اقدام پر مجبور نہ کیا جائے۔ 

علامہ حیدر موسوی نے مطالبہ کیا کہ علما و عمائدین گلگت بلتستان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو تسلیم کئے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو گلگت بلتستان کے عوام کا ممنون ہونا چاہیے کہ قیام پاکستان کے بعد سارے علاقے کا غیر مشروط طور پر پاکستان سے الحاق کیا مگر جو کچھ اس علاقے کے مکینوں کے ساتھ کیا گیا وہ مشرقی پاکستان اور بلوچستان سے کم نہیں ہے۔ اور حکمرانوں نے سانحہ مشرقی پاکستان سے ابھی تک کوئی سبق نہیں سیکھا۔

علامہ اقبال کامرانی نے کہا کہ استعماری قوتیں گلگت بلتستان کی فضا سوگوار بنا کر پاکستان، چین اور ایران کے تعلقات خراب کرانا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کالعدم دہشت گرد سپاہ صحابہ استعماری مہرے کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ جو پاکستان کی ترقی اور بقا میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل کی آڑ میں ملکی سلامتی سے کھیلنے والے گروہ سے خود اہل سنت و الجماعت بھی اظہار بے زاری کر چکے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ ابوذر مہدوی نے کہا کہ سانحہ چلاس کی ذمہ دار حکومت ہے۔ جس نے امریکی ایجنٹ ہونے کا ثبوت پیش کیا اور قاتلوں کو بے نقاب کرنے میں کوئی پیشرفت نہیں کی۔

آئی ایس او لاہور ڈویژن کے صدر ناصر عباس نے کہا کہ ملت جعفریہ نے ہر دور میں ظلم کا مقابلہ کیا ہے۔ کوئی ہمیں شہادت سے ڈرا نہیں سکتا۔ شہادت ہمار ا ورثہ ہے جو ہمار ی ماوں نے ہمیں دودھ میں پلایا ہے۔ قائدین نے میڈیا کے خلاف بھی نعرے بازی کی اور احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
خبر کا کوڈ : 152209
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے